طوبیٰ اک تعارف ۔ سو سُنار کی



سو100 سُنار کی !

آج ہم طوبیٰ ریسرچ لائبریری کی سویں100 برقیائی اشاعت مکمل ہونے پر  کچھ تعارف اور کچھ احوال ِدل کچھ اہداف اور کچھ مقاصد اور اسمائے معاونین ضبط ِتحریر میں لاتے ہیں مگر ذرا انداز منفرد ہوگا ، پہلے ہم "طوبیٰ "(جو کہ قرآن میں ایک ہی بار آیا ہے۔المعجم المفہرس،ص257،دارالاشاعت) پر بات کریں گے ، پھر 100 سو کے عدد سے جو  نیک فال  بنتی ہےاس پر گفتگو ہوگی یعنی 1 تا 100 تک بات جائے گی ۔اور بھی بہت کچھ ہے ان "غیب کے مضامین" میں ۔ یہ اک آیت سے شروع ہوگی اور جہان کو سمٹ لے گی۔ یہ تحریر احقر نے اپنے جیسے مبتدیوں کے لئے مرتب کی ہے ، کیونکہ عربی مقولہ ہے
" یعرف الفضل لاھل الفضل ذو الفضل": اہل فضل کے درجے کو اہل ِ فضل ہی جانتا ہے۔
ذوق نے کیا خوب کہا ہے:؎گہر کو جوہری ،صراف زَر کو دیکھتے ہیں
بشر کو دیکھنے والے بشر کو دیکھتے ہیں
جناب ِ داغ بھی خوب فرما گئے : "گُہر کی آبرو ہے جوہری سے "
بہت سی کتابوں سے بیش بہا موتیوں کو حاصل کر کے یہ نو لکھا ہار گوندھ کر تیار کیا ہے،جو شخص بھی اس مقالہ کو بالاستیعاب دیکھے گا ، وہ یہ کہنے پر مجبور ہو گا  :
سات دریاؤں سے مہیا کیے ہونگے موتی
تب بنا ہوگا اس انداز کا گز بھر سہرا
ابتدائیہ : سنہری کی کرنیں:
"کتب خانے کی دو قسمیں":یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ عہد رسالت سے چوتھی صدی ہجری تک مسلم معاشرے میں دو قسم کے کتب خانوں کی ہر جگہ کثرت رہی ہے، ایک وہ کتب خانے تھے جنھیں عرفِ عام میں زندہ کتب خانہ کہا جاتا تھا۔ یہ سامان ِ کتابت کی قیود سے آزاد تھے۔
            دوسرے وہ کتب خانے تھے جنکا وجود سامان ِ کتابت کا مرہون ِ منت ہے۔ آج اصطلاحِ فن  میں اس کو چند قیود کے ساتھ کتب خانہ کہا جاتا ہے، یہ اسلام کا فیضان ہے، اس  نےصدیوں تک دونوں قسم کے کتب خانوں کا سلسلہ برقرار رکھا۔
وہ زندہ کتب خانے جن سے بلا قید  زمان و مکان ہر جگہ فائدہ اُٹھایا جاتا تھا ، یہ علوم و معارف کے گنجہائے گراںمایہ نازعلماء و محدثین ، فقہاء و مفسرین، ادباء و آئمہ لغت، کے صدور (سینے) تھے جن میں وہ سب کچھ محفوظ تھا جو انہوں نے رسالت مآبﷺ، معاصرینِ صحابہ رضی اللہ سے سنا اور شب و روز غور و فکر کرنے کے بعد خود سمجھا تھا، چنانچہ خلفائے اربعہ و عبادلہء ثلاثہ(عبداللہ ابن مسعود، عبداللہ ابن عباس و عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھم) مجتہدین حفاظ اور مُکثرین صحابہ  رضی اللہ عنھم کی جماعت اس قسم کے کتب خانوں کی نظیر تھے، اس لئے کہ جب ان سے کچھ پوچھا جاتا یہ بلا کم و کاست اسے بیان کرتے تھے۔ان کے بعد انکے نامور شاگردوں کی بھی یہی شان تھی ،،،،،،،،،،،،،،،،،، دوسرے وہ کتب خانے تھے جو حُکم " اقرا و علم باالقلم " کی تحریک کا فیضان تھے، جس نے عربوں کی طبیعت و مزاج کو بدل کر کتاب کا خوگر و شیدا بنایا اور اس حقیقت کو انکے ذہن نشین کرایا کہ علم ایک ثقافتی ورثہ ہے اور یہ بنی نوع انسان کی مشترک میراث ہے۔ معلوم نہیں موت کب انسان کو اپنی آغوش میں لے لے۔ پھر حافظہ گوکتنا ہی قوی ہو اور یاداشت خواہ کتنی ہی زبردست کیوں نہ ہو، عوارض اسے لاحق ہوتے ہیں:- حافظہ بعض اوقات نسیان کا شکار ہو جاتا ہے ، ان وجوہ سے علوم و معارف کو جلد از جلد کتابی صورت میں منتقل کیا جانا چاہیئے، تاکہ زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جا سکے چنانچہ علوم و حُکم کو صدور سے اسفار (کتابوں) میں اور سینوں سے سفینوں میں منتقل کیا گیا (اور کتب خانے معرضِ وجود میں آنے لگے تھے چنانچہ عبد اللہ بن عمرو العاص(7ق ھ،65ھ-612۔684ء) اور ابو ہریرہ (21ق ھ-59ھ، 602۔679ء) اور عبداللہ بن عباس ( 3ق ھ-68ھ، 619-687ء) صحابہ  رضی اللہ عنھم کے کتب خانے اس کی بہترین مثال ہیں۔(اسلامی قلمرو میں اقراء اور علم بالقلم کے ثقافتی جلوے"عہد ِ عباسی ، جلد اول، ص55تا 57، مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہ،مکتبہ الکوثر ، کراچی)
"تیسر ا  دَور : دورِ تمدن ہوتا ہے : یہ وہ دور ہوتا ہے جب کوئی قوم اپنا نیا تمدن پیدا کرتی ہے ،مختلف علوم و فنون میں اس کے کارنامے وجود میں آتے ہیں۔یہ صحیح معنوں میں تمدن آفرینی کارنامہ ہوتا ہے اس دور میں روایاتی علوم منقولات کے علاوہ قوموں میں تجرباتی اور تطبیقی علوم پر بھی بکثرت کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ اُ مت اسلامیہ کا یہ دور خلافت عباسیہ سے شروع ہوتا ہے" مسلمانوں میں نسلی حد بندی ایسی سخت نہ اس زمانے میں تھی اور نا آج ہے، جو بڑے بڑے پبلک کتب خانوں کے قیام میں حائل ہوتی۔ یہودیوں، پارسیوں، اور برہمنوں  کے تصور ِ نسلیت سے امت اسلامیہ ہمیشہ متنفر رہی ہے ، اور آج بھی متنفر ہے۔ نہ برہمنوں کی طرح " وید " پڑھنے کا حق اس کے نزدیک برہمن تک ہے ، اور نہ یہودیوں کی طرح بنی اسرائیل کے سوا کسی اور کو اصلی کتاب سے روشناس کرانا مسلمان کے نزدیک جرم ہے۔ اس لئے مسلمانوں نے اپنے دور تمدن آفرینی میں بڑی کثرت سے بڑے بڑے پبلک کتب خانے قائم کیئے، جن سے استفادہ کا حق مسلم اور غیر مسلم سبھی کو یکساں حاصل ہوتا ہے، اور اس عمل کی وجہ سے انتظامِ کتب خانہ اور کتاب داری کا ایک فن پیدا ہوا، جس میں کتابوں کے تحفظ، نقل ، فن وار تقسیم اور فہرست سازی میں ہمیشہ ترقی ہوتی رہی۔(مولانا عبدالقدوس ہاشمی ندوی، ص38، ایضاً)
٭پہلا باب٭
طوبیٰ ریسرچ لائبریری اسی ثقافت کا ایک جلوہ ہے، وجودی حیثیت میں "دو2 ہزار کتابیں " اور انٹرنیٹ کی دنیا میں 100 اشاعتیں ہماری  اسی علمی ریت روایت کا سرمایہ ہے۔
اب جو دنیا کمپیوٹر ، موبائل ،لیپ ٹاپ، ٹیبلڈ اور دیگر برقی آلات کے ذریعہ سمٹ کر اک چھوٹا سا گاؤں بن کر رہ گئی   ہےتو ہمیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آئیندہ آنے والی نسلوں کے لیئے اس سرمایہ  کےباآسانی حصول و حفاظت کو یقینی اور لازمی بنانا ہمارا دینی اور قومی فریضہ ہے۔
آئیے تعارف کے لیئے کچھ علمی جواہر پارے نذر ِقارئین کرتے ہیں۔ البتہ اک معذرت پیشگی کیئے دیتے ہیں کہ پورامضمون کہیں بھی ترتیب زمانی کے موافق نہیں ہے بس جو ترتیب بندہ کو مناسب معلوم ہوئی اُسی کےتحت مرتب کر دی۔
طوبیٰ کیا ہے؟
٭ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ۔سورہ رعد آیت 29
قرآن عظیم میں لفظ " طُوبَىٰ " اسی سورت میں ایک ہی بار آیا اور اب یہی انمول موضوع ِ سخن ہے
٭اس شبستان کی سیر کو چلیئے جہاں ماہرین لغت لفظ لفظ کی نقاب کشائی کر رہے ہیں۔
(1)           صاحب ِجلالین رقمطراز ہیں کہ "یہ مصدر ہے طیب سے ماخوذ ہے یا جنت کے درخت کا نام ہے جس کے سایہ میں سوار100 سال بھی اگر چلے تو اسے طے نہ کر سکے"۔ (مترجم اردو،جلد اول، ص549،تاج کمپنی پاکستان)
(2)         "ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے آیت کریمہ طوبیٰ لھم  کے بارے میں عبداللہ ابن عباس سے روایت کیا ہے : فرمایا کہ حبشی زبان میں طوبی "جنت" کا نام ہے۔ اور ابو الشیخ نے بھی سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ طوبیٰ حبشی زبان میں "جنت " کا نام ہے۔(المتوکلی از امام جلال الدین سیوطی مترجم : قرآن کریم میں معرب الفاظ از سید علیم اشرف جائسی، ص100/101، ناشر مکتبہ برکات المدینہ کراچی)
(3)           اگر گرائمر کی تبدیلیاں اور اثرات حذف کر دیئے جائیں تو طوبی کے تحت مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب نے جو معانی تحریر فرمائے ہیں انکی فہرست ملاحظہ کیجیئے :"خوبی ، خوشحالی،جنت کے ایک درخت کا نام،فرحت ، آنکھوں کی ٹھنڈک ،جنت کا عَلَم،عمدہ ، خوب، پاکیزہ، بہت  پاکیزہ ،"(لغات القرآن،ص102/103، جلد چہارم، دارالاشاعت کراچی)
(4)           قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی رقمطراز ہیں :"جنت کی لذت و خوشی،جنت کا ایک درخت۔(قاموس القرآن،ص334،دارالاشاعت،کراچی)
(5)           مفردات القرآن کے ص648 پر رقم ہے کہ "طوبیٰ لھم، ان کے لیئے خوشحالی ہے : میں
بعض نے کہا ہے اس  سےہر قسم کی خوشگواریاں مراد ہیں  جو جنت میں حاصل ہونگی ، مثلاً : بقا ، عزت ، غذا
، وغیرہ جنکے زوال کا اندیشہ نہیں ہو گا۔(اردو مترجم ، ناشر : شیخ الشمس ، کشمیر بلاک اقبال ٹاؤن لاہور)
(6)         طوبالک : تمھیں مبارک ہو یا خوشی ہو (المعجم الاعظم، محمد حسین الاعظمی ، ص 757)
(7)         المنجد میں درج ہے کہ " الطوبی: رشک ، سعادت ، خیر ، بہتری "(جامعین و محقیقین علمائے دیوبند: ص619 ، دارالاشاعت کراچی)
(8)         قاموس الفاظ القرآن الکریم  میں اس مقام پر یہ ترجمہ کیا گیا ہے"خوشحالی"(ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی عربی، اردو مترجم : پروفیسر عبدالرزاق،ص239، دارالاشاعت کراچی)
اردو والوں کی بساط کہاں تک ہےاب اس کی بھی خبر لی جائے  :
(1)           فرہنگ ِ آصفیہ: "نہایت خوشبودار، بہشت کے درخت کا نام  جسکی شاخیں ہر ایک اہلِ جنت کے مکان پر چھائی ہوئی ہونگی۔ اسکی خوشبو سے تمام مکانات معطر ہونگے اور اس میں سے طرح بطرح کے میوے اُترینگے۔
٭کھڑے ہوں زیرِ طوبیٰ وہ نہ دم لینے کو دم بھی
جو حسرت مند تیرے سایہء دامن کے بیٹھے ہیں (داغ)"(ص260،جلد2،مشتاق بک کارنر)
(2)         قاموس مترادفات : نخل ِ جنت ، شجرہِ بہشت، خوشبودار ، مہکیلا ، معطر، اچھا ، خوب، عمدہ، نفیس، پاک ، پاکیزہ، پوتر ، طاہر ، خوشی ، مسرت ،بہجت، آنندہ، نشاطہ، طرب ، عیش ، سرور ، خوشخبری، نوید ، مژدہ، بشارت (وارث سرہندی،ص793،اردو سائنس بورڈ لاہور)
(3)         فرہنگ ِ تلفظ : نہایت عمدہ، بہت خوب ، نعمتیں ، اچھی خبریں  ، جنت کے ایک درخت کا نام ،
طوبیٰ لکم : خوش رہو ، واہ  واہ ، کلمہء تحسین،(شان الحق حقی، 692/693،مقتدرہ قومی زبان
، پاکستان)
(4)           فیروز اللغات :صاحب بیان کرتے ہیں کہ اردو میں لفظ طوبیٰ قامت بھی استعمال کرتے ہیں(881)
(5)           مقتدرہ قومی زبان کی "درسی  لغات "میں درج کے کہ معشوق و محبوب کے قد سےتشبیہ دیتے ہیں طوبیٰ قامت کہہ کر۔ اردو لغات کی روشنی میں چند اشعار نذر قارئین
٭شوخ عاشق قد  سرو یا طوبیٰ کہے
کچھ ٹہرتی ہی نہیں تو کہیئے تو کیا کہیئے (میرتقی میر)
ذوق نے کبھی جلے دل سےکہا ہوگا:
٭ تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ زیرِ طوبیٰ
خلد میں بھی تیرے کوچے کی ہوا  یاد رہے
غالب جب آموں کے نشے سے چُور ہوگئے تو فرمایا:
٭ رہرو  راہ ِ خلد کا توشہ
طوبیٰ  و سدرہ کا جگر گوشہ
صاحب ِ شاخ و برگ و بار ہے آم
ناز پروردہء بہار ہے آم
(6)  طوبی بطور نام کے بھی کثیر استعمال ہے لڑکیوں کا نام رکھا جاتا ۔ بچیوں کے نام کی فہرستمیں مفتی محمد رضوان
صاحب رقمطراز ہیں : "طوبی" :رشک، سعادت،خیر،بہتر(نومولودکےاحکاماوراسلامینام،ص474،ادارہ
غفران،راولپنڈی)
اب ذرا فرنگی زبان کا بھی چسکا لے لیں اپنے آکسفرڈ والوں کا!
(1)         OXFORD URDU TO ENGLISH
DICTIONARY
TUBA :happiness, joy , name of tree in paradise , excellent, good , delightful, goodnews (abduraof pareekh,OXFORD,PAGE 775 , PAKISTAN)
(2)           ARABIC ENGLISH QURAN DICTIONARY
TUBA :“ joy “ ( moulana abdullah abbas nadvi, p:376,IQRA International Educational Foundation)

٭آئیے اب مترجمین ِ قرآن کی جانب بڑھتے ہیں ، یہاں  بھی اک گذارش نذر ِ قارئین ہے  کہ کچھ تراجم وہ ہیں جن پر بندہ کے "عقیدہ " کا دارومدار ہے   اور کچھ وہ ہیں جو میری" عقیدت" کے محورمیں ہیں!،انکی تکرار سے بوجھل نہ ہوں، دیگر تراجم اپنے اپنے حلقے کے نمائندہ تراجم ہیں ، اور مزید تراجم اپنی ندرت اور انفرادیت کی بناء پر اس فہرست میں شامل ہیں ، مگر یہ نہ خیال کیا جائے کہ اردو ادب کے تراجم و تفسیری ادب کے سرمایہ کا پورا احاطہ اس معمولی رقعہ میں ہو گیا ہے۔ نہ ہی اس فہرست میں دیگر تراجم کو شامل کرنا پورے ترجمے یا تفسیر کی ثقاہت و صحت کی سند ہے!
بارگاہ ِمترجمین ِ قرآن 
لفظ طوبیٰ کا ترجمہ
(1)         "حالت ِ خوش باشد ایشاں را" : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ(ص305تاج کمپنی)
(2)         " خوبی " : حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ(عظیم الشان قرآن دو تراجم والا ادارہ علوم شرعیہ رحیم منزل جناح چوک کراچی ، مرتبہ : مولانا قاضی عبدالرحمٰن)
(3)         "خوشحالی": حضرت  شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ(ص304تاج کمپنی)
(4)         " طوبیٰ": سید امیر علی ،(تفسیر مواہب الرحمٰن،ص265 لاہور جلد 4 قرآن کمپنی)
(5)         "خوشخبری": مولانا عبدالحق حقانی(تفسیر حقانی ،جلد3، ص26،میر محمد کتب خانہ،کراچی)
(6)         "خوشحالی": مولانا اشرف علی تھانویؒ(بیان القرآن،ص112،ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی)
(7)         "خوشحالی/خوبی": شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒدیوبندی (ص335،مجمع الملک فہد المصحف الشریف بالمدینۃ المنورہ ،1409ھ)
(8)         "خوشحالی " مفتی عزیز الرحمٰن عثمانی(تفسیرروح القرآن ترجمہ جلالین،جلد3،ص373،فیصل پیبلیکیشنز دیوبند،انڈیا)
(9)         "خوشخبری": مولانا احمد علی لاہوریؒ (ص402،اعتقاد  پبلیشنگ دہلی انڈیا)
(10)   "خوشحالی": مولانا عبدالماجد دریابادی(تفسیر ماجدی ،مجلس نشریات قرآن،جلد 2،ص681،کراچی)
(11)  "خوشحالی": مولانا احمد سعید دہلوی(کشف الرحمان، جلد2،ص1448،مکتبہ رشیدیہ،کراچی)
(12)   " طوبیٰ": مولانا فتح محمد جالندھریؒ(ص344،تاج کمپنی)
(13)  "خوشحالی": مفتی محمد تقی عثمانی صاحب(آسان ترجمہ قرآن،جلد2،ص766، مکتبہ معارف
القرآن،کراچی)
(14)   " طوبیٰ": مولانا سرفراز خان صفدرؒ (فوائد ِ صفدریہ ، ص305،بنوں)
(15)  " شادمانی ": ڈاکٹر عبدالرؤف(آسان ترجمہ ،ص227،فیروز سنز پاکستان)
(16)   " طوبیٰ": مولانا یوسف متالا(لفظی ترجمہ ،اضواء البیان فی ترجمۃالقرآن،ص352، Azhar Publication London)
(17)   "انکے نصیب کے کیا کہنے" سید سلمان ندوی (بامحاورہ ترجمانی،آخری وحی، انڈیا)
٭یہاں ہم دو منتخب بہترین  بامحاورہ تراجم یا ترجمانئ طوبیٰ اخیر کے لیئے چھوڑتے ہوئے دوسرے سلسلہ جات کا آغاز کرتے ہیں۔
(18)  ""خوشحالی": سرسید احمد خان: (دوست ایسوسی ایٹ، ص1034،لاہور)
یہاں اک لطیفہ بھی ہدئیہ ناظرین کرتے جائیں شاید پھر موقع ملے نہ ملے۔
" سرسید احمد خان ،حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کےتذکرہ میں لکھتے ہیں : یہ آفت جو اس جز و زمان میں تمام دیارِ ہندوستان خصوصاً شہجہان آباد، حرسہا اللہ عن الشر و الفساد ، میں مثل ِ ہوائے وبائی کے عام ہوگئی ہے کہ ہر عامی اپنے تئیں عالم و ہر جاہل  اپنےآپ کو فاضل سمجھتا ہے اور فقط اسی پر کہ چند رسالے مسائل ِ دینی اور ترجمہء قرآن مجید کو وہ بھی زبان اردو میں کسی نے استاد سے اور کسی نے اپنے زور ِ طبیعت سے پڑھ لیا ہے، اپنے تئیں فقیہ و مفسر سمجھ کر مسائل و وعظ گوئی میں جرات کر بیٹھا ہے ، آپ کے (حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ) ایام ِ حیات تک اس کا اثر نہ تھا، بلکہ متحبر اور فضلائے مفضی المرام باوجود نظر ِ غائر اور احاطہ جزیات مسائل کے جب تک اپنا سمجھا ہوا حضرت کی
خدمت میں عرض نہ کر لیتے تھے اس کے اظہار میں لب کو وا نہ کرتے تھے اور اس کے بیان میں زبان کو جنبش نہ دیتے تھے"( سر سید احمد خان ،آثار الصنادید، ص 518،  اردو اکادمی دہلی)
لطیفہ یہ ہے کہ آنریبل سر سید احمد خان خود اس وبائی بیماری(خود رائیت) میں ایسے مبتلا ہوئے کہ پورے برصغیر میں اس نیچری مذہب کے بانی ومنبع بن کر متعدی وباء بن گئے جسکی مسموم ہوا آج بھی بہت سوں کو اپنی لپیٹ میں لیئے ہوئے ہے، حالانکہ اس وبائ بیماری کی نشاندہی بھی سر نے خود ہی فرمائی تھی۔
خود حالی جو سرسید پر دل  وجان سے فدا تھے اگرچہ ترجمہ تفسیر کی حمایت کی مگر یہ الفاظ بھی ان کے قلم سے نکل گئے " یہاں صرف اس قدر لکھا جاتا ہے اگرچہ سرسید نے اس تفسیر میں جا بجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور بعض بعض مقامات پر اُن سے نہایت رکیک لغزشیں ہوئی ہیں،،،،،،،،،،،،، "(الطاف حسین حالی، مقدمہ تفسیر سرسید،ص10،خدا بخش اورنٹیل پبلک لائبریری پٹنہ ، انڈیا)
(19)   "خوشحالی":ڈپٹی نذیر احمد(ترجمہ قرآن ،ص305،تاج کمپنی)
(20)   "خوش حالیاں":مولانا ابوالکلام آزاد(ترجمان القرآن تلخیص،ص330،کتاب سرائے لاہور)
(21)   "خوش نصیب ":مولانا سید ابوعلیٰ مودودی(تفہیم القرآن مختصر،ادارہ ترجمان القرآن، ص651)
(22)   "خوشخبری":مولانا امین احسن اصلاحی(تدبر القرآن، جلد4،ص288،فاران فاؤنڈیشن)
(23)   " خوش نصیبی "سید شبیر احمد(قرآن آسان تحریک،ص448 لاہور)
(24)   "خوشحالی":مولانافاروق خان صاحب(ترجمہء قرآن،ص479،ناشر وحید حفیظ انڈسٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ)٭ مولانا فاروق خان صاحب جماعت ِ اسلامی ہند کے سینئر رکن تھے محترم کے ترجمہ میں حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ کا خاص اثر اور رنگ جھلکتا ہے "شاہ عبدالقادر کی قرآن فہمی" بھی ممدوح ہی کی تصنیف ہے۔
(25)   "خوشی مبارکباد": علامہ وحید الزمان(ص304، ابوالکلام آزاد اسلامک اویکنگ سینٹر نئی دہلی)
(26)   "خوشحالی":مولانا محمد جونا گڑھی(ص687 سعودی ایڈیشن)
(27)   "خوشحالی":مولانا ثناء اللہ امرتسری(ترجمہ ثنائی،ص302،فاروقی کتب خانہ ملتان)
(28)   "خوشحالی":مولانا حنیف ندوی(سراج البیان،ص603،ملک سراج دین اینڈ سنز لاہور)
(29)   "راحت و فرحت":حافظ یوسف صلاح الدین/مولانا عبدالجبار(معانی القرآن الکریم، ، دارالسلام ،لاہور)
(30)   "خوشی": مولانا احمد رضا خان صاحب(کنزالایمان،ص455،پاک کمپنی لاہور)
(31)  "مژدہ": پیر کرم الہی شاہ صاحب(تفسیر در منثور مترجم اردو، جلد4،ص161 ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
(32)   "طوبیٰ/ خوشحالی": علامہ غلام رسول سعیدی(تبیان القرآن،جلد6،ص93،فرید بک اسٹال
(33)  "عیش و مسرت" علامہ طاہر القادری(عرفان القرآن، ص383)
(34)   "طوبی":سید مقبول احمد دہلوی(ص302،افتخار بک ڈپو،لاہور)
(35)  "بہشت/بہترین جگہ"۔سید ذیشان حیدر جواد(مصباح القرآن ٹرسٹ،ص539)
(36)   "خوشحال اےاونہاں دا"۔ مولانا ہدایت  اللہ صاحب (پنجابی ترجمہ قرآن ،ص:254،ناشران: خاندان  چوہان راجپوت دہلی،ماہ رجب 1389ھ)٭گو کہ میری مادری  زبان اردو ہے البتہ ہجرت کے بعد دادا جان نے گجرات کے اک گاؤں میں سکونت اختیار کر لی تھی سو پھر پنجابی میری ددھیالی اور اردو میری ننھیالی زبان ہوگئی سو اس لحاظ سے دھرتی کا یہ قرض ہے کہ اک پنجابی ترجمہ درج بالا بھی رقم کر دوں ۔
٭یہاں ہم مزید تین ایسے تراجم پیش کرینگے جو کہ اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوئے ہیں، ان پر احقر مختصر سی دل کی بات بھی رقم کرتا ہے، قارئین سےالتماس ہے ذرا غور فرمائیں۔
(37)   "خوشحالی" : مترجمین مولانا عبدالحئی فاروقی، حافظ مرغوب احمد، مولانا عبدالواحد (درس ِ قرآن بورڈ ادارہ اصلاح و تبلیغ آسڑیلین بلڈنگ لاہور)
(38)  "خوشی" ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی(فیوض القرآن،جلد اول،ص567،فیروز سنز پاکستان)
36نمبر کے جامعین  آپ جان چکے ، 37٭ نمبر پر اب ذرا غور کیجیئے کہ اس پر تقاریظ کن کن حضرات نے رقم فرمائی ہیں 1۔مولانا عبدالستار بیت السلام مسجد ڈیفنس،2۔مولانا شمس الحق افغانی،3۔مولانا پیر کرم شاہ الازہری،4۔مولانا سید احمد سعید کاظمی،5۔حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب،6۔مولانا یوسف بنوری صاحب،7۔مولانا محمد سید ہاشم فاضل شمسی صاحب،8۔ڈاکٹر پروفیسر غلام مصطفےٰ پی ایچ ڈی/ڈی لٹ،9سید حمایت علی شاہ صاحب۔ (اک لمحہ ٹہرئیے ذرا 38 نمبر پر بھی نظر ڈال لیجیے پھر میری بات سینئے گا)
(39)   "خوشحالی" مجلس فکرونظرص327مطبوعہ پیکو لیمٹڈ لاہور(جامعین : 1۔مولانا محمد حنیف جامع مبارک لاہور،2۔مولانا شہاب الدین فاضل دیوبند،3۔ابوالعرفان مولانا حکیم عبدالرشید نقشبندی مجددی،4۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی بریلوی)اس  ترجمہ صحت کی تصدیق کندگان: 1۔علامہ سید سیلمان ندوی،2۔مولانا قطب الدین عبدالوالی فرنگی محلہ لکھنو،3۔مولانا حیدر حسن صاحب پرنسپل ندوہ،4۔مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی لکھنو،5۔ عبدالرحمٰن کاشغری جمیعت علمائے ہند،6۔مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی،7۔مولانا علی محمد جان صاحب لاہوری،8۔مولانا محمد خورشید علی صاحب شرقیہ دارالعلوم لاہور، 8۔مولانا عبدالعزیز صاحب خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ،9۔ سید پیر ظہور شاہ صاحب قادری،10۔مولانا نجم الدین صاحب ہیڈ مولوی اورینٹل کالج لاہور، 11۔مولانا محمد شبلی صاحب ندوہ،12۔خان بہادر شمس العلماء، ۔13ڈاکٹر محمد ہدایت حسین صاحب کلکتہ پرنسپل مدرسہ عالیہ ، یہ حضرات ہیں)
ملاحظہ کیجیئے ہم سب اپنے اپنے دائروں میں محدود ہو کر قرآن کو بھی محدود کئے ہوئے ہیں،نمبر 36/37 کے جامعین  کی فہرست دیکھ کر یہ خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دیوبندی،بریلوی اہلحدیث اور جماعت اسلامی ایک ترجمہ پر متفق ہو کر اتحاد امت کی بناء ڈال سکتے ہیں مگر افسوس ایسے تراجم معرض وجود میں آنے کے بعد بھی دینی زعماء نے اس جانب توجہ نہیں کی۔ اب آگئی بات 38 نمبر ترجمہ کی اس بارے میں احقر تھوڑا متذبذب ہے کہ سید سیلمان ندوی ،  یا علامہ شبلی نعمانی ؒ جیسی شخصیات کے احوال جہاں تک میری نظر سے گزرے ہیں ان میں ایسی کسی تقریظ یا تصحیح ِ ترجمہ  کا ذکر نہیں، اگر کسی کے پاس اس ترجمہ کی کوئی معقول سند ہے تو براہ کرم اسے منظر عام پر لائے اس  سےبڑی کیا بات ہو سکتی ہے کہ ایسے ایسے حبالِ علم اور صاحبان ِ فضل ایک ترجمہ پر متفق ہیں ، اس اُمت کے لیئے اس  سےبڑی نعمت ِغیر مترقبہ اور کیا ہو سکتی ہے ! پھر کیوں نہ اسے فروغ دے کر اتحاد اُمت کی دعوت عام کی جائے۔
وہ دو خاص ترجمے اب بھی باقی ہیں مگر اس  سےپہلے ذرا انگلستان گھوم آئیں کچھ انکی بھی سن لیں
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرم ِ پاک بھی ، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
ENGLISH TRANSLATIONS OF “TUBA”
(40)   “ JOY”( PICKTHAL,TAJ COMPANY )
(41)   HAPPINESS”(MUHAMMAD ASAD,P:460)
(42)   “BLISS” ( MOULANA ABDUL MAJID DARAYBADI,P378)
(43)   TUBA(DR. MOHSIN KHAN/TAQI U DIN HILALI,P326)
(44)   BLISS( MUFTI TAQI USMANI ,P396)
(45)   BLESSED WITH HAPPINESS(M. HAMEED ALLANI, P505)
(46)   “BLESSED” (DR. MUHAMMAD DEEN/SHAHEEN, P402, TAJ COMPANY)
(47)   “GLADNESS” (THE NOBLE QURAN, P254, T.B IRVING,SUHAIL ACADEEMY)
یہاں داد دینی پڑتی ہے اوکسفرڈ والوں کی اردو سے انگلش ڈکشنری کے جامعین و مرتبین کو جنھوںنے نہایت باریک بینی سے الفاظ کے مطالب ، معانی اور مفردات کا احاطہ کیا ہے مذکور ِ سابق اوکسفرڈ اردو سے انگلش  ڈکشنری کا حوالہ  انگریزی لغات کے حصہ میں بطور قند ِ مکر ر پھر پڑھیئے گا اور سر دھنئیے گا کیا خوب COMPREHENSIVE لکھا ہے!
٭اب آتے ہیں دو2 بامحاروہ شاہکار ترجمانی ء  مطالب قرآن کی طرف جنکا وعدہ اردو
تراجم  کی فہرست شروع کرنے سے پہلے کیا تھاجن کے لئے یہ ساری محفل بپا کی گئ ہے اب ذرا آیت پھرسے ذہن نشین ہو جائے ۔
٭ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ۔سورہ رعد آیت 29
یاد رہے کہ یہ تقریب 100 سوکے عدد کی تکمیل پر پوری ہو رہی ہے ،سو 100تراجم تو ہم دے نہیں پائے مگر اک ترجمہ ہے جو " سو پر سو " ہے، اسکا اعزاز یہ کہپوری آیت کی ترجمانی نقل ہو گی۔
سوپر سو  ترجمانی
(48)   "جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرنے لگے اُن کو بہت بہت خوشی ہوگی اور اُن کو بہت اچھا ٹھکانہ ہے"۔(تشریح القرآن ، مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب ؒ، ص354، فرید بک ڈپو دہلی ، انڈیا)
مگر کیا کیجئے بات بنتی نہیں "بادہ و ساغر کہے بغیر "آخری ترجمہ یا بامحاورہ ترجمانی " سو باتوں کی ایک بات " ہے۔
" سو باتوں کی ایک بات "
(49)   "جنھوں نے مانا اور نیک کام کیئے ان کےمزے ہی مزے ہیں اور بہتر انجام "۔  (آسان ترجمہ قرآن،مولانا عبدالحئی بلال حسنی ندوی، ص254، سید احمد شہید اکیڈمی،  دار عرفات تکیہ کلاں رائے بریلی )۔
٭اب چلتے ہیں دربارِ مفسرین  میں نَذر گذار آتے ہیں پورے شاہی آداب بجا لاتے ہو ئے مفسرین کی نکتہ آفرینیاں بھی سپرد ِ قرطاس کی جاتی ہیں۔
(1)           "طوبی : کا معانی فرحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔طبری"(تفسیر ابن عباس ، صحیفۃ علی بن ابی طلحۃ عن ابن عباس، مترجم: مولانا امداد اللہ انور، ص243، دارالمعارف ملتان)
(2)           " جو لوگ رسول اللہ ﷺ اور قرآن پر ایمان لائے اور احکام خداوندی کو بجا لائے ایسے حضرات قابل ِ رشک ہیں اور کہا گیا ہے کہ طوبیٰ نام کا جنت میں اک درخت ہے اس کا تنا سونے کا ہے اور اس کے پتے ریشمین جوڑے ہیں اور اس پر ہر رنگ کے پھل ہیں اس کی شاخیں پوری جنت میں پھیلی ہوئی ہیں اس کے نیچے مشک ، زعفران اورعنبر کے ٹیلے ہیں اور ایسے حضرات ہی جنت میں جائیں گے"۔ (تفسیر ابن عباس، مولف: ابو طاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی صاحب القاموس817ھ، مترجم اردو مولانا پروفیسر محمد سعید احمد عاطف، جلد2 ، ص113،مکی دارالکتب، لاہور )
(3)              " ابن عباس فرماتے ہیں جنت جب تیار ہو چکی ، اس وقت جناب باری تعالیٰ نے یہی فرمایا تھا ، کہتے ہیں کہ  جنت میں ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے کہ ساری جنت میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں ، ہر گھر میں اس کی شاخ موجود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے ہاتھ سے بویا ہے لُو لُو کے دانہ سے پیدا کیا ہے۔ اور بحکم ِ خدا یہ بڑھا اور پھیلا ، اسی کی جڑوں سے جنتی شہد اور شراب اور پانی اور دودھ کی نہریں جاری ہوتی ہیں ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے طوبیٰ نامی جنت کا ایک درخت ہے سو سال کے راستہ کا ،اسی کے خوشوں سے جنتیوں کے لباس نکلتے ہیں (مطلب یہ ہے کہ وہ اتنا لمبا ہوگا کہ اس کے سایہ میں سو سال مسلسل آدمی چلتا رہے، اسپر حیرت کیوں ؟ باغات میلوں کے فاصلہ میں انسان ہی لگاتے ہیں ، اگر خدا تعالیٰ ایک ہی درخت میلوں کے فاصلے پر پھیلا ہوا تیار کر دیں تو بخدا یہ عین ممکن ہے: مولانا انظر شاہ کشمیری حاشیہ نگار تفسیر ابن کثیر اردو)مسند احمد میں ہے: کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہﷺ جس نے آپکو دیکھ لیا اور آپﷺ پر ایمان لایا ،  اسے مبارک ہو آپنے فرمایا ہاں اسے بھی مبارک ہو  اور اُ سے خوب مبارک ہو جس نے مجھے نہ دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔ ،،،،، آپ فرماتے ہیں ہر جنتی کو طوبیٰ کے پاس لے جائیں گے اور اسے اختیار دیا جائے گا کہ جس شاخ کو چاہے پسند کرے،سفید ،سرخ،زرد،سیاہ، جو نہایت خوبصورت، نرم اور اچھی ہونگی۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں: طوبیٰ کو حکم ہوگا کی میرے بندوں کے لیے بہترین چیزیں ٹپکا ، تو اس میں سے گھوڑے اور اُونٹ برسنے لگیں گے، سجے سجائے اور زین لگام وغیرہ کسے کسائے اور عمدہ بہترین لباس وغیرہ۔ابن جریرؒ نے اس جگہ ایک عجیب و غریب اثر ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہبؒ کہتےہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے  جسکا نام طوبیٰ ہے، جسکے سایہ کے نیچے سوار سو100 سال تک چلتا رہے گا، لیکن ختم نہ ہوگا، اسکی تروتازگی کھلے ہوئے چمن کی طرح ہے اس کے پتے بہترین اور عمدہ ہیں، اسکے خوشے عنبریں ہیں، اسکے کنکر یاقوت ہیں، اسکی مٹی کافور ہے، اسکا گارا مشک ہے ، اسکی جڑ سے شراب کی ،دودھ کی ، اور شہد کی نہریں بہتی ہیں اس کے نیچے جنتیوں کی مجلسیں ہونگی، یہ بیٹھے ہوئے ہونگے، جوان کے پاس فرشتے اُونٹنیاں لے کر آئیں گے، جنکی زنجیریں سونے کی ہونگی، جنکے چہرے چراغ جیسے چمکتے ہونگے، بال ریشم جیسے نرم ہونگے، جن پر یاقوت جیسے پالان ہونگے، ان پر سونا جڑا ہوگا، جن پر ریشمی جھولیں ہونگی، وہ اُونٹنیاں ان کے سامنے پیش کریں گے اور کہیں گے  کہ یہ سواریاں تمھیں بھجوائیں گئی ہیں، اور دربار ِ خدا میں تم کو یاد کیا گیا ہے ۔(پھر آگے جنتی محلات کے عجائب،یاقوتی منبر ، تروتازہ سبزہ و گل، حوریں اور رضائے خداوندی کا مژدہ، اور جنت کا سب سے بڑا انعام دیدارِ رب العزت ہوگا، طویل روایت ہےشوقین حضرات ص44/45/46پر ملاحظہ کر سکتے ہیں حاشیہ نگار مولانا انظر شاہ کشمیری رقم کرتے ہیں :تاریخ کو پڑھ کر دیکھو ، بعض بادشاہوں نے اپنے  محلات میں وہ سامان آرائش و زیبائش، عیش و عشرت کے بہم پہنچائے کہ دنیا کی کوئی ایسی چیز نہ تھی جسکا تعلق راحت رسانی سے ہو اور وہ ان عشرت کدوں میں موجود نہ ہو،پس اگر احکم الحاکمین جسکی قدرت کی وسعت کا ہم اور آپ اندازہ ہی نہیں کر سکتے، فردوسِ بریں میں اپنے طلبگاروں کے لیے یہ سب کچھ اہتمام کرے تو مضائقہ کیا ہے اور اس میں استبعاد کیوں ہے؟)۔خالد بن صعدان کہتے ہیں: جنت کے ایک درخت کا نام طوبیٰ ہے، اسکے تھن ہیں جن سے جنتیوں کے بچے دودھ پیتے ہیں،کچے گرے ہوئے بچے جنت کی نہروں میں ہیں، قیامت کے قائم ہونے تک پھر چالیس40 سال کے بن کر اپنے ماں باپ کے ساتھ جنت میں رہیں گے۔(اختصاراً ازتفسیر ابن کثیر اردو مترجم ، جلد 3، ص44/45۔ 46،مکتبہ فیض القرآن دیوبند یوپی،انڈیا)
(4)           علامہ سید امیر علی نے بھی مذکورہ حضرت وہبؒ کے عجیب و غریب اثر کی تائید میں عقلی دلائل پیش کیئے ہیں جیسا کہ  مولانا انظر شاہ کشمیری نے ابن کثیر کے حاشیہ میں  رقم کیئے ہیں ، علامہ سیدامیرعلی ؒ نے بھی کئی روایات اپنی تفسیر میں نقل کی ہیں جو ہم موقع بموقع دیگر تفاسیر سے نقل کریں گے(تفسیر مواہب الرحمن،جلد4،ص270-275،قرآن کمپنی،لاہور)
(5)           تفسیر  در منثور از علامہ سیوطی  : نے نہایت تفصیل سے اس مقام پر روایات و آثار رقم کئے ہیں ، ہم کچھ اختصاراً اور کچھ مفصلاً نقل کریں گے ۔کچھ روایات و آثار کا خلاصہ یوں ہے: طوبیٰ کی تفسیر : کتنا اچھا ہے،ان کے لیئے رشک ہوگا، ان کی بھلائی ہے،تجھے خیر محبوب ہو، خیر اور کرامت ملے گی، جنت، جنت کا درخت طوبیٰ جو اللہ نے ہاتھ سےلگایا اس میں اپنی روح پھونکی۔بحوالہ ابن جریر(ترجمہ پیر کرم الہی شا صاحب ،جلد 4، ص163، ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
٭ تفسیر درمنثور کی کئی اک روایات میں سے ایک روایت منتخب کی ہے کہ اسکے سلسلہء سند پر ہم دل وجان سے قربان ہیں اور یہ محبت ہمیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملی جو کہ ہمارے ایمان کا سرمایہء افتخار ہے۔
"ابن ابی حاتم نے ایک دوسرے طریق سے حضرت وہب بن منبہؒ سے روایت کیا جسکا سلسلہء سند یہ ہے  عن محمد بن علی بن الحسین بن فاطمہ، رسول اللہﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے جسے طوبیٰ کہا جاتا ہے، اگر تیز رفتار سوار اس کے سائے میں چلے تو اس ختم ہونے سے پہلے سال چلے گا، اسکے پتے سبز چادریں ہیں، اس کی کلیاں زرد کپڑے ہیں، اسکی لکڑی سندس و استبرق ہیں ، اسکا پھل سبز لباس ہے اسکی گوند زنجبیل اور شہد ہے، اسکی کنکریاں سرخ یاقوت اور سبز زمرد ہیں اسکی مٹی کستوری ،عنبر اور سبز کافور ہے، اسکا گھاس عمدہ زعفران ہے، اسکی جڑ سے نہریں نکلتی ہیں ان نہروں میں سلسبیل اور معین فی الرحیق ہیں، اسکا سایہ اہل جنت کی مجلس گاہ ہے،،،،،،،،،،،، الخ"
(ہمیں نہیں معلوم کہ اسکی اسنادی حیثیت کیا ہے مگر کیا کیجیے وہ محبت ہمیں اسکے نقل سے روک نہ پائی جو اسکےسلسلہء سند سےہے)یہ روایت تقریباً 3 بڑے تفسیری صفحات پر مشتمل ہے(ترجمہ پیر کرم الہی شاہ صاحب ،جلد 4، ص167تا169، ضیاء القرآن پبلیکیشنز) اس روایت پر اک شعر بر محل یاد آیا
٭دوست داروں کا تیرے گلشن جنت مقام
تاابدسایہء طوبیٰ میں کریں گے آرام
(6)           احکام القرآن میں امام قرطبی فرماتے ہیں :"آپ ﷺ سے ہی مروی ہے یہ ایک درخت ہے جسکی اصل میرے گھر میں ہے اور تم میں سے ہر ایک کے گھر میں اسکی ٹہنی لٹکی ہوئی ہے"۔ اکثر تفسیری اقوال لکھنے کے بعد قرطبی فیصلہ کرتے ہیں کہ :میں کہتا ہوں کہ یہ ایک درخت ہے"(ترجمہ پیر کرم الہی شا صاحب ،جلد 6، ص331، ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
(7)         قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ   نے بھی اپنی تفسیر میں ہر طرح کے اقوال رقم کئے ہیں چند اک نذر ِ قارئین ہیں  طوبی:"ان کے لیئے خوشی ہے"، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک اعرابی کے سوال کے جواب میں رسولﷺ نے فرمایا " طوبیٰ ایک درخت ہے ، یہ فردوس کے درمیان ہے ، شام کے درخت الحوزہ اسکے مشابہ ہے(اس درخت کو اخروٹ کے درخت سے تشبیہ دی ہے) کوئی زمینی درخت اس کے مشابہ نہیں ، اسکا تنا  اتناموٹا ہےکہ تندرست اونٹ  اسکے گرد سفر کرے تو احاطہ نہ کر سکے بوڑھا ہوجائےاسکا سینہ پھٹ جائے"۔ص261
" اس درخت کی اصل رضوان ہے اور اسکا پانی تسنیم ہے،اس کی ٹہنیاں جنت کی
دیواروں کے پیچھے سے بھی نظر آتی ہیں۔ص262(تفسیر مظہری، مترجم  مولانا سید عبدالدائم الجلالی، جلدششم، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
(8)           حضرت مولانا فخرالدین قادریؒ فرماتے ہیں : "جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے ہیں دنیا میں اُنکو خوشی ہے زندگانی میں اگرچہ مفلس غریب ہوں"۔(تفسیر قادری،ص327،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
٭ترجمہ نمبر2جو کہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلویؒ کا(دیکھئے ص9)  ہےاس کے سایہء رحمت میں کئی مترجمین نے ترجمہ نگاری کی ہے شاہ صاحب اردو ترجمہ کے امام ہیں اہل حق نے اسکی زبان وبیان پر وقتاً فوقتاً تفصیل و تسہیل عوام الناس کے لئے پیش کی ہیں۔
(9)           چنانچہ علامہ شبیر احمد عثمانی اپنے حاشیہ میں وضاحت فرماتے ہیں : "مترجم محقق نے "طوبیٰ" کے لغوی معانی لیئے ہیں اسی کے اندر جنت کا وہ درخت بھی آگیا جسے حدیث صحیح میں "طوبیٰ" کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔(تفسیر عثمانی ، ص327،عالمین پبلیکیشنز پریس، لاہور)
(10)      علامہ محمد ادریس کاندھلوی رقم فرماتے ہیں :" لغت عرب میں طوبیٰ کے معانی نہایت
درجہ خوشی اور شادمانی کے ہیں اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ طوبیٰ جنت میں
ایک درخت ہے۔(تفسیر معارف القرآن ،ص217،جلد4،فرید بکڈپو،نئی دہلی انڈیا)
(11)  سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ اس مقا م پر تحریر فرماتے ہیں :"یعنی دنیا میں خوشحال اور آخرت میں نیک انجامی اور اچھا ٹھکانا۔ دنیا کی خوشحالی یہ کہ قلب کو اطمینان اور خدا پر بھروسہ ،ہوسکتا ہےکہ دونوں بشارتیں آخرت کی ہوں اور طوبیٰ سے مراد وہ درخت ہو جو اہل ِ جنت پر سایہ افگن ہوگا اور جسکا ذکر حدیث شریف میں آتا ہے۔(کشف الرحمٰن مع تیسیرالقرآن و تسھیل القرآن ،ص1449،جلد2،مکتبہ رشیدیہ کراچی)
(12)   نمبر 6 کے تحت حضرت تھانوی ؒ کا ترجمہ" خوشحالی "درج ہے ۔ بیان القرآنجو کہ ایک عہدساز شاہکار ترجمہ تفسیر ہے جسکی شرح تفصیل و تسہیل کا سلسلہ ہنوز جاری ہے قرآنی معارف و لطائف سے لبریز یہ تفسیر باذوق علماء کی پسندیدہ تفاسیر میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مولانا تھانوی ؒ نے اس مقام پر تفسیر ِقرآن بالقرآن کا نمونہ پیش کیا ہے ملاحظہ کیجیئے "دنیا میں خوشحالی ہے : مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (97)  النحل ترجمہ :جو شخص کوئی نیک کام کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت ہو بشرطیکہ صاحب ایمان ہو تو ہم اس شخص کو (دنیا میں) بالطف زندگی دینگےاور( آخرت میں) ان کے اچھے کاموں کے عوض اُنکا اجر دینگے۔(مکمل بیان القرآن، ص112، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)
سور ہ نحل کی درج بالا آیت کی اپنے مقام پر تشریح کرتے ہوئے فائدہ میں لکھتے ہیں :" حیوۃٰ طیبہ سے یہ مراد نہیں کہ اس کو فقر و مرض کبھی نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے اس کے قلب میں ایسا نور ہوگا جس سے وہ ہر حال میں شاکر و صابر اور رضاو تسلیم سے رہےگا اور اصل چین یہی ہے"۔(تلخیص بیان القرآن، مفتی محمد ظفراحمد عثمانی،ص417،ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ ،کراچی)
(13)  معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے بیان القرآن کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ،ص195،جلد5 اور مفتی ظفر احمد عثمانی صاحب نے تلخیص بیان القرآن، ص379، پرحضرت تھانویؒ کی طوبی کی اسی تشریح کو بحال رکھا ہے۔لیکن حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نے اپنی تفسیر فہم القرآن تسہیل بیان القرآن،ص110 جلد3، پر  صرف"آخرت میں خوشحالی" بیان کئے ہیں۔
(14)     مولانا عبدالماجد دریا بادی ؒکے گوہر بار قلم کی بہار سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ہے :"خوشحالی اس دنیا میں اور خوش انجامی آخرت میں۔۔۔ خوشحالی سے مراد مالی یا معاشی خوشحالی نہیں ، بلکہ فراغ خاطری مقصود ہے ، جو عین ثمرہ ہے ایمان کا ہے"۔ (تفسیر ماجدی،جلد 2،ص681،مجلس نشریات قرآن ،کراچی)
(15)   مولانا قاری اخلاق حسین صاحب ِمستند موضح قرآن:نے یہاں نہایت ایمان افروز کلام
کیا ہےپہلے وہ حدیث پڑھ لیں:وفي رواية : عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّ رَجُـلًا قَالَ لَهُ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ، طُوْبٰی لِمَنْ رَآکَ وَآمَنَ بِکَ قَالَ : طُوْبٰی لِمَنْ رَآنِي وَآمَنَ بِي ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی ثُمَّ طُوْبٰی لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي. قَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَمَا طُوْبٰی؟ قَالَ : شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ مَسِيْرَةُ مِاءَةِ عَامٍ ثِيَابُ أَهْلِ الْجَنَّةِ تَخْرُجُ مِنْ أَکْمَامِهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَابْنُ حِبَّانَ. وَقَالَ الْعَسْقَـلَانِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 3 / 71، الرقم : 11691، وأبو يعلی في المسند، 2 / 519، وابن حبان في الصحيح، 16 / 213، الرقم : 7230، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 4 / 90، الرقم : 1733، والعسقلاني في الأمالي المطلقة / 47، والهيثمي في مجمع الزوائد، 10 / 67.
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا : یا رسول اﷲ! مبارکباد ہے اس کے لیے جس نے آپ کو دیکھا اور آپ پر ایمان لایا. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (ہاں یقینا) مبارکباد ہے اس کے لیے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا، (مگر) پھر مبارکباد ہے، پھر مبارکباد ہے، پھر مبارکباد ہے اس کے لیے جو مجھ پر ایمان لایا اور اس نے مجھے دیکھا تک نہیں، ایک شخص نے عرض کیا : (یا رسول اﷲ! وہ) طوبیٰ (مبارکباد) کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (طوبیٰ جنت کا ایک درخت ہے جو ایک صدی کی مسافت تک پھیلا ہوا ہے۔ اہلِ جنت کے کپڑے اسی کے (پھلوں کے) خوشوں سے تیار ہوں گے.‘‘
اس حدیث کو امام احمد، ابو یعلی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ امام عسقلانی نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے۔
(یہ حدیث "ابن کثیر" کے اقتباس میں گذر چکی):"بعد والی اُمت کی فضیلت: اس حدیث سے صحابہ کے بعد ایمان لانے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔ایک حدیث میں فرمایا: بہترین ایمان ان لوگوں کا ہے جو تمھارے اصحاب تمھارے بعد ہونگے  ۔ اور قرآن کریم میں پڑھ کر مجھ پر ایمان لائیں گے۔ اس حدیث میں فرشتوں کے ایمان ، رسولوں کے ایمان اور ملائکہ کے ایمان سے زیادہ اچھا ایمان بعد والوں کا قرار دیا ہے۔ وجہ ظاہر ہے کہ جن خوش نصیبوں کو رسول ِ پاک کے روشن چہرے اور آپ کے اعلےٰ کردارکو دیکھنے کا موقع ملا انکا آپﷺپر ایمان لانا اتنا تعجب خیز نہیں ہے جتنا آپﷺپر بالغیب ایمان لانے والوں کا ہے۔"(مستند موضح قرآن،ص327، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
(16)   تفسیر جلالین کے شارح  مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے اس جگہ درج ذیل الفاظ سپردِ قرطاس کئے ہیں :"قرآن مجید کی مذکورہ آیت میں لفظ "طوبیٰ" کے معانی خوشحالی کے ہیں ، خوشگوار زندگی کے ہیں، اور طوبیٰ وہ درخت بھی ہے جسے حدیث میں جنت کا درخت کہا گیا ہے "۔(تفسیرروح القرآن ترجمہ جلالین،جلد3،ص373،فیصل پیبلیکیشنز دیوبند،انڈیا)
(17)   سید قطب تحریر فرماتے ہیں : طوبیٰ یعنی بہت بڑی خوشخبری ہے"(فی ظلال القرآن ، مترجم معروف شاہ شیرازی،جلد4،ص112،ادارہ منشورات اسلامی)
(18)      طوبیٰ : اظہار مسرت و فرحت کےلیئے آتا ہے بمعنی خوشی و خوش طبعی ، مئونث طیب کا ہےمولانا حنیف ندوی(سراج البیان،ص603،ملک سراج دین اینڈ سنز لاہور)
(19)      مولانا غلام رسول سعیدی ؒ اس مقام کی تشریح کرتے ہوئے  فرماتے ہیں:"طوبیٰ کا مصدر طیب سے
ہے، اسکا معنی مومنین کے لئے پاکیزہ زندگی ہے، نعمت اور خیر و سرور ہے"۔ (ص96،جلد6،تبیان ،القرآن،فرید بک اسٹال )
(20)      سید مقبول احمد دہلوی لکھتے ہیں:"طوبیٰ اسکے لفظی معنی تو بہت خوشی اور خوشحالی اور کافی میں جناب امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ "طوبیٰ" جنت کا درخت ہے ، جسکی جڑ جناب رسول ِ خداﷺ کے مکان میں ہے اور کوئی مومن ایسا نہیں کہ اسکی شاخ اس کے مکان میں نہ پہنچی ہو اور جس چیز کو اس مومن کا دل  کرے گا وہی چیز وہ درخت دے گا(ترجمہ و حاشیہ قرآن : سید مقبول احمد دہلوی ،ص302، افتخار بکڈپو لاہور)٭ یہاں  ہم  احمد علی لاہوری قبلہ،فرمان علی ، اور سید ذیشان حیدرجواد  صاحبان سے شکوہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اگر درمنثور کی  آدھی ادھوری روایت پیش کر کے اہلسنت پر کچھ خاص  امتیازثابت کرنا چاہتے ہیں تو پھر پوری روایت پیش کریں جو اہل تشیع اور اہلسنت میں تقریباً ہم معنی ہے جیسا کہ سید مقبول احمد دہلوی نے درج بالا روایت کے بعد وہ روایت مکمل درج کی ہے۔ اگر دیگر مذکورہ  یہ تین اصحاب بھی  یہی روش اپناتے تو اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں کوئی کمی واقع نہ ہوجاتی کیونکہ اصل شرف و فضیلت تو معیت ِ رسول اکرمﷺ کی ہے جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو جنت میں حاصل ہوگی  طوبیٰ یہاں اضافی حیثیت رکھتا ہے نہ کہ اصل معیار ِ کرامت ۔اسلیئے  اہل تشیع حضرات جو امتیاز وافتخار کی روش اپناتے ہیں وہ اک غیر موزوں متوازیت پیدا کرتی ہے جسے غیر معتدل رویہ جنم لیتا ہے ۔ ہم تبرکاً ایک روایت اپنے تمام مسلمان بھائیوں کو ہدیہ کرتے ہیں :"بے شک میںﷺ تو فاطمہ رضی اللہ عنھا اور یہ دونوں حسن اور حسین رضی اللہ عنھم اور یہ سویا ہوا شخص علی کرم اللہ وجہہ قیامت کے روز ایک ہی محل میں
اکٹھے ہونگے ( متن اربعین ِ  امام حسین رضی اللہ عنہ،  تالیف: الشیخ عبداللہ دانش،ص74،مرکز الحرمین الاسلامی، فیصل آباد، یہ روایت البانی  صحیح حدیث  میں لائے ہیں )
(21)      " آخرت کی عیش والی من پسند زندگی"۔ ڈاکٹر جمیل الرحمن عبدالسلام، مطبع محکمہ اوقاف کویت،ص۲۵۴
طوبیٰ آستانہء رسالتﷺ کے مجاورین(محدیثن کرام) کی روایات میں
باب من كان مفتاحا للخير
حديث رقم – 237-
(1)            ( حسن ) حدثنا الحسين بن الحسن المروزي أنبأنا محمد بن أبي عدي حدثنا محمد بن أبي حميد حدثنا حفص بن عبيد الله بن أنس عن أنس بن مالك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من الناس مفاتيح للخير مغاليق للشر وإن من الناس مفاتيح للشر مغاليق للخير فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه وويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه )
ترجمہ:" انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا " بعض لوگ بھلائی کی کنجی ہوتے ہیں اور برائی کے لئے تالہ اور بعض لوگ برائی کی کنجی ثابت ہوتے ہیں اور بھلائی کے لئے تالہ، سو مبارک ہو اس شخص کو جسکے ہاتھوں میں اللہ نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں اور بربادی ہو اس شخص کے لئے جسکے ہاتھوں میں شر کی کنجیاں دی۔"(سنن ابن ماجہ ، جلد1، مترجم: مولانا قاسم امین، مکتبہ العلم، لاہور)
(2)            إن ھذا الخیر، خزائن وتلک الخزائن مفاتیح، فطوبیٰ لعبد جعلہ الله مفتاحاً للخیر، مغلاقا للشر، وویل لعبد جعلہ الله مفتاحا للشر، مغلاقا للخیر“(ابن ماجہ، رقم الحدیث238،جلد اول)
(رسول اللہ ﷺ نے فرمایا)"یہ خیر (یعنی مال و دولت کے ڈھیر) خزانے ہیں اور ان خزانوں کی کنجیاں ہیں، بشارت ہو اس شخص کو جس کو اللہ تعالیٰ نے خیر کے دروازے کھلنے اور برائی(یعنی غربا اور فقراء کی ضروریات کی پرواہ کرنے) کے دروازے بند ہونے کا سبب بنایا ہے اور (دین و دنیا کی ) تباہی ہے اس بندہ کے لئے جس کو اللہ تعالیٰ نے برائی کے دروازے کھلنے اور خیر کے دروازے بند ہونے کا سبب بنایا ہے"۔
٭ "حضرت علامہ مُلا علی قاریؒ  فرماتے ہیںقولہ: إن ھذا الخیر، خزائن وتلک الخزائن مفاتیح: اس کی کئی انواع ہیں جن کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ ( خزائین  کی چابیاں جن کو دی گئی)یعنی ان بندوں کے ہاتھوں میں جو بمنزلہ اللہ کے وکیل کے ہیں۔ خیر کو ذکر کر کے شر کو ذکر نہ کرنا ، اکتفاء کے باب سے ہے۔ یا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شر مخلوق لذاتہ نہیں ہے ،اسی وجہ سے اللہ کا ارشاد ہے : بیدہ الخیر(آل عمران:26)۔ حالانکہ تمام اُمور اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اور حدیث شریف میں ہے کہ : خیر سارے کا سارا تیرے (اللہ عزوجل  کے)قبضہ میں اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے"۔ ادب کی وجہ سے اس طرح فرمایا ، معنی یہ ہے کہ شر کی نسبت تیری طرف نہیں کی جاتی۔ ظاہر  یہ ہے کہ شر خیر کو چھوڑنے سے وجود میں آتا ہے ، لہذا دونوں نسبتوں میں تضاد ہے۔ جیسا کہ نور اور ظلمت میں، عدم اور وجود میں۔بعض آیات دلالت کرتی ہیں اس بات پر کہ شر کے خزانے بھی اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ ارشاد نبویﷺ": فطوبیٰ لعبد جعلہ الله مفتاحاً للخیر" خیر کے اعتبار سے ہو یا علم کے اعتبار سے ہو یا آخرت کے اعتبار سے۔"مغلاق لشر ویل لعبد جعلہ الله مفتاحا للشر" : کفر، نافرمانی،سرکشی ، بغاوت، بخل اور بھائیوں کے ساتھ بری معاشرت کے لیئے۔امام راغبؒ فرماتے ہیں کہ " خیر" سے مراد وہ اشیاء ہیں جن میں ہر ایک رغبت رکھے۔ مثلاً عقل،عدل، احسان، نفع بخش کوئی چیز او ر" شر" اس کی ضد ہے۔ خیر اور شر کبھی کبھار ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں ،  جیسا کہ مال ، کہ زید کے لئے خیر کا ذریعہ تو عمرو کے لیئے شر کا ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے مال کو دونوں کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے(ان ترک خیراً۔البقرہ180)" بشرطیکہ کچھ مال ترکہ میں چھوڑا ہو"، یہاں "خیر" سے مراد مال ہے اور  دوسری جگہ ارشاد ہے"«ایحسبون انما نمدهم به من مال و بنین نسارع لهم فی الخیرات ۔ سوره‌ مؤمنون، آیه‌ 55 " ، " کیا یہ لوگ یوں گمان کر رہے ہیں کہ ہم ان  کوجو مال اور اولاد دیتے چلے جاتے ہیں تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدہ پہنچا رہے ہیں"۔
اسیطرح علم بعض کیلئے حجاب اور سببِ عذاب ، اور بعض کے لیئے رب الارباب کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اسی پر عبادت کو قیاس کرو کیونکہ بعض اوقات عُجب اور غرور پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات نور ، سرور اور خوشی کا باعث بنتی ہے۔جسطرح کے تلوار اور گھوڑا وغیرہ کبھی جہاد میں بطور آلہ استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی یہ انبیاؑ  اور اولیاء کے قتل کا ذریعہ اور جہنم کی نچلی وادی میں پہنچنے کا سبب بن جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ۔ ترجمہ:" خیر ساری کی ساری جنت میں ہے اور شر سارے کا سارا دوزخ میں ہے"۔  یعنی جیسی اللہ تعالیٰ نے ازلی و ابدی تقسیم رکھی ہے بعض کا نظائرِ جلال اور بعض کو مظاہر جمال بنایا،،،،،،،،،،،،، اور اللہ کے فیصلے کا سمندر ایک گہرا چوڑا سمندر ہے ۔ اس میں وہی شخص غوطہ لگاتا ہے جسکو اللہ کی توفیق سے تحقیق حاصل ہو اور اس مسئلہ میں بڑے ارباب ِ ساحل حیران ہیں اور کامل دینداری کے حامل اصحابِ سفن اس سے گزر جاتے ہیں۔"(رقم الحدیث:5208 مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد نہم، ص605-606، مترجم اردو:مولانا راؤ محمد ندیم، مکتبۃ رحمانیہ، لاہور)
٭" طوبٰی : خوشحالی یا اس سے مراد جنت کا خاص درخت "طوبیٰ نامی" درخت ہے"(از ملا علی قاریؒ ،ص539،حوالہ بالا)
(3)                ان اللہ تعالیٰ قرأ طہ و یٰس قبل ان یخلق السمٰوات و الارض بالف عام فلما سمعتِ الملائکۃ القرآن قالت طوبیٰ لامّۃ ینزل ھذا علیھا و طوبیٰ لأجواف تحمل ھذا و طوبیٰ لألسنۃ تتکلم بھٰذا۔
ترجمہ  اللہ جل شانہ نے سورہ طہ اور سورۂ یٰسین کو زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے پڑھا اور اس کو جب فرشتوں نے سنا
تو کہا: مبارکبادی ہے اس امت کے لئے جس پر یہ کتاب نازل ہوگی اور مبارکبادی ہے ان سینوں کے لئے جو اس کو یاد کریں گے اور مباکبادی ہے ان زبانوں کے لئے جو اس کو پڑھیں گے۔(سنن دارمی،ص486،مترجم اردو، ناشر :محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب قرآن محل،کراچی)

(4)            أخرجه مسلم في صحيحه كتاب الزكاة باب الخوارج شر الخلق والخليقة (1067)
3- عن أبي سعيد الخدري ، وأنس بن مالك رضي الله عنهم ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
قال : (( سيكون في أمتي اختلاف و فرقه ؛ قوم يحسنونَ القيلَ ، ويسيئون الفعلَ ، يقرءونَ القرآن لا يجاوز تراقيهم ، يمرقون من الدين مروق السهم من الرّميّة ، لا يرجعون حتى يرتد على فُوقِهِ ؛ هم شر الخلق والخليقةِ ، طُوبى لمن قتلهم وقتلوه ، يدعون إلى كتاب الله وليسوا منه في شيء ، من قاتلهم كان أولى بالله منهم۔
ترجمہ:"حضرت ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنھم رسول ِ پاکﷺ سے روایت کرتے ہیں : کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں اختلاف اور پھوٹ پڑے گی کچھ لوگ قیل و قال کو اچھا سمجھیں گے اور برا عمل کریں گے(یا وہ گناہ والاکام کریں گے)وہ قرآن پڑھیں گے قرآن ان کے (نرخرے)حلق سے نیچے نہیں اترے گا گویا  دین سے ایسے آر پار نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آر پار نکل جاتا ہے، وہ  دین کی طرف واپس نہیں لوٹیں گے یہاں تک کہ وہ مزید گمراہی میں بڑھ جائیں گے وہ لوگ تمام مخلوقات میں سب سے بدترین ہوں گے ،مبارکبادی(خوش نصیبی) ہے وہ شخص کے لیئے جو ان کو قتل کرے اور وہ انھیں قتل کر ڈالیں ، وہ لوگ کتاب اللہ(قرآن) کی طرف بلائیں گے حالانکہ وہ خود اس کتاب ِ الہی سے فیض یافتہ نہ ہونگے۔ جو شخص اُن لوگوں سے قتال  کرے گا تو وہ اللہ کے نزدیک اُنکی بنسبت اعلےٰ افضل اور بہتر درجہ پائے گا۔(مترجم: مفتی رحمت اللہ صاحب)۔
فوائد: اسی سے ملتی جلتی حدیث مسند احمد رقم الحدیث 5562(قال شعیب الارنؤوط : حدیث صحیح) میں حضرت  ابن عمر رضی اللہ عنہ سےآئی ہے جسکا کچھ حصہیوں ہے :"پس جب وہ (خوارج) خروج اختیار کریں، تو  تم ان کو قتل کر دو، پھر جب وہ خروج اختیار کریں تو تم ان کو قتل کردو، پھر جب وہ خروج اختیار کریں تو تم ان کو قتل کردو، جو ان کو قتل کرے گا اس کے لئے (فطوبیٰ ) پس خوشخبری ہے ، اور جس کو وہ قتل کردیں، اس کے لئے بھی (طوبیٰ)خوشخبری ہے ان میں سے جب جب بھی کوئی فرقہ ظاہر ہوگا ، اس کو اللہ عز وجل قطع کر دے گا، رسول اللہ ﷺ نے یہ بات بیس20 مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ دہرائی اور میں ہر مرتبہ اس بات کو سن رہا تھا(مسنداحمد)
٭اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ خارجی لوگ مسلمانوں کو قتل کریں گے، حالانکہ وہ قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ بظاہر دوسرے کئی نیک اعمال اختیار کریں گے، خارجیوں کے فرقے مختلف شکلوں میں وقتاً فوقتاً ظاہر ہوتے رہیں گے ، لیکن ہر مرتبہ اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے ان کو قطع و ختم فرماتا رہے گا اور جو لوگ شرعی اصولوں کے مطابق ان سے مقابلہ کریں گے، ان کے لئے بڑا اجر و انعام ہے۔(مفتی محمد رضوان صاحب، ماہنامہ التبلیغ،اپریل 2016، ص23،24، راولپنڈی)
٭ سنن ابوداؤد میں میں بھی اس مضمون کے  مثل روایت آئی ہے اس میں بھی خوارج سے قتل و قتال پر(طوبی) خوشخبری کی بشارت دی گئی ہے۔
(5)            وعن عائشۃ رضی اللہ عنھا، قالت، دعیٰ رسول اللہ إلیٰ جنازۃ صبی من الأنصار فقلت: یا رسول اللہ !طوبیٰ لھٰذا، عصفور من عصافیر الجنۃ، لم یعمل السوء ولم یدرکہ، ۔ رواہ مسلم
(سیدہ)عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک انصاری بچے کی (نمازِ) جنازہ (پڑھانے) کی دعوت دی گئی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! اس بچے کے لئے خوشخبری ہو، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی بُرائی نہیں کی اور نہ بُرائی کو پایا،،،،،،، (صحیح مسلم: ۳۱؍۲۶۶۲[۶۷۶۸])۔
٭امام بخاری کتاب الجھاد کے ایک باب کا عنوان رکھتے ہیں " اللہ کی راہ میں (لشکر اسلام) کی چوکیداری کرنا۔اور اس باب میں یہ حدیث بھی پیش کی ہے!
(5)  ‏‏‏‏ عن أبي هريرة،‏‏‏‏ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة،‏‏‏‏ إن أعطي رضي،‏‏‏‏ وإن لم يعط سخط،‏‏‏‏ تعس وانتكس،‏‏‏‏ وإذا شيك فلا انتقش،‏‏‏‏ طوبى لعبد آخذ بعنان فرسه في سبيل الله،‏‏‏‏ أشعث رأسه مغبرة قدماه،‏‏‏‏ إن كان في الحراسة كان في الحراسة،‏‏‏‏ وإن كان في الساقة كان في الساقة،‏‏‏‏ إن استأذن لم يؤذن له،‏‏‏‏ وإن شفع لم يشفع ‏"‏‏.‏ قال أبو عبد الله لم يرفعه إسرائيل ومحمد بن جحادة عن أبي حصين وقال تعسا‏.‏ كأنه يقول فأتعسهم الله‏.‏ طوبى فعلى من كل شىء طيب،‏‏‏‏ وهى ياء حولت إلى الواو وهى من يطيب‏.‏
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ نے فرمایا اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا، اگر اس کو کچھ دیا جائے تب تو خوش جب نہ دیا جائے تو ناراض ہو جائے، (خدا کرے)ایسا شخص تباہ سرنگوں ہو۔ اس کو کانٹا لگے تو خدا کرے پھر نہ نکلے۔ مبارک  بادکا مستحق ہے وہ بندہ جو اللہ کے راستے میں (غزوہ کے موقع پر) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں، اگر اسے چوکی پہرے پر لگا دیا جائے تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے (دیکھ بھال کے لیے) لگا دیا جائے تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے (اگرچہ زندگی میں غربت کی وجہ سے اس کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو کہ) اگر وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اسے اجازت بھی نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے(یعنی  بالکل گمنام اور غریب مفلس آدمی ہو)۔ ابوعبداللہ (حضرت امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے ابو حصین سے یہ روایت مرفوعاً نہیں بیان کی ہے اور کہا کہ قرآن مجید میں جو لفظ تعساً آیا ہے گویا یوں کہنا چاہئے کہ (( فاتعسہم اﷲ )) (اللہ انہیں گرائے ہلاک کرے) طوبیٰ فعلیٰ کے وزن پر ہے ہر اچھی اور طیب چیز کے لیے۔ واو اصل میں یا تھا ( طیبیٰ ) پھر یا کو واو سے بدل دیا گیا اور یہ طیب سے نکلا ہے۔(حدیث نمبر 2730: صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 2 ، ص383،384،مکتبہ العربیہ لاہور)
٭فوائد:  شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحب فرماتے ہیں :" طوبیٰ کے ایک معنی تو جنت کے ہیں ، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جنت کے ایک درخت کا نام ہے ۔ لیکن غالباً امام بخاری ؒ نے اسکی تفسیر میں "
من کل شئ طیب" لا کر  یہ اشارہ فرمایا کہ لفظ کے عام معنی مراد لئے جائیں تو زیادہ بہتر ہے، اسطرح جنت ہو یا اسکے ایک درخت کا نام یا اور کوئی بھی اچھی چیز اس عموم کے تحت داخل ہو جائے گی۔
     یہاں بھی امام بخاری نے اپنی عادت کے موافق قرآن کریم کی آیت کریمہ  ٭" الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ۔(سورہ رعد آیت 29) میں وارد لفظ "طوبیٰ"کی تفسیر و توضیح فرمائی ہے۔
ترجمۃ الباب کے ساتھ حدیث کی مناسبت:" اس  جملے میں ہے   "طوبى لعبد آخذ بعنان فرسه في سبيل الله،‏‏‏" اور " إن كان في الحراسة كان في الحراسة،"کے ان دونوں جملوں میں اللہ کے راستے میں نگہبانی  و پاسبانی پر خوشخبری دی گئی ہے (ص542،جلد 1،کشف الباری عما فی صحیح البخاری، مکتبہ فاروقیہ، کراچی)
(6)    عن عبد الله بن بسر - رضي الله عنه - قال : قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : ( طوبى لمن وجد في كتابه استغفاراً كثيراً ) رواه ابن ماجه والنسائي والطبراني ، ورواه البيهقي عن عائشة - رضي الله عنها - مرفوعاً
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کے نامۂ اعمال میں بہت زیادہ استغفار ہوا تو اس کے لئے طوبیٰ (خوشخبری) ہے ۔(سنن ابن ماجہ : ۳۸۱۸، اسنادہ حسن،سنن نسائی، عَن عائشةَ رضي اللَّه: الراوي: صفية بنت حيي زوج النبي صلى الله عليه وسلم المحدث: البيهقي - المصدر: شعب الإيمان - الصفحة أو الرقم: 1/381 خلاصة حكم المحدث: هذا هو الصحيح موقوفاً)

فوائد:  1۔۔" اس حدیث میں "طوبیٰ" کا لفظ بہت ہی جامع ہے دنیا اور آخرت اور جنت کی ساری ہی مسرتیں اور نعمتیں اس میں شامل ہیں۔ بلا شبہ جس بندے کو حقیقی استغفار نصیب ہو اور خوب کثرت سے نصیب ہو وہ بڑا خوش نصیب ہے اور اس کو سبھی کچھ نصیب ہے،اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے" (مولانا منظور نعمانی، معارف الحدیث ،ص343،جلد5، عمر فاروق اکیڈمی ،لاہور،)
2۔ " اس حدیث میں کثرت سے استغفار کرنے کی ترغیب دی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جس نے اپنے صحیفہ میں استغفار زیادہ تعداد میں پایا اس کے لیئے عمدہ حالت (طوبیٰ) کی خوشخبری ہے۔ کیونکہ ایسا شخص بہت نفع میں رہے گا اور کیوں اسکی حالت عمدہ نہ ہوگی؟ جبکہ استغفار سے گناہ بھی معاف ہوتے ہیں اعمال صالحہ کی کوتاہی بھی دور ہوتی ہے۔ اعمال کی اصلاح بھی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے دنیا میں زیادہ استغفار کیا ہوگا وہی قیامت کے دن اپنے اعمال نامہ میں زیادہ استغفار پائے گا۔(مفتی محمد عاشق الہی بلند شہری المدنی،فضائل توبہ و استغفار،ص106، ادارہ اسلامیات ، لاہور)
(7)" طوبى لمن رآني وآمن بي مرة، و طوبي لمن لم يراني و آمن بي سبع مرات" ۔ لراوي: أبو أمامة و أنس بن مالك المحدث: السيوطي ، الجامع الصغير - الصفحة أو الرقم: 5301 خلاصة حكم المحدث: صحيح۔
ترجمہ: ایک بار خوشخبری ہے اس کے لئے جس نے مجھے (آپﷺ کو) دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور سات مرتبہ  خوشخبری ہے اُس کے لیئے جس نے مجھے نہیں دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا۔
(8) "طوبى لِمَنْ هُدِيَ لِلإِسْلامَ وكان عَيْشُهُ كَفَافًا و وقَنَعَ "(حدیث نمبر 2166)
ترجمہ : حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : اس شخص کے لئے مبارکباد ہے جسے اسلام کی ہدایت ملنے کے ساتھ ساتھ اسکی حاجت کے بقدر رزق عطا کیا گیا اور اس نے قناعت کا دامن نہ چھوڑا"(جامع ترمذی،مترجم : مولانا فضل احمد صاحب، ص27،جلد2،دارالاشاعت، کراچی)
فائدہ: " طوبیٰ" کے بارے میں فقیہ ابو للیث ؒ نے فرمایاہے کہ جنت میں طوبی نام کا ایک درخت ہوگا ، ہر گھر میں اس کی ایک شاخ ہوگی ، جس پر مختلف قسم کے پھل ہونگے اور اونٹ کے برابر پرندے اس پر آکر بیٹھیں گے  اگر کوئ جنتی کسی پرندے کی خواہش کرے گا تو وہ فوراً دستر خوان پر آ جائے گا ،وہ شخص ایک ہی پرندے میں سے ایک جانب سوکھا اور دوسرے جانب سے بھنا گوشت کھائے گا، پھر وہ پرندہ اُڑ کر چلا جائے گا۔(مفتی  محمد نعیم صاحب،فضائل ِ ایمان، ص120،النبراس، کراچی)
(9)طوبى للغُرَباءِ طوبي للغُرَباءِ طوبي للغُرَباءِ فَقيلَ مَنِ الغُرباءُ يا رَسولَ اللَّهِ قالَ ناسٌ صالِحونَ في ناسِ سَوءٍ كثيرٍ مَن يَعصيهم أَكْثرُ مِمَّن يطيعُهُم(لراوي: عبدالله بن عمرو المحدث: أحمد شاكر - المصدر: مسند أحمد - الصفحة أو الرقم: 12/29 خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح)
ترجمہ: خوشخبری ہو  اجنبیوں کے لئے،خوشخبری ہو  اجنبیوں کے لئے،خوشخبری ہو  اجنبیوں کے لئے، پوچھا گیا اجنبی کون لوگ ہیں اے اللہ کے رسولﷺ؟  فرمایا " کچھ لوگ تمھارے بعد ہونگے نیک و صالح بہت زیادہ بُرے لوگوں میں ،جو انکی نافرمانی کریں گے وہ بہت ہونگے بنسبت انکے جو اُن کی اطاعت کریں گے"۔(مترجم: مفتی محمد امجد حسین صاحب)
(10)عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( بَدَأَ الإِسْلامُ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ( رواه مسلم )
ترجمہ :"اسلام کی ابتداء اجنبی اور پردیسی کی حیثیت سے ہوئی اور عنقریب یہ پھر اجنبی پردیسی (غریب الدیّار) ہی بن جائے گا۔ پس اجنبیوں کو مژدہ ہو"۔
فوائد : حدیث نمبر 9 اور 10 پر چند سطریں نذر ِ قارئین ہیں :
٭"ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں: فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ : وجہ تسمیہ : دنیا داروں کے ساتھ ان کا تعلق اجنبی اور پردیسی جیسا ہوگا۔1۔ خوشخبری ہے دین کا دامن مضبوطی سے تھام کر اس  کےساتھ چمٹ جانے والوں کیلیئے کہ آغاز ِ اسلام اور آخری دور میں دین پر عمل پیرا ہونا مشقتیں سہے بغیر ممکن نہیں۔2۔ اس سے مراد مہاجرین ہیں کہ جنہوں نے اللہ کی طرف ہجرت کی۔ 3۔ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد مصلحین ِ سنت ہیں، یعنی وہ لوگ جوکہ سنتوں کو ان کی اصل پر لائیں گے۔4۔ امام طیبیؒ فرماتے ہیں: اسلام استعارہ ہے مسلمین کے لیئے، اور قرینہ غربۃ ہے۔ چنانچہ وحدت و وحشت کے معنی کا تعلق خود مسلمانوں کے ساتھ ہوگا۔رقم الحدیث:159،مرقاۃ المفاتیح اردو شرح مشکوۃ المصابیح،جلد1،ص746، مکتبۃ رحمانیہ)
٭"اسلام کا دین غربت کے ساتھ شروع ہوا (پہلے غریب لوگ ، کمزور مسلمان ہوئے تھے اور ایک زمانہ   میں) ایسا ہی غریب ہو جائے گا (غریبوں میں دین رہ جائے گا امیر اور مالدار لوگ دین کی پرواہ نہ کریں گے) تو غریبوں کے واسطے طوبی ہے (یعنی بہشت ہے یا طوبی سے خوشی اور مبارکباد مراد ہے) یعنی اسلام پردیسیوں کی سی حالت میں شروع ہوا اور اسکی پھر  یہی حالت ہو جائے گی یعنی اجنبی کی طرح ہو جائے گا۔ہزاروں میں چند ہی ایمان والے
ہونگے جو پر دیسیوں کی طرح ہونگے۔سو ان پردیسیوں کو مبارکباد ہو!"(علامہ وحیدالزمان،
لغات الحدیث، جلد3،ص43،نعمانی کتب خانہ ، لاہور)
٭ مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب فرماتے ہیں :" قولہ : غریباً"
غریب عربی میں اجنبی کو کہتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ قبل از اسلام عرب میں شرک کا دور دورہ تھا ، توحید ِ خالص کا عقیدہ اور اسلام کی تعلیمات پوری دنیا کے لئے اجنبی تھی، اور اسلام کو قبول کرنے اور اسپر عمل کرنے والے بھی دنیا کو اجنبی محسوس ہوتے تھے۔پھر اللہ رب العزت نے  اسلام کو غلبہ عطا فرمایا تو یہ غرابت و اجنبیت دور ہو گئی، آخر زمانے میں پھر ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ لوگ اسلام کی تعلیمات کو اجنبی سمجھنے لگیں گے اور ان تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو بھی اجنبی سمجھا جائے گا۔دور ِ حاضر کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اس غرابت کا آغاز ہو چکا ہے کہ اہل حق پر انتہا پسندی اور اس طرح کے دیگر طعنے کسے جاتے ہیں۔(درس مسلم،جلد1، ص418،ادارۃ المعارف ، کراچی)
(11)يا طوبى للشَّامِ يا طوبي للشَّامِ يا طوبي للشَّامِ ، قالوا يا رسولَ الله وبم ذلك قال : تلك ملائكةُ اللهِ باسطوا أجنحتِها على الشَّامِ(الراوي: زيد بن ثابت المحدث: الألباني - المصدر: فضائل الشام ودمشق - الصفحة أو الرقم: 1 خلاصة حكم المحدث: صحيح)
ترجمہ: "کیا کہنے! خوشخبری ہو شام کے لئے ،خوشخبری ہو شام کے لئے ،خوشخبری ہو شام کے لئے ، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ یہ کیونکر ہے؟ فرمایا: کہ اللہ کے فرشتے اس پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔"
(12) "طوبى لمن طاب كسبُه وصلُحت سريرتُه وكرُمت علانيتُه وعزل عن النَّاسِ شرَّه طوبي لمن عمل بعلمِه وأنفق من مالِه وأمسك الفضلَ من قولِه" (الراوي: ركب المصري المحدث: المنذري - المصدر: الترغيب والترهيب - الصفحة أو الرقم: 3/17 خلاصة حكم المحدث: [إسناده صحيح أو حسن أو ما قاربهما)
ترجمہ : "خوشخبری ہو اس کے لیئے جس نے اپنی کمائی پاکیزہ کر لی اور چھپے احوال (باطنی اُمور،نجی زندگی) درست کر لی اور اپنے کھلے اور ظاہر احوال بلند کرداری پر مبنی کیئے اور اپنے شر سے لوگوں کو بچا کے رکھا، مبارکبادی ہے اس کے لئے جس نے اپنے علم پر عمل کیا اور اپنے مال میں سے خرچ کیا اور روکے رکھا اپنے قول و زبان کے فاضل و فضول کلام کو"۔ (مترجم: مفتی محمد امجد حسین صاحب)
(13)طوبی للمؤمن ان تاب قبل منہ، وان اساء غفرلہ( الدیلمی 3/23،حدیث3748)
ترجمہ: خوشخبری ہے اس مؤمن کے لیے جو توبہ کرے تو قبول کی جائے اور برائی کرے تو
بخشا جائے(حدیث نمبر3200،کنوز الحقائق من حدیث خیر الخلائق ،حافظ عبدالرؤف بن علی بن زین
العابدین المناوی الشافعی،مترجم: مولانا امداداللہ انور، جواہر الاحادیث ، ص427،دارالمعارف،ملتان)
(14) عن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ان فی الجنۃ لمجتمعا للحور اللعین یرفعن باصوات  لم تسمع الخلائق مثلھا یقلن نحن الخالدات فلا نبید ونحن الناعمات فلانباس ونحن الراضیات فلا نسخط طوبی لمن کان لنا وکنا لہ(ترمذی)
ترجمہ: حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک جگہ ہوگی جہاں حوریں جمع ہو کر بلند آواز سےگائیں گی جس کے مثل خلائق نے نہ سنا ہوگا یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہ ہونگی اور ہم آرام سے رہنے والی ہیں کبھی سختی نہ جھیلیں گی اور ہم راضی رہیں گی کبھی ناراض نہ ہونگی اس شخص کے لئے بڑی خوشحالی ہے کہ وہ ہمارا ہو اور ہم اُس کے ہوں۔(مترجم : حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شوقِ وطن، ص66،67،ادارہ اسلامیات،لاہور)
حضرت مسیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے براء بن عازب  رضی اللہ عنہ سے کہا آپ کے لیئے خوشی ہو کہ آپ نے رسول اللہﷺ کی صحبت اُٹھائی اس درخت (شجر بیعت ِ رضوان) کے نیچے
حضورﷺ سے بیعت کی ہے۔((حدیث نمبر 3938: صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب
البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 3 ، ص141،مکتبہ العربیہ لاہور))
(16)وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها مائة عام لا يقطعها ولقاب قوس أحدكم في الجنة خير مما طلعت عليه الشمس أو تغرب " . متفق عليه(بخاری ومسلم)
ترجمہ : "اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے ( جس کا نام طوبی ہے ) اگر کوئی  شہسوار اس درخت کے سائے میں 100سو برس تک چلتا رہے تب بھی اس کی مسافت ختم نہ ہو،اور جنت میں تمھاری کمان کے برابر جگہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر آفتاب طلوع یا غروب ہوتا ہے "بخاری و مسلم ۔  (الابواب المنتخبۃ، مشکوۃ،تالیف:حضرت جی ثالث مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی،مترجم: منتخب ابواب،حضرت مولانا محمد یونس صاحب مظاہری،جلد2،ص266،دارالھدٰی،کراچی)
٭دوسرا باب٭
طوبیٰ کی نسبت100سوسے تو طے ہو چکی اسی 100 سو کی تکمیل پر تعارفِ طوبیٰ کی تقریب اُٹھا  رکھی تھی
حسب سابق ہم ذرا  قرآن و حدیث سے 100 کے عددسے نیک فال لے کر مضمون کے اختتام کی طرفچلیں گے۔
(1) فَأَمَاتَهُ اللّهُ مِئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ (سورہ البقرہ:جز259)
ترجمہ : "پھر اللہ نے اس شخص کو سو100 سال تک کے لیئے موت دی،اور اسکے بعد زندہ کر دیا"( آسان ترجمہ ء قرآن، مترجم مفتی محمد تقی عثمانی ، جلد1،ص163)
فوائد آیت ہذا: یہ آیت بالا کا جز ہے جو ہم نے اپنے مضمون کے بقدر لیا ہے ، خلاصہ آیت یہ ہے کہ اس میں اک بنی اسرائیلی نبیؑ کا قصہ نہایت مختصر مذکور ہے کہ انکا اک اجڑی برباد بستی پر سے گزر ہوا تو دل  میں خیال آیا کہ یہ کسطرح آباد ہوگی تو اللہ رب العزت نے انھیں موت دے دی انکا گدھا بھی ساتھ ہی مر گیا اور گل سڑ کر ہڈیاں رہ گئیں، جبکہ انکے توشہ دان میں جو کھا نا تھا وہ تروتازہ ہی رہاپھر اللہ  نےانھیں دوبارہسو100 سال بعد زندگی عطا کی ۔ اور پوچھا آپ کتنی دیر اس حالت میں رہے وہ بولے ایک دن یا اس سے بھی کم ۔  اللہ نے انھیں اپنے گدھے اور کھانے کی طرف نظر کرنے کا حکم دیا ،  کھانا جو کچھ ہی دیر میں خراب ہو جاتا ہے وہ صحیح سالم تھا ، اور گدھا جو سالوں زندہ رہ سکتا تھا وہ ہڈیاں ہو چکا تھا پھر اللہ کے حکم سے ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا اور گدھا بھی زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا، یوں اللہ نے اُس ویران بستی کو آباد کرنے کا ایک نمونہ(نشانی) بنایا، جو سو سال بعد آباد ہو کر پُررونق ہوچکی تھی۔ہم اپنے مطلوبہ جز  پر ایک معرفت انگیز نکتہ پیش کرتے ہیں۔
            ٭"اللہ نے اس پر سو سال کے لئے موت طاری کردی پھر اسے اٹھا یا،دوبارہ زندگی کے لیئے "احیاء" کی تعبیر چھوڑ کر "بعثت" کی تعبیرمیں گہری معنویت ہے، بتانا یہ چاہتے ہیں کہ زندہ ہونے والے دن ویسے ہی اُٹھ کھڑے ہوئے جیسے وفات کے وقت تھے، عقل و فہم ویسی ہی موجود تھی، نظر و استدلال کی وہی بھرپور صلاحیت تھی، فرق صرف یہ ہے کہ موت آئی تھی تو بستی کے ہولناک مناظر تھے، اور اُٹھے تو آبادکاری، شہری زندگی کی شادابی جوبن پر تھی، جو بستی اس طرح تباہ ہو چکی تھی اسکی تعمیر کا وہم وگمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا(مفسرین کے نزدیک یہ بستی بیت المقدس تھی یہ شاہانہ تعمیر و تزئین کے ساتھ آباد ہو چکی تھی،اس تمام صورتحال کو پوری ایک صدی گزر گئی سو سال بعدجب حضرت یرمیاہ ؑ اُٹھا (زندہ  کئے) گئے  تو یہ منظر ان کے سامنے تھا"۔(مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ، معالم القرآن،جلد3،ص142،ادارہ تعلیمات قرآن، سیالکوٹ)
سو100 والی احادیث
٭ اس باب میں ہمارا انداز پہلے باب سے ذرا مختلف ہوگا ، احادیث کی تخریج براہ راست اصل کتب سے کرنے کی بجائے ہم نے اپنے اکابر کی کتب پر بھروسہ کیا ہے جہاں اُنھوں نے تما م احادیث کا حوالہ دیا یہ اِن ہی بزرگوں کا احسان ہے کہ جنکی آسان اور ابتدائی کتب پڑھ کر احقر کو اُمہات الکتب کے تراجم پڑھنے کا شوق ہوا اور اس شوق کی قابلیت و صلاحیت اِنھیں فضائل کےترغیب انگیز اور مؤثرترینرسائل کی مرہون ِ منت ہے یوں سمجھئے کہ یہ اک خراج ِ عقیدت ہے جو اگر قرآن کی زبان میں ادا کیا جائے تو یوں ہے ۔
" هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (60)(الرحمن)"
"بھلا حسنِ کارکردگی کا بدلہ حسنِ عطا کے سوا کیا ہے"۔ (مترجم : مفتی محمد عاشق الہی بلند شہری المدنی)
(1)            حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں : " حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے رحمت کے سو 100 حصے کیئے 99 ننانوے حصے تو اپنے پاس رہنے دیئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا اس ایک حصہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے،،،،"۔رقم الحدیث5654(صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 4 ، ص256،مکتبہ العربیہ لاہور)
(2)            مسلم میں اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرتﷺ نے فرمایا کہ" ایک بار ایک پردہ میرے دل پر ہو جاتا ہے اور میں خدا سے ہر روز سو 100 بار مغفرت مانگتا ہوں"۔(رقم الحدیث 1900،مشارق الانوار، مؤلف: امام رضی الدین حسن صغانیؒ،۔ترجمہ و فوائد: مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی خلیفہ حضرت سید احمد شہیدؒ۔ مرتب: مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی  صاحب، ص611، نور محمد کارخانہء تجارت کتب، کراچی)
(3)            مسلم میں ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ : حضرتﷺ نے فرمایاکہ : "توبہ کیاکرو خدا کی جناب میں اس واسطے کہ میںﷺ خدا کی جناب میں توبہ کرتا ہوں ہر روز سو100 بار۔"۔(رقم الحدیث1902،ص612،ایضاً)
(4)            آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا۔
«یأیھا الناس توبوا إلی اللہ فإني أتوب إلیه في الیوم مائة مرة» (بخاری
کہ لوگو! اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ میں ایک دن میں سو100 مرتبہ اللہ رب العزت سے دعا کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔
1٭معارف و نکات:(حدیث نمبر ،4،3،2) "حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مَیں نے حضورﷺ سے اپنی زبان کی تیزی کی شکایت کی آپﷺ نے فرمایا: تم استغفار سے کہاں غفلت میں پڑے ہو؟ میں تو روزانہ اللہ سے سو100 مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔(حیاۃ الصحابہ،تالیف مولانا محمد یوسف کاندھلوی، مترجم : مولانا احسان الحق صاحب،جلد3،ص340،کتب خانہ فیضی، لاہور) "بعضے عالموں نے یوں کہا ہے کہ ہر دم خدا کی حضوری حضرت ﷺ کی شان تھی لیکن اُمت کے سمجھانے بجھانے(تعلیم و تربیت،) سے اُس حالت میں کچھ فرق ہو جاتا تھا اس واسطے حضرت ﷺ 100 بار استغفار کرتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب حضرت ﷺ کو استغفار کرنے کی حاجت تھی تو اوروں کو اگرچہ ولئی کامل ہوں زیادہ تر ضرورت ہے استغفار کرنا اور اپنی غفلت پر رونا،،،،،،،،،،،،،،، یعنی جب پیغمبرمعصوم ﷺ ہر روز 100 توبہ کریں تو اوروں کو  زیادہ تر توبہ کرنا لازم ہے"(مشارق الانوار، مؤلف: امام رضی الدین حسن صغانیؒ،۔ترجمہ و فوائد: مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی ،ص611،612)
2٭درج بلا احادیث کی مزید عارفانہ تشریح : "مقربان را بیش بود حیرانی، آپﷺ کی عمر شریف کا ہر لمحہ چونکہ قرب ِ حق میں ترقی کر رہا تھا اسلیئے گزشتہ لمحہ کی حالت اس موجودہ لمحہ کی ترقی  کے سامنے گھٹا کی سی تاریکی محسوس ہوتی تھی کہ بادل تھا جو پھٹ گیا اور چاند نکل آیا ، اسکو بھی آپ ﷺ کی ذات ِ رفیع ایک کوتاہی  سمجھتی اور توبہ و استغفار کیا کرتی تھی، پھرآپﷺ کا یہ بادل بھی کیسا چاند سے زیادہ منور بادل تھا کہ کروڑہا مخلوق کو استغفار کے مہتم بالشان ہونے کا سبق دے کر انگنت مخلوق کی ظلمتوں کو پھاڑ دیا اور دوزخ سے نکال کر جنت میں لے آئے۔ ایسے غین پر جس میں اظہار ِ بشریت اور شان ِ عبدیت کے ساتھ اتنا نورانی مقناطیسی اثر چھپا ہوا ہو، لاکھوں انوار قربان"۔(ص562 ،دُرَرِفرائد:محمد بن سیلمان الرودانی المغربی۔ترجمہ و شرح بنام : جمع الفوائد،از : مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ، ترتیب جدید :مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب، الرحیم اکیڈمی، کراچی)
3٭:  اس حدیث کے تحت امام قرطبی رحمہ اللہ نے بڑی جامع بحث کی ہے ، جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے : اس حدیث سے کسی کو یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ جسطرح عاصی و باغی شخص کا دل گناہوں کے اثر کو قبول کرتا ہے ، ویسے نبی کریم ﷺ کے دل کو بھی گناہ نے متاثر کیا ہے ۔ (العیاذ باللہ) بلکہ وہ مغفور و مکرم ہیں اور کسی چیز کے ذریعے سے ان کاکوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ "غین" (بادل کا چھا جانا) گناہ کے سبب سے نہیں ہے ۔ (المفہم ۲۷/۷)
بعض علماء نے اس حدیث کی وضاحت میں کئی اقوال بیان کئے ہیں:
۱:  چونکہ نبی ﷺ ذکر پر مداومت فرماتے تھے، پس جب کوئی وقفہ یا سہو ہوجاتا تو اس بنا پر استغفارکرتے تھے۔
۲:  آپ ﷺ شکر اور اظہارِ عبودیت کے لئے استغفار فرماتے
3:    آپ ﷺ کو جب امت کے احوال سے مطلع کیا جاتا تو آپ ان کے لئے استغفار کرتے تھے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے المفہم للامام قرطبی (۲۶/۷ ، ۲۷) شرح الابی والسنوسی علی صحیح مسلم (۱۰۳،۱۰۲/۹)
(5) سو100 آدمیوں کا قاتل سچی توبہ سے بخش دیا گیا!
بہت ہی مشہور بخاری و مسلم کی حدیث ہے حتیٰ کہ یہ قصہ عوام الناس تک میں مشہور و معروف ہےہم اس حدیث کا کچھ اقتباس پیش کرتے ہیں "(100 قتل کرنے کے بعدوہ شخص)کسی بزرگ عالم کے  پاس پہونچا اور کہاکہ:" میں نے سو خون کئے ہیں تو کیا ایسے مجرم کی توبہ بھی قبول ہو سکتی ہے( اور وہ بخشا جا سکتا ہے؟)انھوں نے کہا :ہاں ،ہاں(ایسے کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے) اور کون ہے جو اس کے اور توبہ کے درمیان حائل ہو سکے ، تو یہاں سے ایک جگہ اللہ والوں کی بستی ہے ان میں جا پڑ ارہ اور اپنی بستی (مرکز شر وفساد)میں نہ کبھی لوٹنا، وہ شخص اُس رحمت والی بستی کی طرف چل پڑا، آدھے راستہ طے کرنے کے بعد موت نے آ لیا، اب عذاب اور رحمت دونوں طرح کے فرشتے اسے لینے آ گئے ، رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ صدقِ دل سے توبہ کر چکا ہے، جبکہ عذاب کے فرشتوں نے کہا یہ سو کا قاتل مستحقِ عذاب ہے، یہ نزاع جاری تھا کہ اللہ نے ایک فرشتہ آدمی کی شکل میں بھیجا جسے طرفین نے اس نزع میں حَکم مان لیا۔ اس نے کہا دونوں بستیوں کا فاصلہ ماپ لیا جائے جس بستی کہ قریب ہو رحمت یا شر والی کے اس طرح فرشتے اسے لے جائیں،  لہذا جب فاصلہ ناپا گیا تو اللہ والوں کی بستی کو اللہ کے حکم سے قریب کردیا  گیا یوں رحمت
کے فرشتے اسے لے گئے (بحوالہ:مولانا منظور نعمانی، معارف الحدیث ،ص329،جلد5، عمر فاروق اکیڈمی ،لاہور)
اس حدیث کےشارحین نے اسپر بہت سا کلام کیا ہے جو معارف الحدیث میں اسی جگہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ ہم امام نووی ؒکا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں ٭"علماء فرماتے ہیں ہر گناہ سے توبہ کرنا ضروری ہے اگر گناہ کا  اللہ  اور بندے کے ساتھ تعلق ہے ،کسی بندے کےساتھ نہیں تو اس کے لیئے تین3 شرطیں ہیں ایک: یہ کہ وہ گناہ سے باز آ جائے دوم2: یہ کی وہ گناہ پر نادم ہو، تیسرا3: یہ عزم کرے کہ پھر کبھی اس گناہ میں مبتلا نہ ہوگا،اگر ان تین شرطوں میں سے ایک کا بھی فقدان ہوگا تو توبہ صحیح متصور نہ ہوگی ۔لیکن اگر گناہ کا تعلق کسی آدمی کے ساتھ ہے تو اس کے لیئے چار4: شرطیں ہیں پہلی تین3 شرطوں کے ساتھ چوتھی4: شرط یہ ہے کہ متعلقہ آدمی کے حق سے برات کا اظہار کرے اگر کسی کا مال وغیرہ لیا ہے تو اس کو واپس کرے اگر تہمت کا معاملہ ہے تو اس کو حد لگانے کی گنجائش عطا کرے یا معاف کرائے اگر غیبت کی ہے تو اس سے معافی طلب کرے،نیز تمام گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے اگر بعض گناہوں سے توبہ کرے تو اہلسنت کے نزدیک ان سے توبہ درست سمجھی جائے گی اور بقیہ گناہوں سے توبہ کرنا اس کے ذمہ باقی رہے گا۔ کتاب اللہ ،سنت رسولﷺ اور اجماع ِ اُمت کے دلائل توبہ کے فرض ہونے پر شھادت دے رہے ہیں"( ریاض الصالحین  امام محی الدین ابو زکریا یحیی ٰ بن شرف النووویؒ، جلد اول ، 32۔33،مترجم  محمد صادق خلیل ،نعمانی کتب خانہ،لاہور)
(6) "صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے کہ آپﷺ نے فرمایا :جنت میں سو100 درجے ہیں ہر2 دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے"۔(حادی الارواح الیٰ بلاد الافراح،علامہ ابن القیم الجوزیہ،مترجم : مولانا محمد فاروق حسن زئی صاحب ، محافل جنت،ص113،الکشاف پبلیکیشنز،کراچی)
(7) "عبداللہ بن عمرو نبیﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ذمیوں
میں سے کسی کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو  بھی نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو سو100 سا ل کی مسافت سے آتی ہے۔"( ص247،ایضاً)
(8) " آپ ﷺ نے فرمایا:" راہ ِ خدا میں جہاد کرنے والوں کے واسطے جنت میں سو 100درجے ہیں
اورہر2 دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ آسمان اور زمین کے درمیان ہے، لہذا جس وقت تم 
خدا سے دعا کیا کرو تو فردوس کی دعا کیا کرو فردوس سب جنتوں کے بیچ میں ہے اور سب سے بہتر ہے،،،،،"
(رقم الحدیث:2638،مترجم صحیح بخاری،جلد2،ص341، مذکور سابقہ)
(9)حضرت ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:جنت میں سو100درجے ہیں اور ہر دو2 درجوں کے درمیان سو100 برس کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ترمذی(الابواب المنتخبۃ، مشکوۃ،تالیف:حضرت جی ثالث مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی،مترجم: منتخب ابواب،حضرت مولانا محمد یونس صاحب مظاہری، جلد2، ص272، دارالھدٰی ،کراچی)
(10)حضرت ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:" میری اُمت کے بگاڑ کے زمانے
میں جو شخص میری سُنت اور میرے طریقے پر کاربند رہے گا اسکو سو 100شہیدوں کا ثواب ملے گا۔بہیقی
(الابواب المنتخبۃ، مشکوۃ،تالیف:حضرت جی ثالث مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی،مترجم: منتخب ابواب،حضرت مولانا محمد یونس صاحب مظاہری،جلد1،ص153،دارالھدٰی،کراچی)
٭حضرت ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں:" یعنی جس شخص نے میری امت کے بگاڑ کے وقت میری سنت پر عمل کیا تو اس کو سو100 شہیدوں کا اجر عطا ہوگا،جتنا بگاڑ سخت ہوگا اسکا مقابلہ بھی اتنا سخت ہوگا، لہذا اس شخص کو ثواب، کفار کےساتھ احیائے دین کی خاطر قتال کر کے شہید ہو جانے والے سو100 افراد کا ثواب بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہوگا۔(رقم الحدیث:176 مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد 1، ص 772، مترجم اردو:حوالہ سابق)
(11)ابوذررضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:" اے ابو ذر اگر تو صبح کو جا کر ایک آیت کلام اللہ شریف کی سیکھ لے تو نوافل کی سو100 رکعات سے افضل  ہے ، ،،،،رواہ ابن ماجہ"(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل ِ قرآن، حصہ فضائل ِ اعمال، ص299، ادارہ اسلامیات)
(12)  حضرت ابوہریرۃ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا:" جو شخص ان پانچوں فرض
نمازوں پر مداومت کرے  وہ غافلین سے نہیں لکھا جائے گا ، جو شخص سو100 آیات کی تلاوت کسی رات
میں کرے وہ اس رات میں قانتین سے لکھا جائے گا۔رواہ ابن خزیمۃ"(ایضاً)
فائدہ : صاحب ِاحیاء(امام غزالیؒ) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نقل کیا ہے کہ جس شخص نے نماز میں کھڑے ہو کر کلام پاک پڑھا اسکو ہر حرف پر سو100 نیکیاں ملیں گی اور جس شخص نے نماز میں بیٹھ کر پڑھا اسکے لئے پچاس50 نیکیاں اور جس نے بغیر نماز کے وضو کے ساتھ پڑھا اس کے لئے پچیس25 نیکیاں اور جس نے بلا وضو پڑھا اس کے لئے دس10 نیکیاں، اور جو شخص پڑھے نہیں بلکہ صرف پڑھنے والے کی طرف کان لگا کر سنے اس کے لئے بھی ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ہے۔(ص276،ایضاً)
(13) "طبرانی کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے، اور جو مجھ پر دس دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ عزوجل اسپر سو100 مرتبہ درود بھیجتا ہے اور جو مجھ پر سو دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اسکی پیشانی پر  براءۃ من النفاق وبراءۃ من النار لکھ  دیتے ہیں یعنی یہ شخص نفاق سے بھی بَری ہے اور جہنم سے بھی بَری ہے اور قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ اسکا حشر فرمائیں گے"(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائلِ درود شریف،ص12،کتب خانہ فیضی، لاہور)
٭حدیث میں آیا ہے کہ جمعہ کے دن کثرت سے مجھﷺپر درود بھیجا کرو،"کثرت کا درجہ 100 بار درود پڑھنا ہے جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے بیان کیا ہے(عدۃ الحصن الحسین : علامہ  ابن جزریؒ شافعی، مترجم و شارح :مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب،ص171،مکتبۃ الکوثر،کراچی)
(14)"علامہ سخاویؒ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضورﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے جو مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اسپر سو100دفعہ درود بھیجیں گے اور کو مجھ پر سو100 دفعہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر ہزار دفعہ درود بھیجیں گے اور جو عشق و شوق میں اس پر زیادتی کرے گا میں اس کے لئے قیامت کے دن سفارشی ہوں گا اور گواہ"(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائلِ درود شریف،ص12،کتب خانہ فیضی، لاہور)
(15) "حضرت اُم ہانی رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسولﷺ میرے یہاں تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ : میں بوڑھی اور کمزور ہوگئی ہوں کوئی عمل ایسا بتا دیجیئے کہ بیٹھےبیٹھے کرتی رہا کروں ؟ آپﷺ نے فرمایا  سبحان اللہ 100 سو مرتبہ پڑھا کرو اس کا ثواب ایسا ہے گویا تم اولادِ اسماعیلؑ سے سو100 غلام آزاد کرو ،الحمد للہ سو100 مرتبہ پڑھا کرو اسکا ثواب ایسے سو100 گھوڑوں کے برابر ہے جن پرزین کَسی ہوئی ہو اور لگام لگی ہوئی ہو انہیں اللہ تعالیٰ کے راستے میں سواری کے لئے دے دو، اللہ اکبر سو100 مرتبہ پڑھا کرو اسکا ثواب ایسےسو100 اُونٹوں کو ذبح کیئے جانے کے برابر ہے جنکی گردنوں میں قربانی کا جھول پڑا ہوا ہو اور انکی قربانی اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہو، لا الہ الا اللہ سو100 مرتبہ پڑھا کرو اسکا ثواب تو آسمان اور زمین کے درمیان کو بھر دیتا ہے اور اس دن تمھارے عمل سے بڑھ کر کسی کا کوئی عمل نہیں ہوگا، جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہو البتہ اس شخص کا عمل بڑھ سکتا ہے جس نے تمھارے جیسا عمل کیا ہو۔ابن ماجہ،مسنداحمد،طبرانی، مجمع الزوائد میں بھی اس مضمون کی روایت ام ہانی سے آئی ہے۔(منتخب احادیث،حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ،مترجم: مولانا محمد سعد صاحب،ص407،408،کتب خانہ فیضی، لاہور)
(16) "حضرت سعد رضی اللہ فرماتے ہیں ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں
آپﷺ نے فرمایا: کیا تم لوگ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے سے عاجز ہو؟ پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے پوچھا کہ ہم کس طرح ایک ہزار نیکیاں کما سکتے ہیں؟ فرمایا آدمی سو 100دفعہ سبحان اللہ کہے تو اس کے لیئے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی یا اُسکی ہزار خطائیں گرِا دی جائیں گی۔ترغیب میں ہے کہ مسلم کی روایت میں تو  اَو  ہے جسکا ترجمہ یا لکھا گیا ہے لیکن ترمذی اور نسائی کی روایت میں  واؤ  ہے جسکا ترجمہ یہ ہوگا کہ اور اُسکی ہزار خطائیں گرِا دی جائیں گی ۔واللہ اعلم(حیاۃ الصحابہ،تالیف مولانا محمد یوسف کاندھلوی، مترجم : مولانا احسان الحق صاحب،جلد3،ص323،کتب خانہ فیضی، لاہور)
٭ اس سو100 کے عدد میں کچھ خاص ہی کرشمہ ہے جب خاتون ِ جنت جگر گوشہء رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھما اپنے والد گرامی رحمۃ اللعلمین ﷺ سے گھر بار کے کام کی زیادتی کی تکان و مصروفیت کی کمی کے لئے اک غلام کی فرمائش فرماتی ہیں تو بارگاہ ِرسالتﷺ جو تحفہ عنایت ہوتا ہے وہ تسبیحات ِ فاطمہ کے نام سے مشہور ہو جاتا ہے  آپ بخوبی جانتے ہی ہیں وہ کیا ہے دربارِ رسالت سے ملے گوہر نایاب ہیں جو سو100 ہی کے عدد کی تکمیل کرتے ہیں
یعنی سبحان اللہ33 با، الحمداللہ33بار اور اللہ اکبر34 بار۔ اس تسبیح کی ہدایت ہرفرض نماز کے بعد بھی کی گئی ہے، بلکہ اس صحابی کے خواب میں بتایا گیا کہ 25 با رسبحان اللہ کہو، الحمداللہ25 با رکہو، اللہ اکبر25 با ر کہو، اور پہلا کلمہ 25 بارکہو۔ یوں بھی سو100 کا عدد پورا ہوتا ہے ۔ اس خواب کی توثیق بھی آپﷺ نے فرمائی ہے۔اور کیا عرض کروں !کہ مبتدیوں کے لئے جماعت میں جو ذکر کا صبح و شام کا ابتدائی نصاب مقرر ہے وہ بھی 100 استغفار کرنا، 100 بار درود شریف پڑھنا اور 100 بار تیسرا کلمہ ورد کرنا ہے۔یہ بھیبڑی سعادت ہے کہ متوسلین ِ جماعت کو اسی نصاب پر دوام حاصل ہو جائے۔
قول ِالیاسؒ:میواتی برادران کے نام "تم خود بھی ذکر اور تعلیم میں مشغول ہو یا نہیں ، اگر نہیں ہو تو بہت جلد اب
تک کی غفلت پر نادم ہو کرشروع کر دو۔میرے دوستو تمھارے نکلنے کا خلاصہ تین چیزوں کو زندہ کرنا ہے،
1۔تعلیم، 2۔تبلیغ یعنی تبلیغ کے لیئے باہر نکلنا اور3۔ ان کو ذکر و تعلیم کا پابند کریں۔(مکاتیب ِ حضرت مولانا شاہ محمدالیاسؒ،مرتبہ : مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ،مجلس نشریات اسلام ، کراچی) 
(17) حجۃ الوداع  کے موقع پر آپﷺ قربانی کی جگہ تشریف لے گئے اور اپنی عمر کے
سالوں کے مطابق تریسٹھ63 اونٹ اپنے دست ِ مبارک سے قربانی کئےجن میں 7،6 اونٹ اُمنڈ کر قربان ہونے کےلیئے آگے بڑھ رہے تھے ،ہر ایک زبانِ حال سے جلدی قربان ہونا چاہتا تھا
داغ جاتے تو ہیں مقتل میں پر اول سب سے
دیکھئے وار کرے وہ ستم آرا کس پر
63 کے علاوہ باقی اونٹوں کو حضرت علی کرم وجہہ نے قربان کیا کل عدد سو100 تھے۔(شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ،فضائل ِ حج، ص175،176،مکتبہ رشدیہ، کراچی)
(18)حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے 65ھ میں بیت اللہ کی تعمیر نو کی ۔ اسکی خوشی میں بہت بڑی دعوت کی جس میں سو100 اونٹ ذبح کئے۔(ص77،78،ایضاً)
٭آپﷺ کے 63 اونٹ ذبح کرنے کی حکمت اور مختلف روایات میں تعداد کے اختلاف و اضطراب پر  شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے بہت تفصیل سے وضاحت و تشریح اور روایات کی تطبیق فرمائی ہے دیکھئے:حجۃ الوداع و عمرات النبیﷺ(عربی)مترجم: مولانا یوسف لدھیانوی،ص231تا234،مکتبہ لدھیانوی،کراچی۔
٭ گو کے 100 کا عدد ہم نے نیک فال کے لیئے لیا ہے مگر اس باب میں یہ التزام بھی کیا ہے کہ  اکابر کی تمام
فضائل پر لکھی کتب کےحوالے آ جائیں ان کتب میں جہاں ترغیب کا بیان کیا گیا ہے وہاں ترھیب و تنذیر کا
اہتمام  بھی کیا گیا ہے ، لہذا فضائل ِ صدقات سے سو100 کے عدد کی جو روایت ملی وہ تبرکاًنقل  ہے۔
(18) " ایک حدیث میں ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کردے وہ اس سے بہتر ہے کہ
مرتے وقت سو100 درہم صدقہ کرے۔مشکوۃ"(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائلِ صدقات،ص76،حصہ اول،کتب خانہ فیضی، لاہور)
(19)"وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ (30)سورہ واقعہ
حضرت ابوہریرہ مرفوعا   ً بیان کرتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں سوار
سو 100 سال تک چلتا رہے گا تب بھی اسکی مسافت کو بالکل طے نہ کر سکے گا اگر تم اسکا ثبوت چاہتے ہو تو آیت " ) وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ " پڑھو"(رقم الحدیث: 4599، صحیح بخاری،مذکور ِ سابق)
٭مگر جاننا چاہیئے کہ جنت میں بھی شجرکاری ہمارے اعمال  صالحہ کی منتظر ہے اور یہ بات ہمیں اک جلیل
القدر پیغمبرؑ نے حضرت محمدﷺ کے ذریعے پہنچائی ہے آئیے مکمل روایت پڑھتے ہیں، یہ روایت کی سنگم ہے یہاں سے کئی مضامین کی شاخیں پھوٹیں گی ۔
٭" حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے کہ شب ِ معراج میں جب میری ملاقات حضرت ابراہیمؑ (جب وہ بیت معمور سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے)سے ہوئی تو انھوں نے فرمایا کہ اپنی اُمت کو میرا سلام کہہ دینا اور یہ کہنا کہ جنت کی نہایت عمدہ پاکیزہ مٹی ہے اور بہترین پانی لیکن وہ بالکل چٹیل میدان ہے اور اسکے پودے  (درخت) "سبحان اللہ والحمداللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر "ہیں (جتنے کسی کا دل چاہے درخت لگا لے) ایک حدیث میں اس کے بعد" لاحول ولا قوۃ الا باللہ "بھی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ان کلموں میں سے ہر کلمہ کے بدلے ایک درخت جنت میں لگایا جاتا ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص سبحان اللہ العظیم وبحمدہ پڑھے گا ایک درخت جنت میں لگایا جاوے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضور اقدسﷺ تشریف لے جا رہے تھے حضرت ابو ہریرہ کو دیکھا کہ ایک پودا لگا رہے ہیں دریافت فرمایا کیا کر رہے ہو؟ انھوں نے عرض کیا درخت لگا رہا ہوں ارشاد فرمایا: میں بتاؤں بہترین پودے جو لگائیں جاوے "سبحان اللہ والحمد اللہ لاالہ الا اللہ اللہ اکبر "ہر کلمہ سےایک درجنت میں لگتا ہے۔(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل ِ ذکر، حصہ فضائل ِ اعمال، ص638، ادارہ اسلامیات)
٭ان احادیث کی اسناد کی تفصیل و تحقیق مکمل1۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ نے اسی مقام پر رقم کر دی ہیں شائقین وہاں رجوع فرمائیں ، اطلاعا ً عرض ہے کہ2۔بخاری رقم الحدیث3163، کتاب الانبیاءؑ میں ملاقات کا ذکر ہے۔3۔ریاض الصالحین  امام محی الدین ابو زکریا یحیی ٰ بن شرف النوویؒ، جلد دوم ، ص278،مترجم  محمد صادق خلیل ،نعمانی کتب خانہ ،بحوالہ ترمذی سندومتن درج ہے ۔4۔دُرَرِفرائد:محمد بن سیلمان الرودانی المغربی۔ترجمہ و شرح بنام : جمع الفوائد،از : مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ، ترتیب جدید :مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب، الرحیم اکیڈمی، ص560 ،کراچی پر درج بالا متن و سند نقل کیا گیا ہے۔5۔ حادی الارواح الیٰ بلاد الافراح،علامہ ابن القیم الجوزیہ،مترجم : مولانا محمد فاروق حسن زئی صاحب ، محافل ِجنت، ص90،الکشاف پبلیکیشنز،کراچی،پر بحوالہ ترمذی رقم ہے۔6۔رقم الحدیث:2315 مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد 5، ص317اور328 ، مترجم اردو:مولانا راؤ محمد ندیم، مکتبۃ رحمانیہ، لاہور۔7۔منتخب احادیث،حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ،مترجم: مولانا محمد سعد صاحب، ص 405، کتب خانہ فیضی، لاہور، بحوالہ مسند احمد،ابن حبان، مجمع الزوائد رقم ہے۔ 8۔حیاۃ الصحابہ،تالیف مولانا محمد یوسف کاندھلوی، مترجم : مولانا احسان الحق صاحب،جلد3،ص324،کتب خانہ فیضی، لاہور، درج بالا اسناد کے ساتھ ابن ابی دنیا اور الترغیب، الہیثمی کے مزید حوالہ جات مذکور ہیں۔ 9۔معراج کی باتیں، مفتی عاشق الہی بلند شہری المدنی،ص،51،ادارۃ المعارف بحوالہ مشکوۃ المصابیح ص 1202،  ترمذی، یہاں بھی حوالہ موجوہے ۔
٭یہ ساری تگ ودو اور تفصیل اک خاص ہدف کو مدنظر رکھ کر بیان کی گئی ہے ۔ آج جنکو یہ نہیں پتہ کہ سیدھی اور الٹی بخاری کی طرف کونسی سے وہ بھی گلی گلی نوحے  پڑھتے پھرتے ہیں "ضعیف حدیث، ضعیف حدیث" حالانکہ نا انھیں مسئلہ کی اطراف کا پتا ہوتا ہے نا  علم ِحدیث میں حجت ِ دلیل کی خبر، بس اپنا راگ الاپ الاپ کر لوگوں کو بے وقوف بنانا ان حضرات کا پیشہ ہے ایسے کَور چشموں خشک مزاج سند پرستوں کی بصیرت افروزی اور چشم کشائی کے لیئے قرن ِ اول سےاس مذموم رویہ کا ثبوت پیش کرتا ہوںاس امید پہ کہ کاش یہ بھی شفا یاب ہو کر معتدل مزاج ہو جائیں گو "ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں"
(1)" سند کی پابندی اور التزام: فتنوں کے رونما ہونے کے بعد سند کی پابندی اور التزام ہوا(فتنوں سے
مراد شہادت ِ عثمان رضی اللہ عنہ ، جنگِ جمل، جنگِ صفین اور جھوٹ و بدعات کا پھیل جانا ہے) ۔چنانچہ محمد بن سیرینؒ  کا بیان ہے کہ پہلے زمانے میں لوگ سند نہیں پوچھتے تھے ، لیکن جب فتنوں کا دور شروع ہوا تو محدثین نے سند کو پوچھنا شروع کیا، کہ یہ حدیث اہل سنت کی سند سے منقول ہے، یا اہل بدعت کی پس اگر اہل سنت کی سند سے ہوتی تو قبول کرتے وگرنہ رد کرتےتھے(مقدمہ مسلم:11، باب بیان ان الاسناد من الدین،ط:قدیمی کتب خان کراچی) اس سے معلوم ہوا ابتدائی دور میں سند کی پابندی نہ تھی، بعد میں اس کی پابندی و التزام ہوا ،اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ  رضی اللہ عنہم اور تابعین میں اُصولِ توارث پر عمل تھا یہی مقدمہ مسلم سے بھی عیاں ہوتا ہے۔یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ حدیث معنعن کی بحث میں امکانِ لقاء اور مروی عنہ کے درمیان غیر خیرالقرون کے ارباب ِ فن کا لقاء کی شرط لگانا، خیر القرون (صحابہ، تابعین، رؤوس حفاظ الاخبار اور نقاد الآثار ) کےتعامل اور اُصول توارث کے سراسر خلاف ہے ، لقاء کی شرط لگانے سے احکام کی معنعن احادیث کے بیشتر حصے سے اُمت کو دست بردار ہونا پڑے گا۔اسلئے امام مسلم نے لقاء کی شرط کی تردید میں ایک کے بجائے چار لفظ  استعمال کئے ہیں ۔ (ترجمہ) اور یہ قول ۔ اللہ تعالیٰ آپ پر مہربانی فرمائیں ! سندوں پر اعتراض کے سلسلہ میں 1۔ گھڑا ہوا،2،اور نیا پیدا کیا ہوا قول ہے،3۔ اس شخص سے پہلے کوئی اسکا قائل نہیں گذراہے،4۔ اور نہ ائمہ حدیث میں سے کوئی شخص اس قول میں اسکا مؤید ہے(مقدمہ مسلم:11،ط:قدیمی کتب خان کراچی)۔ اور ابن سیرینؒ سے ہی منقول ہے: یہ علم دین ہے ، پس تم دیکھو کہ کس سے یہ دین حاصل کر رہے ہو(طبقات ابن سعد ص194،ج7،دارالفکر، بیروت)۔
لیکن بعد میں محدث مزاج محدثین نے سند کے معاملہ میں اتنی سختی کی کہ مجتہدین وحفاظِ حدیث کی انروایتوں کو جو وہ بلاواسطہ روایت کرتے ہیں، قابل ِ استدلال نہیں گردانتے۔ چنانچہ حسن بصریؒ (21ھ-110ھ/642ء-728ء) جیسے جلیل القدر، حافظ ِ حدیث، بلند پایہ مجتہد کی مرسل روایتوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، بلکہ ریح قرار دے کر رد کرتے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ امیر المؤمنین فی الحدیث، سنن الترمذی میں ان کا مذہب نو(9) جگہ (حاشیہ میں شیخ چشتی نے ان نو مقامات کی نشاندہی بھی کردی ہے)بکثرت نقل کرتے ہیں، اور اسے نجات ِ اخروی کا
سبب سمجھتے ہیں۔موصوف(حسن بصریؒ) فرماتے تھے میں چار سو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا میں تمھیں کس کس کا نام بتاؤں، کہ فلاںروایت میں نے کن کن سے سنی ہے۔
ذرا غور فرمائیں! کہ حسن بصریؒ کا مذہب جو رائے اور اجتہاد پر مبنی ہے ،وہ سبب نجات ہے ، لیکن ان کی
مرسل روایت پَرِ کاہ (مچھرکے پَر)کے برابر بھی نہیں، حالانکہ حافظ ابن حجر عسقلانی   نے ضعف کے جواحتمالات مرسل تابعی میں پیش کئے ہیں(نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر،85،مکتبہ رحمانیہ،لاہور) وہ سب مرسل صحابی میں بھی موجود ہیں بجز ضعف کے۔"(فوائد ِ جامعہ شرح عجالئہ نافعہ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، مترجم و شارح : مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہ العالی،ص54-55،مکتبہ الکوثر، کراچی)
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اُسے ، سخنوران ِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل وگر نگویم مشکل (غالب)
یہ رویہ آج کے کم علم واعظین اور پیشہ ور داعیان فرقہ واریت کا ہی نہیں رہا یہ ٹسل صدیوں پُرانی ہے لیجیئے اک اور معتبر حوالہ  !
(2)"دوسری صدی میں رواۃِ حدیث سے متعلق تالیف کردہ کتب میں امام محمدؒ کے تذکرے کو نظر انداز کرنا کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں  ہے ۔ مقتدمین کے لیئے تو اس رویے کے حق میں کچھ عذر بھی تھا کہ وہ اہل حدیث اور اہل الرائے کے درمیان برپا معرکے کے قریبی عہد میں تھے مگر محدثین کے پاس تو ایسا کوئی عذر نہ تھا ان پر تو لازم تھا کہ تحقیق اور تجزیہ کے بغیر وہ  مقتدمین کے نہج کا آنکھیں بند کر کے اتباع نہ کرتے۔المختصر فی علم الرجال  اھل الاثر: مصطلح الحدیث۔الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقۃ الاسلامی،الدکتور محمد الدسوقی،جامع قطر، مترجمین و حاشیہ نگار :حافظ شبیر احمد جامعی، ڈاکٹر محمد یوسف،ص585،ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقومی اسلامی یونیورسٹی ۔اسلام آباد)"
٭ ارے کدھر جا رہے ہیں ابھی تو بات باقی ہے وہ اس طرح کہ
تم زمانے کی بات کرتے ہو ،،،،،،،،،،،،،
دل جلانے کی بات کرتے ہو،،،،،،،،،،،
ہم ذرا آپ کو شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ کے دربارمیں لیئے چلتے ہیں جہاں آج تک ہم ملزم کے کٹہرے میں کھڑے صفائیاں پیش کر رہے تھے اور  کہاں حجتہ الاسلام شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ حدیث کی جلالت و فقاہت کا تاج مقتدمین کے سر پر رکھ  کر انھیں ہر الزام سے با عزت سرخرو فرما رہے ہیں سنیئے ذرا شیخ کیافرماتے ہیں!
(3) " کتب ِ حدیث کی جمع و تدوین سے قبل علماء ، متاخرین کی نسبت سنت ِ رسول ﷺ کا زیادہ علم رکھتے تھے
"جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ تمام احادیث صحیحہ ہر امام کو یا کسی خاص امام کو معلوم تھیں وہ خطاکار ہے اور بدترین غلطی میں مبتلا ہے، اس طرح یوں کہنا بھی غلط ہے کہ چونکہ احادیث نبویہ ﷺ کو کتب ِ حدیث میں یکجا کیا جا چکا ہے اور وہ مدون صورت میں موجود ہے اسلیئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں یہ بات اسلیئے غلط ہے کہ کتب ِ حدیث کی جمع و تدوین اس وقت عمل میں آئی جب ائمہ متبوعین(فقہاء کرام) کا دور ختم ہو چکا تھا ، ان کےعصر و عہد میں یہ کام انجام پذیر نہیں ہو سکا تھا ، تاہم ، یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ حضور ﷺ کی تمام احادیثِ موجودہ و مروجہ کتب احادیث میں موجود ہیں ، اور کوئی حدیث اس سے باہر نہیں ہے ، بفرض ِ محال اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کتب احادیث ، جملہ احادیث ِ رسولﷺ کو محیط ہے ، تو بھی کسی ایک شخص کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ان کتب میں مندرج تمام احادیث سے آگاہ ہے ۔ کوئی بھی شخص اس وصف سے بہرہ ور نہیں ۔بخلاف ِ ازیں یوں بھی ہوتا ہے کسی شخص کے پاس کتب ِ حدیث کا وافر ذخیرہ ہوتا ہے ، مگر اسکا علم ان کے مندرجات پر حاوی نہیں ہوتا۔
٭ اس کے عین بر عکس یہ حقیقت ہے کہ کتب احادیث کی جمع و تدوین سے قبل کے علماء، متاخرین کی نسبت سنتِ رسول ﷺ کا زیادہ علم رکھتے تھے اسلیئے جو احادیث نبویہ ان تک پہنچیں اور انھوں نے انکو صحیح بھی ٹھرایا ، بعض اوقات وہ ہمیں ایسے شخص کے ذریعے پہنچیں ہیں جو مجہول الحال ہے اور اس کے ثقہ یا غیر ثقہ ہونے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں یا وہ احادیث منقطع سند کے ساتھ ہم تک پہنچیں ۔ اس کا سلسلہ نقل و روایت ہی منقطع و غیر مربوط ہے ، اس بات کا بھی امکان ہے وہ احادیث سے سرے سے ہم تک پہنچی ہی نا ہوں!
حقیقت یہ ہے کہ ان (فقہاء عظام و علمائے سلف) کے مبارک سینے احادیث نبویہﷺ کے سفینے تھے اور ان میں کتب احادیث سے بھی زیادہ احادیث محفوظ تھیں اور یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے کہ حدیث کا علم رکھنے والا کوئی شخص اس کو شک و شبہ کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔"( ص29/30:رفع الملام عن الائمۃ الاسلام : شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ ۔اردو مترجم:ائمہ سلف اور اتباع سنت:غلام احمد حریری،فردوس پبلیکیشنز دھلی)
ہم اس بات کو زیادہ نہیں بڑھانا چاہتے جملئہ معترضہ کےضمن میں ہم اس وادی میں نکل آئے بس اتنی عرض ہے کہ
ایسے حضرات اپنی تشفی کے لئے ہماری برقیائی کتاب جو تین3سالوں میں  اپنی مقبولیت کے باعث کبھی ٹاپ ٹین10

سے باہر نہیں نکلی اسکا مطالعہ کریں :تصحیح ُ الخیال ، تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل الاعمال

ترجمہ و تلخیص : تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل الاعمال
مئولف : مولانا لطیف الرحمن قاسمی بہرائچی
مترجمین : مولانا سید احمد ومیض ندوی -  مولانا میر رضوان اللہ قاسمی صاحب
زیر نگرانی : حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی صاحب
زیر سرپرستی : حضرت مولانا شاہ مفتی نور الرحمن صاحب ، امیر ِ شریعہ بورڈ آف امریکہ شکاگو
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری

٭یا پھرہمارے شیخ، خلیفہء مجاز مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، مفتی محمد سعید خان صاحب کا مقالہ "علم حدیث اور اہل بدعت"(مختصر) ماہنامہ الحامد فروری2011ء، لاہور۔ اور اسکی مکمل شرح  ماہنامہ الندوہ ٭دسمبر2011ء اور جنوری2012ء ملاحظہ کیجیئے۔ غالبا ً یہ رسائل seerat.net پر بھی دستیاب ہونگے۔ شرعی و فقہی معاملات یعنی فقہ کےبارے میں ہمارے مؤقف تمسک بالقرآن و السنہ کے متعلق آپ کے گھر سے اک اور  حوالہ٭  مولانا مبشر حسین لاہوری فاضل وفاق المدارس اہلحدیث کے  مضامین:1۔"کتاب الخراج امام ابو یوسفؒ ایک تعارفی مطالعہ" "(فکرونظر جولائی 2007ء،اسلام آباد)2۔" امام ابو یوسف اور حدیث سنت سے استدلال ، کتاب الخراج کا تنقیدی مطالعہ"(فکرونظر اپریل 2008ء،اسلام آباد)3۔" امام محمد شیبانی کا استنباط احکام کے لیئے حدیث سے استدلال،کتاب الاصل کی روشنی میں ایک تنقیدی مطالعہ""(فکرونظر جولائی 2009ء،اسلام آباد) کی ہی گواہی کافی ہے اگر تعصب سے پرہیز کریں تو چشم کشا مضامین ہیں۔ آخری بات اس باب کی ہم ابن حجر مکیؒ کی تصریح پر ختمکرتے ہیں پھر لوٹ کر معارفِ حدیث جد الانبیاؑ حضرت ابراہیم ؑسے بات شروع ہوگی۔
(4)امام نووی کی الاربعین اور اس کی شرح فتح المبین لابن حجر المکی الہیثمی کے الفاظ میں:
قد اتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث فی فضائل الاعمال ،لانہ ان کان صحیحاً فی نفس الامر، فقد اعطی حقہ، والا لم یترتب علی العمل بہ مفسدة تحلیل ولاتحریم، ولاضیاع حق الغیر۔
(الاجوبة الفاضلة ص:۴۳)
یعنی فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کے جواز پر علماء کا اتفاق ہے، کیونکہ اگر وہ واقعتاً صحیح تھی تو اس کا حق اس کو مل گیا، ورنہ اس پر عمل کرنے سے نہ تو حرام کو حلال کرنا لازم آیا اور نہ اس کے برعکس اور نہ ہی کسی غیر کا حق پامال کرنا۔معلوم ہوا کہ مسئلہ اجماعی ہے، اور کوئی بھی حدیث ضعیف کو شجرہٴ ممنوعہ قرار نہیں دیتا، لیکن چند بڑے محدثین واساطین علم کے نام ذکر کئے جاتے ہیں، جن کے متعلق یہ نقل کیا جاتا ہے کہ وہ فضائل میں بھی ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے قائل نہیں ہے۔ (قواعد التحدیث للشیخ جمال الدین القاسمی ص:۱۱۶) اس پوسٹ کا مطالعہ بھی قابل تشفی ہےبحوالہ :http://raahedaleel.blogspot.com/p/blog-page.html
٭معارف ِحدیث حضرت ابراہیم ؑ: "(1) زمین جتنی بھی زیادہ قابل ِ کاشت اور عمدہ ہوگی اس قدر اس میں درخت جلد اور عمدہ اُگیں گے۔ اور پانی جتنا زیادہ میٹھا ہوگا اسقدر پھل عمدہ اور شیریں لگیں گے، زمین ِجنت میں یہ دونوں خوبیاں بدرجہ اتم ہیں مگر دارالعمل کے ساتھ اسکا ایسا تعلق ہے کہ انسان کے اعمالِ صالحہ جنکو وہ دنیا میں کرتا ہے مقبول ہو کر آسمان پر چڑھتے اور تخم بن کر زمینِ جنت میں لگتے اور پروان چڑھتے ہیں پھر جسطرح درختوں کی انواع ہزاروں اور کیفیات مختلف اور صورتیں معتدد ہیں اسی طرح اعمال ِ صالحہ بھی مختلف الاقسام اور مختلف الآثار ہیں پس جس قسم کے جتنے اعمال ہونگے اسی قسم کے اسقدر درخت لگے لگائے وہاں نظر آئیں گے"( ص560 ،د ُرَرِفرائد:محمد بن سیلمان الرودانی المغربی۔ترجمہ و شرح بنام : جمع الفوائد،از : مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ، ترتیب جدید :مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب، الرحیم اکیڈمی، کراچی)
(2)"حضور اقدس ﷺ کے ذریعے سے حضرت خلیل اللہ ؑ  نے سلام بھیجا ہے اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ جس شخص کے پاس یہ حدیث پہنچے اسکو چاہئیے کہ حضرت خلیل اللہ ؑ کے سلام کے جواب میں وعلیہ السلام  ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ جنت کی مٹی بہترین ہے اور پانی میٹھا۔ اس کے دو2 مطلب ہیں ۔ اول یہ کہ صرف اس جگہ کی حالت کا بیان کرنا ہے کہ بہترین جگہ ہے جس کی مٹی کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ مشک و رعفران کی ہے اور پانی نہایت لذیذ۔ ایسی جگہ ہر شخص اپنا مسکن بنانا چاہتا ہے اور تفریح و راحت کے لئے باغ وغیرہ لگانے کے اسباب مہیا ہوں تو کون چھوڑ سکتا ہے؟ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ زمین بہتر ہو وہاں پیداوار بہت اچھی ہوتی ہے۔ اس صورت کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ سبحان اللہ کہہ دینے سے ایک درخت وہاں قائم ہو جاوے گا اور پھروہ جگہ اور پانی کی عمدگی کی وجہ سے خود ہی نشوونما پاتا رہے گا۔ صرف ایک مرتبہ بیج ڈال دینا ہے باقی سب کچھ خود ہی ہو جائے گا اس حدیث میں جنت کو چٹیل میدان فرمایا ہے اور جن احادیث میں جنت کا حال بیان کیا گیا ہے ان میں جنت میں ہر قسم کے میوے ،باغ، اور درختوں وغیرہ کا موجود ہونا بتایا گیا ہے بلکہ جنت کے معانی ہی باغ کے ہیں اسلیئے بظاہر اشکال واقع ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ  اصل کے اعتبار سے وہ میدان ہے لیکن جس حالت پر وہ نیک عمل لوگوں کو دی جائے گی ان کے اعمال کے موافق اس میں باغ اور درخت وغیرہ موجود ہونگے۔ دوسری توجیہ بعض علماء نے یہ فرمائی ہے کہ جنت کے وہ باغ وغیرہ ان اعمال کے موافق ملیں گے۔ جب ان اعمال کی وجہ سے اور ان کے برابر ملے تو گویا یہ اعمال ہی درختوں کا سبب ہوئے۔ تیسری توجیہ یہ فرمائی گئی ہے کہ کم سے کم مقدار جو ہر شخص کے حصہ میں ہے وہ ساری دنیا سے کہیں زائد ہے اس میں بہت  سے حصہ میں خود اپنے اصلی باغ موجود ہیں اور بہت سا حصہ خالی پڑا ہوا ہے جتنا کوئی ذکر تسبیح وغیرہ کرے گا اتنے ہی درخت اور لگ جائیں گے۔ شیخ المشائخ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا ارشاد ہے کہ جو(کوکب دُرِی:یہ عربی میں ترمذی شریف کی شرح ہے)میں نقل کیا گیا ہے یہ ہے کہ : اس کے سارے درخت خمیر کی طرح سے ایک جگہ مجتمع ہیں ہر شخص جسقدر اعمالِ خیر کرتا رہتا ہے اتنا ہی اسکے حصہ کی زمین میں لگتے رہتے ہیں اور نشوونما پاتے رہتے ہیں"(شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل ِ ذکر، حصہ فضائل ِ اعمال، ص639-640، ادارہ اسلامیات)
درج بالا چند احادیث میں استغفار، اذکار اور درود شریف کے فضائل درج ہیں یہ ایک مکمل نظام و علمی فلسفہ ہے جسکی 
تشریح کچھ یوں ہے:
" نظام ِ اذکار اور ادعیہ کی غایت: یہ ہے کہ اللہ کی یاد، اللہ کا ذکر اٹھتے، بیٹھتے، سوتے جاگتے، چلتے پھرتے میں دل و دماغ میں ایسی رچ بس جائے کہ اسکی کوئی حرکت اللہ کی یاد سے خالی نہ ہو، وہ کام کرے گا " بسم اللہ "پڑھ کرکرے گا، ہر نعمت پر اسکا شکر ادا کرے گا، ہر کوتاہی اور قصور پر اسکے آگے معافی مانگے گا، حاجت کے وقت اسکے حضور میں ہاتھ پسارے گا، ہر مشکل میں اسکو پکارے گا، ہر مصیبت میں"انا لِلہ" کہے گا، کبریائی و عظمت کے موقعہ پر بے ساختہ اس کے منہ سے " اللہ اکبر " نکلے گا، ہر معاملے میں اس کے آگے ہاتھ پھیلائے گا، کوئی بری بات کان میں پڑے گی وہ " معاذ اللہ" اور " نعوذ باللہ" کہے گا،  ہر نامناسب بات پر"لاحول ولاقوۃ الا باللہ" کے الفاظ اس کی زبان پر جاری ہو جائیں گے،اٹھتے، بیٹھتے، ہر کام اور ہر بات پر " الحمد للہ" ، "سبحان اللہ"،"ماشاء اللہ"،"ان شاء اللہ"، جیسے بابرکت کلمات اسکی زبان سے ادا ہوتے رہیں گے، یہ اللہ سے اسکی محبت و تعلق کا نہایت بیّن ثبوت ہوگا۔
صوفیاء کے اُوراد و اَذکار:صوفیہ کا طریقہء سلوک اور اُوراد و اَذکار اور اشغال و اعمال کا دستورالعمل جو اصلاح ِ اعمال و احوال کا کامیاب تجرباتی طریقہء کار ہے اس نظام کا ایک حصہ ہے چنانچہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ آیہء شریفہ " وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ"﴿۸،المزمل" اور آپ اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو"  کی تفسیر میں رقطراز ہیں(فارسی عبارت کا ترجمہ)"یعنی آپﷺ اپنے پروردگار کا نام ہمیشہ یاد کرتے رہیں،ہر وقت اور ہر کام میں اور ہر عبادت کے ساتھ خواہ اسکے اثناء میں ہو،اور خواہ اس کے اول و آخر میں ،خواہ زبان سے ہو، خواہ لطیفہء قلب سے اور خواہ روح سے اور خواہ سِری ہو، خواہ خفی اور اخفٰی، اور خواہ نفس سے ہو۔خواہ دن میں ہو، خواہ رات میں،ذکر ِ لسانی سِراً ہو یا جہراً، اور چاہے پوشیدہ ہو، اور پروردگار کا نام خواہ اسم ِ ذات ہو یا اسمِ اشارہ،"ھو" سے ہو یا اسمائے حسنیٰ میں سے کسی ایک نام سے ہو، جو نام سالک کی ذات اور اسکے حال اور وقت کے زیادہ مناسب ہو، پھر اسم ِ ذات یا کلمہء طیبہ کے ضمن میں نفی و اثبات کے ساتھ،خواہ"سبحان اللہ"،" الحمد للہ" ،" اللہ اکبر "،"لاحول ولاقوۃ الا باللہ"، کے ساتھ اور دوسرے مسنون اذکار کے ساتھ ہو،اور خواہ کیفیت ِ ذکر یک ضربی ہو، خواہ دو2ضربی،یا اس سے بھی زیادہ،خواہ حبس ِ نفس کے ساتھ ہو یا حبس ِ دم کے بغیر، برزخ کے بغیر ہو،یا برزخ کے ساتھ،خواہ سہ رکنی ہویا ہفت رکنی، خواہ شرائط عشرہ کے ساتھ ہو(یعنی شّد،مد،تحت،فوق،محاربہ،مراقبہ، محاسبہ،مواعظ،تعظیم اور حرمت) یا ان شرائط وغیرہ کے بغیر دوسری خصوصیات کے ساتھ ہو، جو ماہرینِ اھل ِ طریقت کی وضع و استنباط کی ہوئی ہیں۔قرآن کہتا ہے " اگر تمہیں خود علم نہیں ہے تو نصیحت کا علم رکھنے والوں سے پوچھ لو"۔(الانبیاء۔7) اور سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کسی لمحہ
کسی دَم، غفلت نہ ہو، اور کوئی کام اور مشغلہ ذکر ِ الہی سے روکے نہیں، جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا" جنھیں کوئی تجارت یا کوئی خریدوفروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے"۔النور۔37)(عدۃ الحصن الحصین : علامہ  ابن جزریؒ شافعی، مترجم و شارح : مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب،ص 33-36مکتبۃ الکوثر،کراچی)
فصل:آدابِ ذکر میں:علماء نے کہا ہے کہ: (1) مناسب یہ ہے کہ اللہ کا ذکر کرنے والا جس جگہ ذکر کرے وہ پاک صاف اور خالی ہو،تاکہ پوری توجہ سے اللہ کا ذکر کیا جا سکے۔
(2) اور ذاکر(آداب دعاء میں) ذکر کی ہوئی صفات سے آراستہ ہو۔
(3) ذکر کرنے والے کا منہ پاک  صاف ہو، اور اگر منہ میں کسی بوُ ہو تو مسواک سے دور کرے۔
(4) اور اگر کسی جگہ بیٹھ کر ذکر کرے تو قبلہ رخ ہو کر بیٹھے۔
(5) عاجزی و انکساری ، اطمینان و وقار اور دلی توجہ کے ساتھ ذکر کرے۔
(6) اور جو بھی ذکر کرے اس کے الفاظ پر غور کرے، اسکے معنی و مطلب کو سمجھے۔
(7) اور اگر کسی ذکر کے معنی معلوم نہ ہوں تو اسکے معانی  پوچھ لے۔
(8) اور تعداد بڑھانے کی خاطر جلدی پڑھنے کی حرص نہ کرے۔اسلیئے علماء کے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ"لا الہ الا اللہ" میں آواز کو کھینچے۔
(9) ہر وہ ذکر جس کا شریعت میں حکم ہے، واجب ہو، یا مستحب ،جبتک اسے زبان سے ادا نہ کیا جائے اور خود سُن نہ لے، اس کا اعتبار نہیں،دل میں سوچنا کافی نہیں۔
(10) سب سے افضل ذکر قرآن پڑھنا ہے، ان مواقع کے سوا جہاں دوسرے اذکار کا حکم دیا گیا ہو۔
(11) ذکر کی فضلیت "سبحان اللہ"،"لا الہ الا اللہ"،" اللہ اکبر "، کہنے میں منحصر نہیں ، بلکہ ہر کام میں اللہ کی
اطاعت کرنے والا، اللہ کا ذکر کرنے والا ہے۔
(12) جب بندہ رسول اللہﷺ سے منقول دعائیں صبح و شام مختلف احوال و مختلف اوقات میں ، رات دن پابندی
سے پڑھتا ہے تو وہ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتوں کے زمرے میں داخل
ہو جاتا ہے
(13) اور مناسب یہ ہے کہ جس شخص کا کوئی وظیفہ رات یا دن میں یا نماز کے بعد یا اس کے سوا کسی اوروقت میں
مقرر ہو اور وہ اس سے چھوٹ جائے تو اسکا تدارک(قضا) کرے،اور جب ممکن ہو سکے پڑھے، اسے بالکل نہ
چھوڑے تاکہ اسکی پابندی کی عادت برقرار رہے،اور اسکی قضا میں سستی نہ کرے۔(ص173-174،ایضاً)


٭ اسی سلسلے کی اک اہم کڑی ہمارے حضرت حافظ محمد موسیٰ بھٹو نقشبندی دامت برکاتھم (مدیر :ماہنامہ بیداری اردو/سندھی)کی کتاب "نفس اور مادیت کے خلاف معرکہ آرائی میں ذکر کا کردار" ہے ۔ جسکے چیدہ چیدہ عناوین ہم  نذر ِ قارئین کرتے ہیں :      (1)ذکر قرآن و احادیث کی روشنی میں
(2) نفس اور مادیت کے خلاف معرکہ آرائی میں ذکر کا کردار
(3) ذکر کے ذریعہ انسانی شخصیت کے ہولناک خلا کا پُر ہونا
(4) خیالات کے بے لگام گھوڑے کو ضابطہ میں لانے کا ذریعہ
(5) ذکر اندر کے مگرمچھوں کو مات کر نے کا ہتھیار
(6) ذکر مادی حسن پر فدا ہونے سے بچاؤ کی صورت
(7) ذکر سے ظرف میں وسعت کا پیدا ہونا
(8) ذکر اللہ سے ملاقات کو غالب کا ذریعہ
(9) ذکر جنسی تلاطم میں حد اعتدال پیدا کرنے کا طریقہ
(10) ذکر دماغ کو نور کے اجزاء سے بہرور کرنے کی راہ
یہ تو چند ابتدائی صفحات کا اجمالی سا خاکہ ہے وہ بھی نامکمل اصل کتاب اس اہمیت کی حامل ہے کہ ہر فکر مند شخص کے لئے قابل ِ مطالعہ ہے جو اللہ سے ملاقات کا امیدوار ہے۔
کتاب  حاصل کرنے کے لئے اس پتہ پر رجوع کریں :سندھ نیشنل اکیڈمی ٹرسٹ 400بی لطیف آبادنمبر4۔ حیدر آباد۔

تیسرا باب
درختوں کا مقدس جہان:احقر نے عرض کیا تھا کہ حدیثِ حضرت ابراہیمؑ اک سنگم ہے۔ اس سے کئی ندرت آمیز مضامین برآمد ہونگے ، طوبی سے مراد جب صحیح حدیث سےایک درخت بھی قرار پایا تو اب ذرا  درختوں اور نباتات ِ قرآنی کی وادی کی مختصر سی سیر کر آئیں ، لفظ " شجر" قرآن میں تقریباً 26چھبیس بار آیا ہے، جو ترغیب  و ترھیب کے لیئے بھی استعمال ہوا ہے اورتبشیر و تنذیر کے لئے بھی،نخل 13 تیرہ  مرتبہ آیا ہے،اور بھی نباتات کا ذکر ہے، یوں اس شجر کا بھی تذکرہ بنتا تھا   جسے شجرۃ طیبۃ ، کلمہ طیبہ کہا گیا، اس شجرہ  مبارکۃ زیتونہ  کا بھی ذکر ضرور ہوتا، شجر آدم ؑکے بنابھی داستان مکمل نہیں ہوتی ،اور سدرة المنتهى کی عظمت کے بناء بھی مضمون کی عظمت ادھوری ہے۔اُن درختوں کی یاد بھی آتی ہے جو قبل از نبوت بھی سرکارِ دوعالمﷺ کو جھک جھک کے سلام کرتے تھے۔ اور اُس کھجور کے تنے کو کیسے بھول جائیں جو اپنے محبوب رحمۃ للعلمینﷺ کی جدائی میں اسطرح ہچکیاں مار کے رویا کہ پوری مسجد نبوی گونج اُٹھی۔مگر ہم سردست ایسے دو مقدس درختوں کی بات کرتے ہیں جنکا تعلق دنیا سے ہے(1) وادئ ایمن کے برکت والے ایک درخت کی جسکے ذریعے اللہ تعالی حضرت موسیٰ کلیم اللہ سے ہم کلام ہوئے۔ (2) اس مبارک درخت کی جسکے نیچے بیعت ہونے  والے ہمیشہ ہمیشہ اللہ رب العزت کی رضاو خشنودی اپنے دامن میں سمیٹ کر لے گئے۔
(1)" فَلَمَّآ اَتٰىہَا نُوْدِيَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَيْمَنِ فِي الْبُقْعَۃِ الْمُبٰرَكَۃِ مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنْ يّٰمُـوْسٰٓي اِنِّىْٓ اَنَا اللہُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ﴿30﴾القصص"
ترجمہ :" پھر جب موسیٰ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں اس وادی کے دائیں کنارے پر برکت والی زمین کے ٹکڑے سے
ایک درخت سے نداء کی گئی کہ اے موسیٰ ! بے شک میں ہی اللہ رب العلمین ہوں۔"
بر سرسبیل ہم نے یہاں صرف اسکا تذکرہ  کرنا ہے اسکی تفصیل میں نہیں جانا، بقول پیر ذوالفقار مجددی نقشبدی صاحباپنے سفرنامہ کوہ طور میں اس درخت کی زیارت کی ہے۔ اک جگہ مولانا منظور نعمانی نے بطور تمثیل اس درخت کا تذکرہ کیا ہے وہ نذر قارئین ہے "قرآن مجید میں ہے کہ  اللہ تعالیٰ نے طُویٰ کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسیٰ ؑ کو اپنا کلام سُنوایا تھا کتنا خوش قسمت تھا وہ بے جان درخت جسکو حق تعالیٰ نے اپنا کلام سنوانے کے لئے بطور آلہ کے استعمال فرمایا تھا۔جو بندہاخلاص و احترام کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجرہء موسوی والا شرف نصیب ہوتا ہے، گویا وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے کلام ِ مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے۔حق یہ ہے کہ انسان اس سے آگے کسی شرف کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔( معارف الحدیث ،ص74،جلد5، عمر فاروق اکیڈمی ،لاہور)
(2) " لَقَدْ رَضِيَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِيْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّكِيْنَۃَ عَلَيْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِيْبًا﴿18﴾ الفتح "
ترجمہ:" بے شک اللہ ایمان والوں سے اس وقت راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے ،
سو اللہ جانتا تھا جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، پس اللہ نے ان کے دلوں پر طمانیت نازل فرمائی ، اور ان کو عنقریب آنے والی فتح کا انعام دیا"
٭امام اہلسنت مولانا حضرت عبدالشکور لکھنویؒ تحریر فرماتے ہیں "غزوہ حدیبیہ: حدیبیہ ایک مقام کا نام ہے پہلے اس
نام کا ایک کنواں اس مقام میں تھا رسول خداﷺ بغرض عمرہ مکہ معظمہ جانا چاہتے تھے اس مقام میں پہنچ کر کافروں
نے مزاحمتکی کہ آگے نہ بڑھیئے۔ رسول خداﷺ نے حضرت عثمان کو معہ چند اصحاب کے بطور سفارت کفار ِ قریش کے پاس بھیجا کفار نے ان  صحابہ کو قید کر لیا یہ آنحضرتﷺ کو بہت ناگوار گزرا اور آپ نے ارادہ جہاد کر دیا۔ تقریباً پندرہ سو1500 صحابہ کرام آپ کے ہمراہ تھے سب سے آپ نے ایک درخت کے نیچے بیعت لی اس بیعت کا نام بیعت الرضوان ہے  ان بیعت کرنے والوں  کےبڑے فضائل ہیں۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ تم بہترین اہل زمین ہو واقعی یہ بیعت بڑی جان نثاری کی بیعت تھی  سب نے  اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم میدان جنگ سے بغیر فتح کئے واپس نہ جائیں گے یا سب یہیں جان دے دیں گے۔ الغرض موت کی بیعت تھی،،،،،،جو مسلمان اس غزوہ میں شریک تھے ان کی بے نظیر فضیلت بیان فرمائی گئ ہے خداتعالیٰ فرماتا ہے:" لَقَدْ رَضِيَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ " بہ تحقیق اللہ راضی ہوگیا مسلمانوں سے جب کہ وہ بیعت کر رہے تھے آپ کے ہاتھ پر (اے نبی) درخت کے نیچے۔"(سیرۃ الحبیب الشفیع من الکتاب العزیز الرفیع،ص94-95،المکتبۃ العربیہ،لاہور)۔
٭ گو  مضمون کے شروع میں جنت کے درختوں کی بات ہوئی تھی مگر حدیث حضرت ابراہیمؑ ہمیں پھر شوق دلاتی ہے کہ چشم ِ تصور میں اُن درختوں کا دیدار کریں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، کسی کان نے سنا نہیں،کسی کے دل میں انکا خیال گذرا نہیں،ہاں الصادق والامینﷺ کی زبان   ِ برحق نے انکی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔
(1) "مجاہدؒ روایت کرتے ہیں رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جنت ِ عدن کے درخت اپنے ہاتھ سے لگائے جب وہ مکمل ہوگئ تو اس کو بند کیا  اب ہر سحری کے وقت کھولی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر کرتے ہیں تو وہ کہتی ہے (قد افلح المومنون) کام نکال لے گئے مومن یعنی (مومنین کامیاب ہوگئے)""۔( حادی الارواح الیٰ بلاد الافراح ، علامہ ابن القیم الجوزیہ،مترجم ، ص181،حوالہ سابق)
(2) بخاری و مسلم میں ابوسعیدسے روایت ہے کہ حضرت ﷺ نے فرمایا کہ مقرر بہشت میں ایک درخت ہے اچھے پَلاؤ گھوڑے تیز قدم کا سوار سو100 برس چلے اس کو تمام نہ کر سکے۔(ف) مقدسیؒ نے کہا یہ درخت سدرۃ المنتٰہی ہے جسکے بیر مٹکے کے برابر اور پتے ہاتھی  کےکان برابر ہیں بعضے اُس کو طوبٰی کہتے ہیں"۔"۔(رقم الحدیث
2008،مشارق الانوار، مؤلف: امام رضی الدین حسن صغانیؒ،۔ترجمہ و فوائد: مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی خلیفہ
حضرت سید احمد شہیدؒ۔ مرتب: حوالہ سابق)
(3)ایک روایت میں ہیں کہ ام ہانی کہتی ہیں  کہ  فرمایارسول اللہﷺ،،،،،،،،،،(جنت کے) درخت نور کے ہیں"
(مسند اامام اعظم امام ابوحنیفہؒ، مرتبہ: شیخ علامہ محمد عابد سندھی،مترجم: مولانا احسن نانوتوی،
ص 429،                             ادارہء نشریات ِ اسلام، لاہور)
(4)" حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺنےفرمایا: جنت کاکوئی درخت ایسا نہیں جسکا تنا سونے کا نہ ہو"(رقم الحدیث:2337 جامع ترمذی،مترجم : مولانا فضل احمد صاحب، ص87، جلد2، دارالاشاعت، کراچی)
(5) " مجاہد فرماتے ہیں کہ ،،،،،،،جنت کے درختوں کی جڑیں سونے اور چاندی کی ہیں اور اسکی ٹہنیاں موتیوں اور زبرجداور یاقوت کی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جنت کے درختوں کی جڑیں موتیوں  اور سونے کی ہونگی اور اسکے اوپر پھل ہونگے۔"۔( حادی الارواح الیٰ بلاد الافراح،علامہ ابن القیم الجوزیہ،مترجم ، ص258-259،حوالہ سابق)
چونکہ حدیث ِ ابراہیمؑ میں جنت کو آباد کرنے کی ترغیب دی گئی تھی سو درج بالا یہ نہایت مختصر بیان کیا کہ  وہ کس شان کے درخت ہونگے۔مزید تفصیلات بھی فراہم کی جاسکتی ہیں مگر یہاں سے مجلس کا پہلو بدلتے ہیں۔ یعنی تصویر کا دوسرا رخ ،اس ربط و حکم و ترغیب کی جانب توجہ مبذول کریں تو یہ نکتہ  ہمیں  اپنے درج بالا مضمون سے لازم و ملزوم سا لگتا ہے۔
٭ اصل بات کہنے کی یہ  ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے وہ دین پیش کیا جس میں صرف  "عبادت"  کسی
ایک جسمانی طریقہ کا نام نہیں اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ، مگر یہاں اصلاح آدمیت کے ساتھ فلاح انسانیت کی بات
بھی ہے، تعمیرِ عبادت گاہوں کی ذمہ داری  اور نظم نسق بتلایا تو ، تعمیر معاشرہ کے صحت مندانہ قواعد بھی وضع کیئے۔
جبھی تو "الدین القیم " کو" دین رحمت " بھی کہا گیا ہے۔ بادیہ نشین صحرائی باسیوں کوآپﷺ نے ایسا مثالی متوازن معاشرہ تشکیل فرما کر دیا کہ جس کے محاسن آج کی متمدن دنیا اپنا  کرفخر کرتی ہے ، مگر ہم اپنی روایات کو ایسے بھولے ہیں کہ بھولے سے بھی یاد نہیں ہم کس اُوج ثریا پہ سرفراز تھے۔شہزاد احمد کہتے ہیں
لُٹا ہے قافلہ ء آگہی دوراہے پر
زمانہ ساز تو کیا خود شناس بھی نہ رہے
آئیے حدیث ِ ابراہیم (آبادیء جنت ) کی طرح ، اس دنیا پر نظر کریں جس میں ہم سانس لے رہے ہیں اسکی آبادی کی  ہمیں کیا  ہدایات ملیں تھی۔
(1) با ب کا عنوان ہے" اگر ایسی  کاشت کی جائے یا درخت لگایا جائے جس سے لوگ کھا کر فائدہ اُ ٹھائیں تو ایسی کھیتی وغیرہ بہت فضیلت رکھتی ہے۔ لیجیئے  فرمان ِ نبویﷺ: حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے اور پھر اس درخت یا کھیتی سے پرندے یا انسان یا چوپائے کھاتے ہیں تو بونے والے کے لئے یہ خیرات(صدقہ) ہوتی ہے(حدیث نمبر 2195: صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 2 ، ص66،مکتبہ العربیہ لاہور)
(2) صحیح مسلم  میں بھی اسکے ہم معانی احادیث آئی ہیںرقم الحدیث:3945:"جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ﷺنے فرمایا کہ کوئی ایسا مسلمان نہیں جو بووے کسی درخت کو مگر کہ جو چیز کہ اس سے کھائی جاوے گی سو اس کے لئے خیرات ہوگی اور جو اس میں سے چوری  کیاجاویگا خیرات ہوگی اور نہ نقصان کرے گا اس درخت سے مگر کہ مالک کے واسطے خیرات ہوگی(بحوالہ: مشارق الانوار،رقم الحدیث943،مترجم ::  مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی)
صحیح مسلم  کی دوسری حدیث کا ہم  صرف نمبر درج کرتے۔رقم الحدیث 3946
(3)حتی کہ درخت لگانے کی اس قدر تاکید کی گئ کہ ایک   بارآپﷺنے حکم فرمایا"حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر قیامت آجائے اور تمھارے میں کسی کے ہاتھ میں کھجور کا پودا ہو (جسکو لگا رہا ہو) تو اگر وہ اس پر قادر ہو کہ قیامت سے پہلے پہلے اس کو لگا دے تو ایسا ضرور کر لے۔الاحادیث الصحیحہ،ص11۔ج1"۔
(بحوالہ:شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل تجارت، ص88، مکتبہء خلیل، لاہور )
ہماری قابض مقتدر اشرافیہ نے ہر تباہی و تنزل کا سبب علماءکرام کو گرداننا اپنا وطیرہ بنا کر رکھا  ہےذرا ملاحظہ کیجیئے اس مدینیت سے متعلق احکام(جو مقتدر و قابض اشرافیہ کے لئے خاص بیان کئے گئے تھے) کی شرح علماء راسخین نے کیا کی ہے ۔
 سب سے بڑی بات کہ  صحیحین میں ترجمۃ الباب(باب کا عنوان) ہی  درخت لگانے کی فضلیت پر رکھا گیا ہے۔
٭"   مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی خلیفہ حضرت سید احمد شہیدؒ، امام رضی الدین حسن صغانیؒ، کی کتاب ،   مشارق الانوار،
رقم الحدیث 943، صحیح مسلم کی حدیث پر حاشیہ رقم فرماتے ہیں:حدیث میں درخت لگانے کے ثواب کا بیان ہے کہ اس کے پھل کھانے  میں اور اس کے پھل وغلہ چُرا جانےمیں اور کسی طرح درخت کے نقصان کرنے میں درخت والے کو خیرات کرنے اور راہِ خدا میں کر دینے کے برابر ثواب ہے۔معلوم ہوا کہ درخت لگانا خواہ باغوں میں خواہ راہوں میں مستحب ہے کہ اسکا ثواب مُدتوں تک باقی رہتا ہے اور اگر نیت ہو خلقت کو نفع رسانی کی تو وہ سب سے بہتر ہے "(ص303، نور محمد کارخانہء تجارت کتب، کراچی)۔
٭مفتی رفیع عثمانی صاحب  ہماری اس کوتاہی پر متنبہ فرماتے ہیں " ان روایات میں پودے لگانے  کی فضلیت اور بہت ہی عظیم اجرو ثواب کا بیان ہے ان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ کتنا آسان خوشگوار صدقۂ جاریہ ہے مگر افسوس کہ ہم لوگ اس کو اتنی بھی اہمیت نہیں دیتے جتنی مغربی غیر مسلم ممالک میں دی جاتی ہے"(درس مسلم، جلد2، ص118،ادارۃ المعارف، کراچی)
٭  عظیم داعئ  اسلام  و قرآن مولانا عبدالکریم پاریکھؒ، (خلیفہ مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ)  اپنے قیمتی تآثرات یوں سپرد ِ قرطاس  فرماتےہیں: "صدقہ  کی کئی قسمیں ہیں : پیسہ دیجیئے، کھانا کھلا دیجئے، کپڑا پہنا دیجئے،کسی کا قرض ادا کردیں، کسی کا علاج کر ادیں، یا کوئی اور انسانی ضرورت ہو تو صدقہ اور خیرات کیجیئے،لیکن اس حدیث(بخاری والی) میں رسول اللہﷺ نے درخت لگانے اور کھیتیاں آباد کرنے کو بھی صدقہ بتایا ہے اور شجر کاری کرنے اور کاشت کاری کرنے کی ترغیب دی ہےکہ کوئی انسان درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے اس سے کوئی انسان یا پرندہ فائدہ اٹھاتا ہے تو درخت لگانے والےکھیتی کرنے والے کے نامۂ اعمال میں صدقہ کرنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔
آج کے زمانہ میں حکومتوں نے بھی شجرکاری کے بڑے بڑے لمبے پلان بنائے ہیں اور شجرکاری پر کروڑوں روپیہ خرچ
کرتے ہیں ، جنگلے لگاتے ہیں، اس میں درخت کے بیچ بوتے ہیں، لاکھوں درختوں کے پیسے سرکاری خزانہ سے دیئے جاتےہیں مگر دس پانچ ہزار درخت بھی نہیں لگ پاتے ہیں۔حدیث پاک میں حضورﷺ نے امت کو نصیحت کی ہے کہ اہلِ ایمان شجرکاری(درخت لگانے) اور کھیتی و کاشت کاری کی طرف توجہ کریں یہ ان کے لئے صدقہ کرنے کا ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوگا۔ گھروں میں درخت لگائے، راستوں کے آس پاس لگائے، کھیت کھلیانوں میں یا جو مناسب  جگہ ہو وہاں درخت لگائے۔ ایک زمانہ میں مسلمانوں نے الحمدللہ اس پر عمل کیا ہے، ہندوستان میں جتنے نیشنل ہائیوے NATIONAL HIGHWAY  بڑے بڑے راستے ہیں ان پر مسلم بادشاہوں نے شجرکاری کروائی ہے جس سے مخلوق کو چھاؤں بھی ملتی ہے۔ بہت سے انسانوں اور پرندوں کو غذا کا سامان بھی ملتا ہے۔
اس حدیث پاک کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہندوستانی مسلمان اس طرف توجہ کریں اور ایک مسلمان زندگی میں صرف
ایک درخت لگائے تو ہندوستان میں 22کروڑ مسلمان ہیں پورے ملک میں 22 کروڑ درخت ان کے ہاتھوں سے لگ
سکتے ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ اس میں سے کچھ اُگ آئیں گے اور کچھ نہیں اُگ سکیں گے، کچھ جانور وغیرہ کھا جائیں گے کچھ اور کسی طرح ضائع ہو جائیں گے ۔ پھر بھی ایک قابل ِ لحاظ اور بڑی تعداد میں لگائے ہوئے درخت باقی رہ جائیں گے اس لئے مسلمانوں کو شجر کاری اور درخت لگانے کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیئے۔"(تعلیم الحدیث،ص279-280، المیزان ، لاہور)
٭ مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی نے  بھی اپنی کتاب ترجمان الحدیث(زم زم  پبلیشر ، کراچی)ص175 پر اسی قسم کے احساسات کی ترجمانی کی ہے، اگر ہم سب مسلمان درج بلا احادیث اور علماء کرام کی ان ترغیبات کو سامنے رکھتے تو آج چشم ِ تصور میں مجید امجد کا یہ  شعر چھا جا تا !
دنیا میں جس کو کہتے ہیں گاؤں یہی تو ہے
طوبیٰ کی شاخ سبز کی چھاؤں یہی تو ہے
٭حضورﷺ نے خود انسانوں  کی، کبھی اعمال کی تمثیلات درختوں سے دیں ہیں مثلاً ایک روایت ملاحظہ ہو " امام محمدؒ شیبانی فرماتے ہیں : امام مالکؒ نے ہمیں خبر دی، کہ ہم سے روایت کیا عبداللہ بن دینار رضی اللہ عنہ نے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ایک درخت ہے جسکا پتہ نہیں گرتا اور وہ مسلمانوں کی طرح ہے (کہ مومن کسی حالت میں ایمان نہیں چھوڑتا) مجھ کو بتلاؤ وہ کونسا درخت ہے؟ عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ لوگ  اپنا فکر جنگلی درختوں میں دوڑانے لگے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ،مگرمیں اس کے بیان کرنے سے شرمایا، لوگوں نے کہا یا رسول اللہﷺ آپ ہی بتلائیے: آپﷺ نے فرمایا کھجور کا درخت ہے۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں میں نے (والد) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا کہ میرے دل میں یہی آیا تھا، تو
حضرت عمر نے فرمایا بخدا  اگر تم بتلا دیتے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند تھا کہ مجھے بھاری خزانہ ملے"(موطا امام محمد، ص 521 ،مترجم: حافظ نذر احمد،اسلامی اکادمی،لاہور)
٭ مولانا جعفر شاہ پھلواری نے اہل سنت و اہل تشیع کی جو ہم معانی احادیث جمع کی ہیں   اس کتاب" مجمع البحرین(ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور)کے صفحہ 100پر دونوں مکاتب ِ فکر کی  درج ِ بالا روایت سے ملتی جلتی روایات نقل کی ہیں۔
٭ ایسی ہی اک  اہم تمثیلی روایت نذر ِ قارئین ہے :"بخاری و مسلم میں جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرتﷺ نے فرمایا کہ مومن کی مثال بالی کی سی ہے کہ اسکو ہوا ہلاتی ہے تو کبھی اٹھتی ہے اور کبھی گرتی ہے اور کافرکی مثل صنوبرکے مثل ہے کہ ہمیشہ کھڑا رہتا ہے یہانتک کہ جڑ سے اُکھڑ جائے"۔ف: صنوبر کا درخت سخت ہوتا ہے ہوا سے کم جھکتا ہے اور اگر سخت ہوا چلے تو جڑ سے اُکھڑ جاتا ہے جیسے تاڑ او ر کھجور کا درخت۔ خلاصہ مطلب یہ کہ مومن ہمیشہ بلا مصیبت میں گرفتار رہتا ہے تو اس کے گناہوں میں تخفیف ہو جاتی ہے اور کافر کو مصیبت کم ہوتی ہے اور اگر ہوئی تو ثواب سے محروم ہے یعنی مومن کو لازم ہے کہ رنج و مصیبت سے نہ گھبرائے اس کو خدا کا احسان سمجھے اور اپنے گناہوں کا کفارہ"۔(رقم الحدیث 1989،مشارق الانوار، مؤلف: امام رضی الدین حسن صغانیؒ،۔ترجمہ و فوائد: مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی ص644، حوالہ سابق)
کبھی آپ ﷺ وضو کے لئے کبھی نماز کےلئے بھی اشجار سے استفادہ کر کے براہ ِ راست صحابہ کرام کو تعلیم دیتے تھے۔ اس سے آپ ﷺ کی جمالیاتی حس کی نزاکت و ذوق کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
اسیطرح  ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے :"سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو شخص سخی ہو گا اس کی ٹہنی پکڑے گا ، پس وہ ٹہنی اس کو نہیں چھوڑے گی، یہاں تک کے اس کو جنت میں داخل کر دےگی۔ اور بخیلی
دوزخ میں ایک درخت ہے اور جوشخص بخیل ہوگا  اس درخت کی ٹہنی پکڑے گا۔پس وہ ٹہنی اس کو نہیں چھوڑے گی، یہاں تک کے اس کو دوزخ میں داخل کر دےگی۔" علامہ ملا علی القاری المحدث فرماتے ہیں:
٭ السخاء شجرۃ : کشجرۃ فی الجنۃ: شاید جنت کے ساتھ مشابہت اس کی عظمت اور زیادہ ٹہنیوں اور شاخوں کی وجہ سے ہے۔ یہ بھی ممکن ہے سخاوت کی صورت جنت میں درخت کی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ دنیاوی درختوں کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ درخت سخاوت کا ہے جسکی جڑیں جنت میں ہیں اور اس کی شاخیں دنیا میں ہیں  ،جس نے دنیا میں اسکا بعض لے لیا وہ اس کو آخرت میں جنت کی طرف پہنچا دے گا۔ (رقم الحدیث:1886 مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد4، ص555 ، مترجم اردو: حوالہ سابق)
٭ یہاں اک بات مزید قابل ِ غور ہے کہ آپ ﷺ مخلتف اوقات میں متفرق اشجار کی تمثیلات پیش فرماتے ہیں ، اس نکتہ سے دل میں یہ خیال آیا کہ آج کی نوجوان نسل اپنے ارد گرد لگے درختوں کی حفاظت کا ادراک بھی رکھتی ہے کہ نہیں ؟  اور ادراک تو بعد کی بات ہے کیا انُکی پہچان بھی رکھتی ہے اشجار کے ناموں ہی سےواقف ہے؟ اس سوال کا جواب افسوس سے نفی میں ہی ملتا ہے۔یہاں افضل توصیف صاحبہ کا یہ فکر انگیز اقتباس پڑھیں:" مگر ایک اور  بات کہنا میں بھول گئی پنجاب کے پرانے درخت ،،، ککراں، پھلاہیاں، بیریاں،پیپل ، ٹاہلیاں ، نماں، دھریکاں ،، ختم ہو رہی ہیں ۔اور پنجاب کے وہ پرانے پیپل ، وہ چھتناربڑاوبروٹے جنکی چھاؤں میں چولیں اور ڈیرے لگتے تھے،  انہیں کسطرح محفوظ کیا جائے؟(گزرے تھے ہم جہاں سے"مشرقی پنجاب،انڈیا" کا سفرنامہ،ص118،میاں گوہر علی ٹرسٹ، لاہور) یہ محترمہ نے مشرقی یعنی انڈین پنجاب کی بات کی اگر ہم پاکستانی پنجاب کی بات کریں تو اس سےبھی بدتر حالات ہیں ، آپ ہماری باتوں میں بے شک نا آئیں ،صرف گوگل سرچ انجن میں " پنجاب کے درخت" لکھ کر سرچ کریں ایسی ایسی ہوش ربا اور خطرناک بے ثمری کی پُر حقائق خبریں نظر آئیں گے  کہ الامان والحفیظ ! شیشم کےدرخت کو نوے کی دہائی سے کیڑا لگا ہے ، فرنیچر کی صنعت روبہ زوال ہے ، چھانگا مانگا کا جنگل عدم توجہی اور قبضہ مافیا کے ہتھے چڑھ کے سُکڑ رہا ہے، زیادہ دور کیوں جائیں  ، جڑواں شہریوں کے باسی جانتے ہیں، گرین بیلٹ پر تجاوزات اہل حکام کی ملی بھگت سے جاری ہیں۔  اسلام آباد کے سیاحتی مقام ،فارسٹ لینڈ اور نیشنل پارک کی زمین پہ لگژری ہوٹل ایک طاقت ور حاکم کا کارنامہ ہے۔ہم جڑواں شہر وں کے رہنے والے جانتے ہیں 2000ء سے پہلے پہلے  راولپنڈی کا "لیاقت باغ" اپنے دیسی گلاب ، موتیا ، چنبیلی اور رات کی رانی کے پھولوں کی مہک سے شہر کی مانگ میں سندور کی طرح مہکتا تھا مگرکیا کیجیئے ،کچھ قدرتی آفات نے اورکچھ ہمارے بے ذوق منتظمین نے اس دلکش مہک دار قطعہ کو اجاڑ دیا ، گو بڑا لیاقت باغ باقی ہے مگر ہم اک لیڈر کے آسرے پہ اپنے مہکتے چہکتے چھوٹے لیاقت باغ سے محروم ہو گئے اور نہ ہی بڑے لیاقت باغ میں پھولوں کی وہ  بھینی بھینی مہک ہے جوچھوٹے لیاقت باغ کا طرۂ امتیاز تھی۔ پریڈ گراؤنڈ نے اک بڑے جنگل کا صفایا کردیا۔ کراچی کے سمندر کے ساحلی جنگلات اسقدر تیزی سے ختم  ہو رہے ہیں کہ کئی جزیرےان جنگلات کے کٹ جانے سے زیر ِ آب آ چکے ہیں۔ اور تو اور ایندھن کے لئے شمالی علاقہ جات میں درختوں کی بے دریغ کٹائی  ، پہاڑوں کو برہنہ کئے جا رہی ہے۔ اور یہ برہنگی ہر سال ہم سے انتقام لیتی ہے کبھی دریاؤں کے منہ زور پانیوں کا راستہ نہ روک کر ، کبھی بے رحمانہ سنگ باری (لینڈ سلائیڈنگ) کر کے ہزراوں کی جان لے کراپنے غیض و غضب کا اظہار کرتی ہیں ، حضرت انسان پر درختوں کی کٹائی کی فرد ِ جرم عائد کرتے ہوئے! مگر کیا قانون ہے کہ ٹمبر مافیا کے سرغنہ ہی ایوان ِ اقتدار میں براجمان ہیں۔ ہر کٹتا ہوا درخت اک نوحہ پڑھتا ہے جسے پروین شاکر اپنے قلم سے لکھ گئی۔
اس بار جو ایندھن کے لئیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
آنحضرتﷺ نے درختوں کی حفاظت کا اسقدر اہتمام فرمایا کہ حرم مکی میں تو اللہ رب العزت نے قطع اشجار و نباتات سے منع فرمایا مگر آپ کی مدینہ تشریف آوری کہ بعد مدینہ۔ مدینۃ النبیﷺ بن گیا اور آسے حرم مدنی کا درجہ آپﷺ نے عطا فرمایا   اور یہاں کے موحولیات
کے تحفظ کے لئے بھی آپ نے سخت احکامات صادر فرمائے چنانچہ ایک روا یت میں ارشاد ہے
٭ترجمہ: " صالح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو کہ حضرت سعد  رضی اللہ  عنہ کے غلام تھے بتحقیق حضرت  سعد  نے مدینہ کے غلاموں سے کچھ غلام پائے کہ جو مدینہ کے درخت کاٹ رہے تھے۔ پس  حضرت  سعد   نے انکا سامان لے لیا اور غلاموں کو کہا کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ منع فرماتے تھے کہ مدینہ کا درخت کاٹا جائے اور فرمایا جو اس میں سے کچھ کاٹے پس اسکا سامان اس شخص کے لئے ہے جو شخص اسکو پکڑے۔ابوداؤد (رقم الحدیث:2748،مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد 5، ص813، مترجم اردو:حوالہ سابق)
حتی کہ آپ ﷺ نے جنگوں میں بھی بالخصوص اسکا اہتمام فرمایا کہ بلا ضرورت درخت نا کاٹے جائیں چنانچہ روایات میں ہے:" ولا تعقرن شجرة إلا شجرا يمنعکم قتالا " ترجمہ:جنگ میں حائل درختوں کے سوا کسی دوسرے درخت کو نہ کاٹنا۔بيهقی، السنن الکبریٰ، 9 : 90، رقم : ۔17934
"ولا تغرقن نخلا، ولا تحرقنها،،،، ولا شجرة تثمر"۔ ترجمہ:’’کھجور کے باغات کو تباہ و برباد کرنا نہ اُنہیں جلانا،نہکسی پھل دار درخت کو کاٹنا"۔بيهقی، السنن الکبریٰ، 9 : 85، رقم : 17904
(درج بالا دو2 روایات منھاج القرآن کی ویب سائیٹ سے لی گئیں ہیں)
٭حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر روانہ کرتے ہوئے :10دس وصیتیں ارشاد فرمائیں تھی جن میں یہ اہم ہدایات بھی شامل ہیں "، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا،،،،،،،وَلَا تُغْرِقَنَّ نَخْلًا، وَلَا تَحْرِقَنَّهُ۔ترجمہ : پھل دار درخت نا کاٹنا،،،،،،، کوئی کھجور کا درخت نا جلانا اور نا اسے پانی میں ڈبونا"(رقم الحدیث :1361، موطا امام مالکؒ،ج1،ص695، مترجم :مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی کاندھلوی،دارالاشاعت، کراچی)
٭ اس کے برعکس اک زبان دراز چکنی چپڑی باتونی منافق جو زمین میں فساد مچاتا پھرتا تھا پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا  :" وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۗ"(البقرہ۔205) ترجمہ: تباہ کرے کھیتیاں اور  (ہلاک کرے انسانی) جانیں۔
٭ ماحولیات کے تحفظ ، اور اشجار و نباتات کے سائنسی پہلو پر بھی غور کریں تو اک عظیم علم کا انکشاف ہوتا ہے ،  اقتدار حسین فاروقی کی کتاب " نباتات ِ قرآنی"، مولانا شہاب الدین ندوی کی تحقیقی کتاب " قرآن اور علم ِ نباتات" اور معروف علم ِ جدید کے فاضل ہارون یحیی کی کتابیں اس سلسلہ میں عظیم معلومات فراہم کرتی ہیں۔ افسوس مولانا عبدالماجددریابادیؒ کی نظر سے یہ مضمون رہ گیا ورگرنہ ، شخصیاتِ قرآنی، حیواناتِ قرآنی اور جغرافیہ قرآنی کی طرح اک رسالہ نباتات پر بھی رقم فرما جاتے تو احسان ِعظیم ہوتا۔
٭چوتھا باب٭
درختوں  کےجہان میںہمیں تو طوبیٰ لے گیا تھامگر ہم اسکے مدار سے نکل نہیں پائے اب ہمیں اک اور عظیم نسبت کی طرف لئے جا رہا ہے  بس فرق اتنا ہے  وہ  ایک عہد ساز شخصیت ہیں، 17/18 سال سے مولانا حضرت سید ابوالحسن علی ندویؒ کی کتب، پھر مولانا منظور نعمانی  ؒ کی کتب اور تصوف  و حدیث کے باب میں اکابرِ دیوبندؒ کی سند و نسبت اور اب چند سال سے شیخ مفتی محمد سعید خان صاحب کے بیانات میں بار بار اُن کے کمالات اور علوم معرفت  کی تشریحات، سن سن کر دل پر اُس  سحر انگیز شخصیت کا سکہ ایسا بیٹھا کہ نقش کا الحجر ہوگیا، شبلی جیسے نقاد انکے سامنے سرنگوں،اہل عرب ان سے تلمذ پر فاخر، سید سلیمان ندویؒ انکے علوم میں گم، علم الکلام الہیات اور علم سلوک ومعرفت کے ملاپ سے اک نئی طَرح کےعلم   الحقائق کو وجود دینے والے  وہ امام کہ جنکے ہاں حجت برہانی بھی ہے اور دلیل ِ نوُرانی بھی، جو گم گشتہ عقل و برہان کو راہ یاب کرے جو دریائے سلوک میں معرفت کے جزیروں کے متلاشیوں کو پا یاب کرے۔تمسک بالقرآن والسنہ کی تجدیدی مساعی اسی مردِ میدان کی مرہونِ منت ہے، ایسی ہی اک ہستی کا تعلق طوبٰی سے  ہے ۔ احقر اگر کچھ کہے گا تو چھوٹا منہ بڑی بات ہوگی، سو آپ علامہ سید مناظر احسن گیلانی کی سنیئے :"مولانا محمد قاسم نانوتویؒ سے امیر شاہ خاں نے ایک واقعہ نقل کیا ہے، کہ سفر حج میں حضرت کا جہاز یمن کے ساحل کےکسی بندرگاہ پر ٹہر گیا، معلوم ہوا کہ ابھی چند دن رُکا رہے گا،  حضرت نانوتویؒ کو کسی نے خبر دی کہ اس بندرگاہ کے شہر میں کہنہ سال معمر بزرگ محدث رہتے ہیں ان کی ملاقات کو حضرت تشریف لے گئے، مل کر مولانا نانوتویؒ ان کے علم سے بہت متاثر ہوئے اور درخواست کی کہ حدیث کی سَند اجازت ہو، اسپر محدث صاحب نے پوچھا تم کس کے شاگرد ہو؟ انھوں نے اپنے استاد مولانا عبدالغنی مجددیؒ کا نام لیا، محدث صاحب ناواقف تھے، پوچھا عبدالغنی کس کے شاگرد تھے؟ جواب ملا : شاہ اسحاقؒ کے، شاہ اسحاقؒ سے بھی وہ ناواقف تھے، پوچھا وہ کس کے شاگرد تھے؟ کہا شاہ عبدالعزیز صاحب ؒ کے،شاہ عبدالعزیز صاحب ؒ کا نام سن کر محدث صاحب رُکے بولے ان کو میں جانتا ہوں، اور اسکے بعد فرمایا :
(ایک یمنی محدث کی شہادت)
"شاہ ولی اللہ ؒ طوبیٰ کا درخت ہے، جسطرح جہاں جہاں طوبیٰ کی شاخیں ہیں وہاں جنت ہے اور جہاں جہاں اسکی شاخیں نہیں وہاں جنت نہیں ہے۔یونہی جہاں شاہ ولی اللہؒ کا سلسلہ ہے وہاں جنت ہے اور جہاں انکا سلسلہ نہیں ہے وہاں جنت نہیں ہے"۔(تذکرہ شاہ ولی اللہؒ، مولانا سید مناظر احسن گیلانی، ص196،نوید پبلیشرز ، لاہور) یاد آیا کہ یہ قصہ ہمارے پاس" ارواح ثلاثہ،مولانا اشرف علی تھانویؒ، ص203،مکتبئہ رحمانیہ پہ درج ہے"۔
اسی ہستی سے  روحانی ربط ومحبت ، اور تفاسیر کے مطالعے کے شوق نے ہمیں اپنے کتب خانہ کا نام " طوبیٰ " رکھنے پر اُکسایا۔ اسلیئے ہم نے اپنے برقیائی کتب خانے کا نام بھی " طوبیٰ ریسرچ لائبریری" تجویز کیا۔ اگر ہم دوسری بیٹی کے باپ بننے کا شرف حاصل کرتے تو یقیناً  اسکا نام بھی  " طوبیٰ" رکھتے۔  پھر یہ نسبت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی، پھر احقر نے"ارمغان ِ شاہ ولی اللہ " کے نام سے اک صفحہ تشکیل دیا جس میں ابھی تک "(1)۔اربعین ِ ولی اللہی۔ از : امام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ۔براویت امیر المئومنین حضرت علی المرتضٰی ر۔ض۔(2)۔العقیدۃ الحسنۃ۔الامام شاہ ولی اللہ دہلویؒ مترجم : حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتیؒ(3)۔ حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ۔ ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء کا آخری باب، تصنیفِ لطیف: : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ،، مقدمہ تعلیق و تصحیح:ڈاکٹر محمودالحسن عارف: ، اردو ترجمہ : مولانا اشتیاق احمد(4)۔تفسیر آیتِ نور
فارسی تصنیف : حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ ،تحقیق و مقدمہ : حضرت شیخ القرآن صوفی مولانا عبدالحمید سواتیؒ،اردو ترجمہ : مولانا عزیز الرحمن صاحب(5)۔عبقات - اردو
تصنیف : حضرت شاہ اسمٰعیل شہیدؒ،ترجمہ : علامہ سید مناظر احسن گیلانیؒ۔
٭ عبقات کی اپ لوڈنگ اور اسکیننگ سے پہلے احقر کو ڈپریشن کا عارضہ لاحق ہو گیا 6 ماہ سے یہ سلسلہ چل رہا تھا مگر اخیر کے دو ماہ میں تو فترتِ اسکینگ کا دَور رہا، اور بندہ صاحبِ فراش، اُن دنوں میں جو دعائیں یا تمنائیں کی، اُن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اگر دوبارہ صحت مقدر ہوئی تو شاخ ِ طوبیٰ ہند ہی سے ابتداء کروں گا (پھر صحت کیسے ملی کیا کیا گزری  وہ داستان پھر سہی کہ :؎کبھی فرصت سے سُن لینا بڑی ہے داستاں میری)۔یہ وہی شاہ اسمعیل شہید ہیں جن کے بارے میں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ بطور شکرانہ قرآن کی یہ آیت پڑھا کرتے تھے "

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ ﴿۳۹  سورہ ابراہیم"
ترجمہ: اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے اتنی بڑی عمر میں اسماعیل اور اسحاق بخشے، بے شک میرا رب دعاؤں کا سننے والا ہے" بحوالہ: ۔(فوائد ِ جامعہ شرح عجالئہ نافعہ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، مترجم و شارح : مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہ العالی،ص54-55،مکتبہ الکوثر، کراچی) یہ حضرت شاہ اسحاق محدث دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے سب سے چھوٹے بھائی  تھے، وارث ِ مسند اور خلیفہ ہوئے اور شاہ اسمعیل شہیدؒ ، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے بھتیجے تھے ان دونوں کی تربیت میں حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کا خاصا حصہ تھا۔
سو عبقات اُسی مَنت کا اظہار ہے اور حُسن ِ اتفاق یہ کہ سو100 کے عدد کی تکمیل بھی اسی شاخ ِ طوبٰی ہند پر ہوئی یعنی:(6)۔تذکرہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ،مختصر حالات ، ملفوظات، علمی و ادبی تبرکات،از : مولانا نسیم احمد فریدی امروہی۔ مر کز الاسانید اور سراج الہند کے القاب سے آپ کو نوازا گیا۔ یہاں اک بات عرض کرنی ہے کیونکہ ؎
میرؔ جمع ہیں احباب حال دل کہہ لے
پھر التفات دل دوستاں رہے نہ رہے
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کو جو مرکز الاسانید فرمایا گیا تو یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کر نی چاہیئے:حضرت کے نامور تلامذہ اور شاگردوں میں ایک نام " نامو عالم آل ِ رسول بن آل ِ برکات بن حمزۃ بن آل محمد الحسینی البگرامی، المتوفی 1296ھ ہیں۔واضح رہے کہ مولانا آلِ رسول کے واسطے سے (مولانا) احمد رضا خان بریلوی بھی شاہ صاحب کے شاگردوں میں سے ہیں(بحوالہ: ۔(فوائد ِ جامعہ شرح عجالئہ نافعہ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، مترجم و شارح : مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہ العالی،ص42،مکتبہ الکوثر، کراچی)
٭برقیائی طوبیٰ  ریسرچ لائبریری کا مختصر سا پس منظر : انٹرنیٹ کی دنیا میں مشہور ترین (م۔ب) کی ویب سائیٹ کی مقبولیت اور لوگوں کا اسطرف رجوع دیکھتے ہوئے احقر نے ارادہ کیا کہ کتب اسکین کر کے انھیں ہی دی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں لہذا " کتاب الآثار بروایت امام محمد بن حسن شیبانی  ؒ" اس احقر کی ہدیہ کی ہوئی برقیائی کتاب تھی ، پھر " رضا خانی تفسیر و ترجمہ پر اک نظر" بھی پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی گو وہ ہمارے معاونین کے اسمائے گرامی والا اضافی صفحہ غائب کر دیتے تھے۔ پھر اک کتاب بھیجی "نقد ِفراہی"، پہلے تو تین ماہ تک کوئی جواب نہیں آیا پھر استفسار کی جرات کی تو حکم ملا کہ یہ صاحب ِ تصنیف  جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے ہیں انکی کتاب ہم اپ لوڈ نہیں کر تے۔ یہاں سے ان کے اور ہمارے راستے جدا جدا ہوگئے گو ہماری منزل ایک ہی ہے۔ اک شعر یاد آ رہا بس اسے شعر کے زمرے میں رکھئیے گا اصلی لفظی معانی کی بجائے ماؤل با محاورہ اظہار سمجھیئے۔ انور مسعود کہتے ہیں؎
میں اپنے دشمنوں کا کس قدر ممنون ہوں انور
کہ ان کے شر سے کیا کیا خیر کے پہلو نکلتے ہیں
یہاں نہ ہی دشمنی ہے نہ ہی شر بس خیر  ہی خیرکا پہلو ہے کہ حافظ سعد بھائی المعروف محمود غزنوی نے ہمیں بلاگ بنا کر چلانا سکھایا، یوں طوبیٰ ریسرچ لائبریری کے سفر کا آغاز ہوا، ہمارے نہایت  قریبی دوست  خالد تنویرصاحب سے اس پروجیکٹ پر بات کی ، تو اُنھوں نے فی الفور ایک اسکینر ہدیہ کردیا اس سے پہلے کتب ایک دوست طاہر بھائی کے آفس میں اسکین کی جاتی تھی، طاہر بھائی ہماری عمر بھر کی کمائی ہیں ٹاپ ٹین10 میں رہنے والی اکثر کتب انھی کے ہاتھ کی اسکین شدہ ہیں، بندۂ مسکین کو جب کہا جو کہا بس کام پورا کر کے دیا، عجب روح ہے، یقیناً عالم ارواح سے ہی ہماری شناسائی  لگتی ہے۔ کتب کچھ اپنی ہیں ، گھر کے سامنے لیاقت میموریل میونسپل لائبریری ہے، صدر میں کنٹونمنٹ لائبریری، ادارہ غفران کےکتب خانے میں مفتی امجد صاحب  کے ساتھ ہمارا اڈا لگا رہتا ہے، پھر ہماری دوسری منزل الندوہ لائبریری چھتر، مری روڈ اسلام آباد، اور وہاں کے معاون مولانا حبیب اختر کا سایہ شفقت، اسی طوبیٰ لائبریری کی دریافت  بھائی عقیل قریشی کا بڑھتا ہوا کتب خانہ ہمارے ذرائع ہیں۔ ہاں مفتی اقبال صاحب  مکتبہ الخلیل والوں کی وہ ہندوستانی مطبوع کتب جو انکی شفقت و محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس طرح ہمارا کام چل نکلا اور لوگ ہمیں طرم خان سمجھنے لگے حالانکہ احقر کا برقیائی کتب خانہ اہل  حق کی ویب سائٹز اور بلاگ کا اک ضمیمہ اور ادھورا تکملہ ہے۔ کوئی مستقل  نصابی بلاگ نہیں جہاں ہر قسم کی معلومات میسر ہوں۔ بس اگر گلہ ہے تو اک ہی دیگر بلاگ اور ویب والے اپنے ہی ساتھی جب ہماری نشر کردہ کتاب اپنے ہاں پوسٹ کرتے ہیں تو "طوبیٰ ریسرچ لائبریری" کے امتیازی نشانات "book mark کھرچ ڈالتے ہیں جبکہ ہم  نےکئی بار انکی خدمت میں مؤدبانہ عرض کیا ہے ؎
یا رب، زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟
لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرّر نہیں ہُوں میں
طوبیٰ کی اشاعتوں پر ردعمل بھی آئے آپ بیتی ہے سنی سنائی بات نہیں " لاہور کی اک خانقاہ میں ایک مفتی صاحب جن کے نام میں اللہ کی مدد اور اگر ان میں انوار ہیں تو وہ لاہور کے ایک مرحوم بزرگ کی نفاست کے مرہون ِ منت ہیں سے ملاقات ہوئی انکا(ت۔ق) ہم نے بڑے شوق سے اپ لوڈ کیا بڑے شوق سےحضرت کی خدمت میں اپنی کاروائی عرض کی ،تُنک کر بولے: اچھا تو یہ تم نے کیا ہے!لہجہ کی تیزی دیکھ کر میرا بڑا ہلکا سا جی نکلا، ہمت باندھی اور مزید عرض کیا کہ آپ کی تو اور بھی کتابیں اور لوگوں نے پوسٹ  کی ہیں۔ بڑے طنطنہ سے بولے: منع کرو انھیں بھی، عرض  کیا:حضرت اب تو نیٹ کا دور ہے لوگوں تک علم کی رسائی کے لیئے یہ کام بہت اہم  ہے،ارشاد فرمایا: تو کیا پھر ہم بھیک پر گذرا کرتے رہیں گے ؟ موصوف درجنوں کتابوں کے مترجم و مصنف ہیں۔ خیر !  اہل ِخیر ابھی معدوم نہیں ہمارے حضرت حافظ موسیٰ بھٹو نقشبندی صاحب نے اپنی سو 100کے قریب کتب کی اسکیننگ کی اجازت مرحمت فرمائی، لاہور کے مفتی رشید العلوی صاحب نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی تمام کتابوں کی برقیائی اشاعت کی اجازت دے رکھی ہے، علم پروری کی اک مثال ہمارے راولپنڈی کے مفتی ریاض صاحب نے اپنی کتب پیش کی ہیں۔ سب سے بڑھ  کر حال ہی میں شیخ مفتی محمد سعید خان صاحب نے اپنی مقبول و قیمتی کتاب " ریزۂ الماس " کو نشر کرنے کا از خود حکم فرما کر طوبیٰ ریسرچ لائبریری کی عزت افزائی فرمائی ہے۔مفتی امجد حسین صاحب کے والد گرامی مولانا عبدالطیف صاحب   مرحوم فاضل ِ دیوبند، تلمیذ ِ رشید حضرت حسین احمد مدنیؒ، سابق ناظم ِ تعلیمات جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی  ، کی نایاب کتب مفتی صاحب کو ترکہ میں ملی ،واقعی درہم و دینار سے لاکھ کروڑ درجہ افضل خزانہ ہے ، وہ  بھی احقر کی دسترس میں مکمل طور پر مفتی صاحب کی علم دوستی، اصاغر نوازی، اور شفیق و محبانہ روابط کا عکاس ہے۔ ان بے ربط سطور کے سنوارنے میں احقر کو مفتی محمدامجد حسین، مفتی محمدیونس صاحب، مفتی محمد رحمت اللہ صاحب اور مولانا زاہد صدیقی کی بھرپور معاونت و خدمات حاصل  رہیں، مگر احقر کی نا اہلی ہے کہ  یہ پھر بھی بے ربط کی بے ربط ہی رہی۔         بقول: شہزاد احمد ؎
انہیں شکایت بےربطئ سخن تھی مگر
جھجک رہا تھا میں اظہار ِ مدعا کرتے
اگر میں یہاں دو شخصیات کا ذکر نہ کروں تو  یقیناً اس حدیث کی وعید عتاب کا حقدار ہونگا "وعن أبي سعيد مرفوعا:من لم يشكر الناس لم يشكر الله عز وجلرواه أحمد والترمذي وحسنه . " پہلی ہستی میری اہلیہ ہے جس نے اس "اجزائے پریشاں" کو مرتب کرنے کی جانگداز محنت کی ، میں دن کے وقت روزگار کے دلفریب غم میں مشغول رہتا ہوں ، پڑھنے لکھنے کا جو بھی وقت ہے وہ رات کی تاریکی میں ملتا ہے جب اہلخانہ سو چکے ہوتے ہیں مگر اس بار راتوں کو جاگ جاگ کر اہلیہ نے پورے مضمون کی املاء کروائی، میں کتب کے حوالے نشان زد کر لیتا تھا پھر وہ لکھوانا شروع کرتی، بیچاری کئی بار غلط تلفظ پر مجھ جاہل کے عتاب کا شکار بھی ہوئی مگر داد ہے اُسکی ہمت کو کہ ہارنے کا نام نہیں لیا، اس بار شانہ بشانہ ساتھ رہی اخیر تک اک اک لفظ کی پروف ریڈنگ کر کے صبح صادق کے وقت اُٹھتی تھی پھر ، بیٹی کو تیار کر کے اسکول بھیجنا پھر اسے ہوم ورک کروانا ، امور خانہ داری ، پکائی صفائی اور بے شمار جھنجھٹ جو میرے ذمہ تھے اپنے کاندھوں پر لے کر مجھے آزاد کئے رکھا، اور وہی لیٹ نائیٹ املاء، کتب خوانی کا سلسلہ شروع کر دیتی ۔ سچ تو یہ ہے اگر اس بار اہلیہ ساتھ نہ ہوتی تو یہ مضمون کبھی مکمل نہ ہوتا۔ اور دوسری میری بیٹی جو روز رات کو میرے آنے کا انتظار کرتی ہے پھر کچھ کھیل کود ہوتا ہے پھر کہانی سن کر سو جاتی، یہ معصوم بھی تقریباً دو2ماہ سے اپنی تفریحی و علمی سرگرمیوں سے محروم ہے روز پوچھتی ہے کہ بابا آپ کا کام کب ختم ہوگا،؟بے شک اس معصوم نے اپنا حق چھوڑ کر اس مقام تک پہنچنے دیا کہ بندہ مضمون مکمل کر پائے۔
"     رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا "سورة الفرقان، الآية: 74.

٭ ہم اختتام کی جانب گامزن ہیں  کچھ اپنی  مشہورنشر شدہ کتابوں کے تعارف  اور مکمل فہرست کے بعد آپ سے اجازت چاہیں گے۔
٭۔امام ابو حنیفہ ؒ کا تدوینِ قانونِ اسلامی: از ڈاکٹر حمید اللہ صاحب
یہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے امام صاحب کی تدوین فقہ کی کاوشوں پر رقم کی ہے اس اظہار کے ساتھ  کہ راقم کا فقہی رجحان امام شافعی کی طرف ہے مگر امام اعظم  کی عظمت و جلالت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امام صاحب تاریخ ِ فقہ ء اسلامی کی اک جلیل القدر شخصیت ہیں۔ اور علم فقہ کا کوئی طالب علم بھی  امام موصوف کے علمی خزائن سے مستغنی نہیں ہو سکتا۔یہ کتاب اک عرصہ تک ٹاپ 10 میں رہی ہے
٭۔خطباتِ عثمانی علامہ شبیراحمدعثمانی
حضرت کے یہ خطبات اور کچھ مکتوبات علامہ انوار الحسن شیر کوٹی نے جمع کئے ہیں اس میں
قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد شیخ الاسلام پاکستان کی حیثیت سے دیئے گئے خطبات اور اہم شخصیات کو لکھے گئے  مکاتیب ہیں۔ یہ کتاب اب تک ٹاپ 10 میں ہے۔
استناد و ثقاہت نیز موضوع کی نزاکت و اہمیت نام و عنوان سے ہی واضح ہے ڈاکٹر صاحب کا یہ مقالہ فرنچ زبان  میں  تھا پھر اسے انگلش میں ترجمہ کیا گیا اور وہاں سے یہ اردو ترجمہ ہوا ہے، اپنے موضوع پر اک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ یہ کتاب  بھی سال بھر سے زیادہ  ٹاپ 10 میں رہی ہے۔
٭مولانا سید مناظر احسن گیلانی
از: ابو سلمان شاہجہانپوری
یہ مختصر سا رسالہ انتہائی مقبول ہوا اپنے نشر ہونے کے دن سے آج تک ٹاپ10 کی زینت ہے۔
٭تصحیح ُ الخیال: تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل الاعمال
ترجمہ و تلخیص : تحقیق المقال فی تخریج احادیث فضائل الاعمال
مئولف : مولانا لطیف الرحمن قاسمی بہرائچی
مترجمین : مولانا سید احمد ومیض ندوی -  مولانا میر رضوان اللہ قاسمی صاحب
زیر نگرانی : حضرت مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی صاحب
زیر سرپرستی : حضرت مولانا شاہ مفتی نور الرحمن صاحب ، امیر ِ شریعہ بورڈ آف امریکہ شکاگو
علم حدیث پر لکھی گئی یہ کتاب ہمارے بلاگ کی زینت ہے مفتی اقبال  صاحب کا عاریۃ عنایت کرنا بھی اک عظیم تحفہ تھا۔ یہ کتاب بھی ہمیشہ سے ٹاپ ٹین میں سرفہرست رہی ہے۔
٭قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ 1914 تک
تالیف و تحقیق : ڈاکٹر سید حمید شطاری۔
الحمد للہ یہ کتاب آج بھی ٹاپ ٹین میں پہلی دوسری پوزیشن پر رہتی ہے اک  سال سے پہلی پوزیشن پر برقرار ہے۔
٭باقیات ِ فتاویٰ رشیدیہ
( فتاویٰ غیر مطبوعہ1000)
محدث دوراں ، افقہ زماں حضرت مفتی رشید احمد گنگوہی ر۔ح
تلاش و تحقیق ، تدوین و ترتیب ، تحشیہ از : مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی صاحب
توضیح حواشی : مفتی دارالعلوم دیوبند جناب مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب
معاون ِ خصوصی : مفتی اقبال صاحب، یہ بھی انھی کی ہندوستانی مطبوع کتاب ہے جو عاریۃ ملی تھی نہایت اہم کتاب ، تصحیح ُ الخیال کی طرح یہ کتاب بھی برقیائی چوروں نے ہمارے بک مارک مٹا کر اپنے اپنے بلاگ کے ماتھے کا جھومر بنا رکھی ہیں۔ الحمد للہ یہ کتاب بھی آجتک ٹاپ10 کی زینت ہے۔
٭ کشف المحجوب ۔ مترجم
فارسی تصنیف از : حضرت علی بن عثمان غزنوی ہجویری ر۔ح
نسخئہ مستند، منقولہ حضرت خواجہ بہاء الدین زکریا ملتانی ر۔ح
، نظر ِ ثانی : حضرت ڈاکٹر غلام مصطفےٰ صاحب حیدرآباد یونیورسٹی  اردو مترجم : فضل دین گوہر
کشف المحجوب کے مستند نسخے کی دریافت و اشاعت
سماعت کے لیئے  ،لنک کھولیئے،9منٹ،  بزبانی حضرت مفتی محمد سعید خان صاحب مدظلہ العالی
مکمل بیانات کے لیئے ملاحظہ ہو۔www.seerat.net۔ یہ کتاب ہمارے بلاگ میں کوہِ نور کے ہیرے سے بھی قیمتی ہے۔
٭عقیدۃ ُ الطحاوی
للامام حجۃ الاسلام حافظ الحدیث ابی جعفر احمد بن محمد بن سلامہ الطحاوی الحنفی
 اردو ترجمہ : شیخ القرآن و الحدیث حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ر۔ح
پیشکش : طوبیٰ ریسرچ لائبریری
یہ  دونوں رسائل بھی کافی عرصہ تک  ٹاپ ٹین میں رہےہیں۔ عقیدہ طحاویہ  اسلامک یونیوورسٹی  مدینہ منورہ کے نصاب میں بھی داخل ہے، مولانا محمود احمد غنضنفر صاحب سلفی  نے بھی عقیدہ طحاویہ کا ترجمہ کیا ہے تعارف میں لکھتے ہیں " امام صاحب سن ِ بلوغت کو پہنچے تو تحصیل ِ علم کے لئے مصر منتقل ہوگئے ، ابتداء میں اپنے خالو اسمعیٰل بن یحیی المازنیؒ سے علم حاصل کیا، جیسے ہی علم میں وسعت پیدا ہوتی گئی ویسے ہی مسائل فقیہہ میں انہماک بڑھتا گیا، علامہ موصوف نے تین صد300 شیوخ سے کسب ِ فیض اور تربیت حاصل کی، مصر میں آنے والے ہر عالم کی خدمت میں حاصر ہوئے تاکہ ان سے تبادلئہ خیال کریں اس طرح آپ متنوع قسم کے علوم سے مستفیض ہوئے اور علمی میدان میں اپنا لوہا منوایا، بہت بڑے امام ، محدث ،  فقیہ اور محافظ ِ دین کہلائے۔
علامہ ابن ِ یونسؒ آپ کے متعلق لکھتے ہیں : " امام طحاویؒ ثقہ، جید عالم ، ،  فقیہ اور ایسے دانش مند انسان تھے کہ انکی مثل نہیں ملتی۔"
علامہ ذہبیؒ تاریخ ِ کبیر میں لکھتے ہیں : " امام طحاویؒ بہت بڑے ،  فقیہ، محدث ، حافظ، معروف شخصیت، ثقہ راوی، جید عالم اور زیرک انسان تھے۔"
علامہ حافظ ابن ِ کثیرؒ البدایہ والنہایہ میں رقطراز ہیں:" علامہ طحاوی جید عالم، اور بلند پایہ محدث تھے۔"
امام ابو حنیفہ سے تعلقِ خاطر: علامہ طحاویؒ امام ابوحنیفہ کے طرزِ استدلال سے بہت زیادہ متاثر تھے اس لیئے عمر بھر حنفی مسلک کی نشر و اشاعت کرتے رہے، اسی بناء پر آپ کو حنفی مسلک کا بہت بڑا وکیل سمجھا جاتا تھا۔
عقیدہ طحاویہ  : بظاہر یہ چھوٹی سی کتاب ہے لیکن فائدہ کے اعتبار سے عظیم تر کتاب متصور ہوتی ہے ، اس چھوٹی سی کتاب کے بارے میں علماء کا تبصرہ یہ ہے کہ:" علامہ طحاویؒ نے عقیدہ طحاویہ  میں ہر وہ چیز جمع کر دی ہے جسکی ہر مسلمان کو ضرورت ہے۔"ص 104-105مجموعہ عربی 8رسائل: الجامع الفرید، طبع بامر خادم الحرمین الشریفین : حضرۃ صاحب الجلالۃ الملک المعظم فہد بن عبدالعزیز آلِ سعود، اردو مترجم:انصار السنہ المحمدیہ، لاہور)
                                                                                                                                      ٭ العقیدۃ الحسنۃ
از : امام حضرت شاہ ولی اللہ احمد بن عبدالرحیم محدث دہلوی ر۔ح
مترجم : شیخ الحدیث مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ر۔ح
یہ رسالہ بھی ٹاپ ٹین میں کئی عرصہ تک رہا ہے۔
٭ سراجاً منیراً
مع 
ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم
علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی۔ اہلحدیث
علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی صاحب اہل حدیث مکتبہ فکر کی ممتاز فاضل شخصیت تھے ،اہل حدیث عالم اور فاضل شخصیت کا نام آتے ہی یہ جو ذہن میں خشک مزاج اور روحانیت سے دور شخصیت کا تصور آتا ہے ، میر صاحب اور ان جیسی متعدد شخصیات(نواب صدیق حسن ، وحید الزماں ) اس تصور کو رد کرنے کا ثبوت ہیں جو بالعموم اس طبقے میں پایا جاتا ہے کہ "احسان و سلوک و تزکیہ " کے لیئے کسی شیخ و مرشد سے استفادہ شرک و بدعت ہے ۔ چنانچہ اس کتاب میں میر صاحب نے احسان و سلوک کی اصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت کی ہے ، مزید تحقیق و تفشیش کے لئے ہمارے مکرم دوست عقیل قریشی مدیر کنوز ِ دل بلاگ http://knooz-e-dil.blogspot.com
سے رابطہ فرمائیں۔ یہ کتاب بہت مرتبہ ٹاپ 10 میں آئی ہے۔
٭کتابُ الخراج
 "اسلام کا نظام ِ محاصل"
تالیف : قاضی القضاۃ امام ابو یوسف ؒ ، اردو ترجمہ : محمد نجات اللہ صدیقی
اس کتاب کی تلاش میں احقر نے 15 برس دشتِ نوردی کی ہے تب جا کر یہ گوہر نایاب ہاتھ آیا ہے۔ اپنی اشاعت کے دن سے ہی یہ ٹاپ 10 میں درجہ بدرجہ بڑھتی رہی آج بھی چوتھے نمبر پر برجمان ہے۔
٭ قرآن آپ سے کیا کہتا ہے ؟
تالیف : مولانا منظور  نعمانی
احقر کا اصل موضوع ہی قرآنیات ہے الحمد للہ قرآنیات کے صفحہ پر بہت سی اہم کتب مہیا کی گئی ہیں۔ یہ کتاب بھی ٹاپ ٹین کا حصہ رہی ہے۔
٭الفقہ الاکبر
تالیف : امام ِ اعظم امام ابو حنیفہ
مع اردو ترجمہ : البیان الازھر
مقدمہ : امام اہلسنت حضرت شیخ الحدیث مولانا سرفراز خان صفدر صاحبؒ ، مترجم : شیخ القرآن علامہ صوفی عبدالحمید سواتیؒ۔
طوبی ریسرچ بلاگ کے چند مقاصد میں سے ایک آئمہ احناف کی کتب کے اردو تراجم پیش کرا ہے ۔ اللہ کا کرم ہے احقر اس مقصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔ اگر آپ بلاگ پے صرف "اردو ترجمہ" کی فہرست ملاحظہ کریں تو آئمہ کی کئی اک کتب کے تراجم اور فقہاء احناف کے مستند تذکرے آپ کو ملیں گے۔ درج بالا کتاب ٹاپ ٹین بکس کا مستقل حصہ ہے۔
٭مراقبہ
مادیت سے بیزار جدید انسان کو دعوت فکر " مراقبہ " اور زندگی کو بدلنے میں اس کا کردار
مصنف : حافظ موسیٰ بھٹو صاحب ، شیخ مجاز سلسلہ نقشبندیہ ، مدیر : ماہنامہ بیداری اردو ، سندھی۔
شیخ جدید علوم و نفسیات سے بھی بخوبی واقف ہیں لہذا  انکا جدید نسل کے تسلی بخش مربی ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ اپنی مؤثر تحریر کی بدولت یہ کتاب بھی ایک وقت میں ٹاپ ٹین کی رونق تھی۔

٭حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ
ازلۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء کا آخری باب     
تصنیفِ لطیف : حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ،مقدمہ تعلیق و تصحیح : ڈاکٹر محمودالحسن عارف ،اردو ترجمہ : مولانا اشتیاق احمد۔ الحمد للہ یہ کتاب بھی ہمارے بلاگ کی مقبول عام کتاب ہے اس وقت بھی ٹاپ 10 میں ہے۔
٭شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی قرآنی فکر کا مطالعہ۔پی ایچ ڈی مقالہ : مولانا محمد سعود عالم قاسمی۔ 
قرآنیات ہمارا خاص موضوع ہے اور وللہی افکار میں تو یہ نشہ دو آتشہ ہوجاتا ہے۔ یہ کتاب
بھی ہماری ٹاپ 10 کتابوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔
٭ فہم ِ میراث کی آسان راہیں۔مئولف : مفتی امتیاز خان جدون ۔بشکریہ : عبدالحق موسٰی صاحب۔
عبدالحق موسٰی صاحب، ہمارے سورت گجرات انڈیا کے دوست  بلک علم دوست جامعہ ڈابھیل کے طالب علم ہیں ، مفتی صاحب  فیس بک پر بہت بڑی fan fowolling , ہے لہذا انکی کتاب بھی ٹاپ ٹین میں شامل ہے۔
٭٭٭ ہمارے بلاگ کی تین خصوصیات ہیں(1) دوسری زبانوں سے اردو تراجم کا مجموعہ،
(2) قرآنیات پر خصوصی ذخیرہ، (3) اکابرِ ثلاثہ احنافؒ امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام ابویوسفؒ، امام محمدؒ صاحبان کی کتب کے اردو تراجم اور ان کے مستند تذکرے۔
یہاں اپنے بلاگ کی 100 پوسٹ کی فہرست پیش کرتے ہیں۔
ریزۂ الماس افادات ِ علمیہ ۔ مفتی محمد سعید خان صاحب
ابواب جامع الصغیر- امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ
خطبات ِ عثمانی (شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی)

تحفۃ الاسلام - تفسیر سورہ فاتحہ

کتابیات
القرآن الکریم
۱۔المعجم المفہرس،فواد باقی،دارالاشاعت
۲۔المعجم الاعظم، محمد حسین الاعظمی ، ص 757
۳۔المنجد جامعین و محقیقین علمائے دیوبند: دارالاشاعت کراچی
۴۔قاموس الفاظ القرآن الکریم  ڈاکٹر عبداللہ عباس ندوی عربی، اردو مترجم : پروفیسر عبدالرزاق، دارالاشاعت کراچی)
۵۔فرہنگ ِ آصفیہ۔(ص260،جلد2،مشتاق بک کارنر)
۶۔قاموس مترادفات۔(وارث سرہندی،ص793،اردو سائنس بورڈ لاہور)
۷۔فرہنگ ِ تلفظ ،(شان الحق حقی، 692/693،مقتدرہ قومی زبان، پاکستان)
۸۔فیروز اللغات
۹۔مقتدرہ قومی زبان کی "درسی  لغات
۱۰۔مفتی محمد رضوان (نومولودکےاحکاماوراسلامینام،ص474،ادارہ غفران،راولپنڈی)
۱۱.OXFORD URDU TO ENGLISH
DICTIONARY(abduraof pareekh,OXFORD,PAGE 775 , PAKISTAN)
12.ARABIC ENGLISH QURAN DICTIONARY
( moulana abdullah abbas nadvi, p:376,IQRA International Educational Foundation)
تراجم  و تفاسیرقرآن
۱۳۔ تفسیر ابن عباس ، صحیفۃ علی بن ابی طلحۃ عن ابن عباس، مترجم: مولانا امداد اللہ انور، ص243، دارالمعارف ملتان)
۱۴۔تفسیر ابن عباس، مولف: ابو طاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی صاحب القاموس817ھ، مترجم اردو مولانا پروفیسر محمد سعید احمد عاکف، جلد2 ، ص113،مکی دارالکتب، لاہور )
۱۵۔تفسیر ابن کثیر اردو مترجم ، جلد 3، ص44/45۔ 46،مکتبہ فیض القرآن دیوبند یوپی،انڈیا
۱۶۔ احکام القرآن ، امام قرطبی "(ترجمہ پیر کرم الہی شا صاحب ،جلد 6، ص331، ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
۱۷۔تفسیر مظہری، مترجم  مولانا سید عبدالدائم الجلالی، جلدششم، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی
۱۸۔حضرت مولانا فخرالدین قادریؒ ،تفسیر قادری،ص327،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی
۱۹۔علامہ شبیر احمد عثمانی ۔(تفسیر عثمانی ، ص327،عالمین پبلیکیشنز پریس، لاہور)
۲۰۔ علامہ محمد ادریس کاندھلوی ۔(تفسیر معارف القرآن ،ص217،جلد4،فرید بکڈپو،نئی دہلی انڈیا)
۲۱۔ سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ ،۔(کشف الرحمٰن مع تیسیرالقرآن و تسھیل القرآن ،ص1449،جلد2،مکتبہ رشیدیہ کراچی)
۲۲۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ(ص305تاج کمپنی)
۲۳۔حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ(عظیم الشان قرآن دو تراجم والا ادارہ علوم شرعیہ رحیم منزل جناح چوک کراچی ، مرتبہ : مولانا قاضی عبدالرحمٰن)
۲۴۔حضرت  شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ(تاج کمپنی)
۲۵۔ علامہ سید امیر علی ،(تفسیر مواہب الرحمٰن،لاہور جلد 4 قرآن کمپنی)
۲۶۔ مولانا عبدالحق حقانی(تفسیر حقانی جلد3،میر محمد کتب خانہ،کراچی)
۲۷۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ(بیان القرآن،ایچ ایم سعید کمپنی ، کراچی)
۲۸۔شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒدیوبند،مجمع الملک فہد المصحف الشریف بالمدینۃ المنورہ ،1409ھ)
۲۹۔مفتی عزیز الرحمٰن عثمانی(تفسیرروح القرآن ترجمہ جلالین، جلد3،فیصل پیبلیکیشنز دیوبند،انڈیا
۳۰۔ ترجمہ مولانا احمد علی لاہوریؒ ،اعتقاد  پبلیشنگ دہلی انڈیا
 ۳۱۔مولانا عبدالماجد دریابادی،تفسیر ماجدی ،مجلس نشریات قرآن،جلد 2،کراچی
 ۳۲۔مولانا احمد سعید دہلوی(کشف الرحمان، جلد2،مکتبہ رشیدیہ،کراچی)
۳۳۔مولانا فتح محمد جالندھریؒ ،تاج کمپنی
۳۴۔مفتی محمد تقی عثمانی صاحب(آسان ترجمہ قرآن،جلد2، مکتبہ معارف القرآن،کراچی)
۳۵۔ مولانا سرفراز خان صفدرؒ (فوائد ِ صفدریہ ،بنوں)
۳۶۔ تشریح القرآن ، مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب ؒ، ص354، فرید بک ڈپو دہلی ، انڈیا
 ۳۷۔آسان ترجمہ قرآن،مولانا عبدالحئی بلال حسنی ندوی، ص254، سید احمد شہید اکیڈمی،  دار عرفات تکیہ کلاں رائے بریلی
۳۸۔ ڈاکٹر عبدالرؤف(آسان ترجمہ ،فیروز سنز پاکستان)
۳۹۔ مولانا یوسف متالا(لفظی ترجمہ ،اضواء البیان فی ترجمۃالقرآن، Azhar Publication London
۴۰۔ سید سلمان ندوی (بامحاورہ ترجمانی،آخری وحی، انڈیا)
۴۱۔سرسید احمد خان: (دوست ایسوسی ایٹ، ص1034،لاہور)
۴۲۔ڈپٹی نذیر احمد(ترجمہ قرآن ،ص305،تاج کمپنی)
۴۳۔ مولانا ابوالکلام آزاد(ترجمان القرآن تلخیص،ص330،کتاب سرائے لاہور)
۴۴۔مولانا سید ابوعلیٰ مودودی(تفہیم القرآن مختصر،ادارہ ترجمان القرآن)
۴۵۔مولانا امین احسن اصلاحی(تدبر القرآن، جلد4،ص288،فاران فاؤنڈیشن
۴۶۔ سید شبیر احمد(قرآن آسان تحریک،ص448 لاہور
۴۷۔ مولانافاروق خان صاحب(ترجمہء قرآن،ص479،ناشر وحید حفیظ انڈسٹیز پرائیویٹ لمیٹڈ)
۴۸۔ علامہ وحید الزمان(ص304، ابوالکلام آزاد اسلامک اویکنگ سینٹر نئی دہلی)
۴۹۔مولانا محمد جونا گڑھی(ص687 سعودی ایڈیشن)
۵۰۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری(ترجمہ ثنائی،ص302،فاروقی کتب خانہ ملتان)
۵۱۔ مولانا حنیف ندوی(سراج البیان،ص603،ملک سراج دین اینڈ سنز لاہور)
۵۲۔ حافظ یوسف صلاح الدین/مولانا عبدالجبار (معانی القرآن الکریم، ، دارالسلام ،لاہور)
۵۳۔ مولانا احمد رضا خان صاحب (کنزالایمان،ص455،پاک کمپنی لاہور)
۵۴۔تفسیر در منثور مترجم اردو، پیر کرم الہی شاہ صاحب ، جلد4،ص161 ضیاء القرآن پبلیکیشنز)
55. DR. MUHAMMAD DEEN/SHAHEEN, P402, TAJ COMPANY)
56. THE NOBLE QURAN, P254, T.B IRVING,SUHAIL ACADEEMY
۵۷۔ سید مقبول احمد دہلوی(افتخار بک ڈپو،لاہور)
۵۸۔ سید ذیشان حیدر جواد(مصباح القرآن ٹرسٹ)
۵۹۔علامہ غلام رسول سعیدی(تبیان القرآن،جلد6، فرید بک اسٹال )
۶۰۔ مولانا ہدایت  اللہ صاحب (پنجابی ترجمہ قرآن ، ناشران: خاندان  چوہان راجپوت دہلی،ماہ رجب 1389ھ) 
۶۱۔ مترجمین :مولانا عبدالحئی فاروقی، حافظ مرغوب احمد، مولانا عبدالواحد (درس ِ قرآن بورڈ ادارہ اصلاح و تبلیغ آسڑیلین بلڈنگ لاہور)
۶۲۔ ڈاکٹر سید حامد حسن بلگرامی(فیوض القرآن،جلد اول، فیروز سنز پاکستان)
۶۳۔ مجلس فکرونظرمطبوعہ پیکو لیمٹڈ لاہور(جامعین : 1۔مولانا محمد حنیف جامع مبارک لاہور،2۔مولانا شہاب الدین فاضل دیوبند،3۔ابوالعرفان مولانا حکیم عبدالرشید نقشبندی مجددی،4۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی بریلوی)
ENGLISH TRANSLATIONS
64 .( PICKTHAL, TAJ COMPANY )
65 .(MUHAMMAD ASAD,P:460)
66 .( MOULANA ABDUL MAJID DARAYBADI،QUDRATULLAH COMPANY ,LHR)
67 .(DR. MOHSIN KHAN/TAQI U DIN HILALI, P326)
68 .( MUFTI TAQI USMANI ,P396)
69.(M. HAMEED ALLANI, P505)
۷۰۔تلخیص بیان القرآن، مفتی محمد ظفراحمد عثمانی، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ ،کراچی
۷۱۔ معارف القرآن میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ ، ،جلد5۔کراچی
 ۷۲۔ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب تفسیر فہم القرآن تسہیل بیان القرآن، جلد3
۷۳۔ مولانا قاری اخلاق حسین صاحب ِمستند موضح قرآن: ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی
۷۴۔ سید قطب: فی ظلال القرآن ، مترجم معروف شاہ شیرازی،جلد4، ادارہ منشورات اسلامی
۷۵۔ مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ، معالم القرآن،جلد3، ادارہ تعلیمات قرآن، سیالکوٹ
۷۷۔ الطاف حسین حالی، مقدمہ تفسیر سرسید،خدا بخش اورنٹیل پبلک لائبریری پٹنہ ، انڈیا
۷۸۔ جلالین مترجم اردو،جلد اول، تاج کمپنی پاکستان
۷۹۔ المتوکلی از امام جلال الدین سیوطی مترجم : قرآن کریم میں معرب الفاظ از سید علیم اشرف جائسی، ناشر مکتبہ برکات المدینہ کراچی
 ۸۰۔مولانا عبدالرشید نعمانی صاحب، لغات القرآن، ، جلد چہارم، دارالاشاعت کراچی
۸۱۔ قاضی زین العابدین سجاد میرٹھی، قاموس القرآن،دارالاشاعت،کراچی
۸۲۔ مفردات القرآن، اردو مترجم ، ناشر : شیخ الشمس ، کشمیر بلاک، اقبال ٹاؤن لاہور
۸۳۔ علامہ طاہر القادری(عرفان القرآن، ص383)
٭ حواشی قرآن : ڈاکٹر جمیل الرحمن عبدالسلام، مطبع محکمہ اوقاف کویت

84.URDU TO ENGLISH
،DICTIONARY، ABDUROUF pareekh ,OXFORD , PAKISTAN
85.QURANICDICTIONARY, moulana abdullah abbas nadvi,IQRA International Educational Foundation.
کتب ِ احادیث و شروحات
۸۶۔موطااماممالکؒ،ج1،مترجم :مولاناڈاکٹرساجدالرحمنصدیقیکاندھلوی،دارالاشاعت،کراچی
۸۷۔ موطا امام محمد، مترجم: حافظ نذر احمد،اسلامی اکادمی،لاہور
۸۸۔امام بخاری کتاب الجھاد: صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 2 ، مکتبہ العربیہ لاہور
صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 3 ،مکتبہ العربیہ لاہور
صحیح بخاری، تحقیق  و تصحیح الدکتور مصطفےٰ دیب البُغا۔مترجم : علامہ مولانا سید عبدالدائم الجلالی البخاری، جلد 4 ، مکتبہ العربیہ لاہور
۸۹۔صحیح مسلم: كتاب الزكاة باب الخوارج شر الخلق والخليقة
۹۰۔جامع ترمذی،مترجم : مولانا فضل احمد صاحب، جلد2، دارالاشاعت، کراچی
۹۱۔سنن ابوداؤد(انٹر نیٹ سے لی گئی ہے)
۹۲۔سنن ابن ماجہ ، جلد1، مترجم: مولانا قاسم امین، مکتبہ العلم، لاہور
۹۳۔سنن دارمی ،مترجم اردو، ناشر :محمد سعید اینڈ سنز تاجران کتب قرآن محل،کراچی
۹۴۔مسند احمد رقم الحدیث 5562(انٹر نیٹ سے لی گئی ہے)
۹۵۔بيهقی، السنن الکبریٰ، 9 : (انٹر نیٹ سے لی گئی ہے)
۹۶۔السيوطي ، الجامع الصغير
۹۷۔الترغيب والترهيب(انٹر نیٹ سے لی گئی ہے)
۹۸۔فضائل الشام ودمشق(انٹر نیٹ سے لی گئی ہے)
۹۹۔رفع الملام عن الائمۃ الاسلام : شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ۔اردو مترجم:ائمہ سلف اور اتباع سنت:غلام احمد حریری،فردوس پبلیکیشنز دھلی
۱۰۰۔الدیلمی بحوالہ:کنوز الحقائق من حدیث خیر الخلائق ،حافظ عبدالرؤف بن علی بن زینالعابدین المناوی الشافعی،مترجم: مولانا امداداللہ انور، جواہر الاحادیث ، دارالمعارف،ملتان
۱۰۱۔مرقاۃ المفاتیح اردو شرح مشکوۃ المصابیح،جلد1، مترجم اردو:مولانا راؤ محمد ندیم، مکتبۃ رحمانیہ،لاہور
مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد4، مترجم اردو:مولانا راؤ محمد ندیم، مکتبۃ رحمانیہ، لاہور
مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد 5، مترجم اردو:مولانا راؤ محمد ندیم، مکتبۃ رحمانیہ، لاہور
مرقاۃ امفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح از ملا علی قاری ؒ، جلد9، مترجم اردو:مولانا راؤ محمد ندیم، مکتبۃ رحمانیہ، لاہور
۱۰۲۔حادی الارواح الیٰ بلاد الافراح،علامہ ابن القیم الجوزیہ،مترجم : مولانا محمد فاروق حسن زئی صاحب ، محافل جنت، ص113، الکشاف پبلیکیشنز،کراچی
۱۰۳۔ریاض الصالحین  امام محی الدین ابو زکریا یحیی ٰ بن شرف النووویؒ، جلد اول ، 32۔33، مترجم  محمد صادق خلیل ،نعمانی کتب خانہ،لاہور
۱۰۴۔عدۃ الحصن الحصین : علامہ  ابن جزریؒ شافعی، مترجم و شارح : مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب،ص171،مکتبۃ الکوثر،کراچی
۱۰۵۔دُرَرِفرائد:محمد بن سیلمان الرودانی المغربی۔ترجمہ و شرح بنام : جمع الفوائد،از : مولانا عاشق الہی میرٹھیؒ، ترتیب جدید :مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی صاحب، الرحیم اکیڈمی، کراچی
۱۰۶۔مشارق الانوار، مؤلف: امام رضی الدین حسن صغانیؒ،۔ترجمہ و فوائد: مولانا خرم علی بلہوریؒ حنفی خلیفہ حضرت سید احمد شہیدؒ۔ مرتب: مولانا ڈاکٹر عبدالحلیم چشتی  صاحب، نور محمد کارخانہء تجارت کتب، کراچی
۱۰۷۔ فوائد ِ جامعہ شرح عجالئہ نافعہ: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ، مترجم و شارح : مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہ العالی،مکتبہ الکوثر، کراچی
۱۰۸۔مسند اامام اعظم امام ابوحنیفہؒ، مرتبہ: شیخ علامہ محمد عابد سندھی،مترجم: مولانا احسن نانوتوی،ادارہء نشریات ِ اسلام، لاہور
۱۰۹۔علامہ وحیدالزمان،لغات الحدیث، جلد3، نعمانی کتب خانہ ، لاہور
۱۱۰۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، شوقِ وطن، ادارہ اسلامیات،لاہور
۱۱۱۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل ِ قرآن، حصہ فضائل ِ اعمال، ادارہ اسلامیات
۱۱۲۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائلِ درود ،کتب خانہ فیضی، لاہور
۱۱۳۔شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ،فضائل ِ حج، ص175،176،مکتبہ رشدیہ، کراچی)
۱۱۴۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائلِ صدقات،ص76،حصہ اول،کتب خانہ فیضی، لاہور
۱۱۵۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل ِ ذکر، حصہ فضائل ِ اعمال،، ادارہ اسلامیات
۱۱۶۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ،فضائل تجارت، ص88، مکتبہء خلیل، لاہور
۱۱۷۔ حجۃ الوداع و عمرات النبی(عربی)مترجم: مولانا یوسف لدھیانوی،ص231تا234،مکتبہ لدھیانوی،کراچی
۱۱۸۔ منتخب احادیث،حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ،مترجم: مولانا محمد سعد صاحب، ص 407 ،408، کتب خانہ فیضی، لاہور
۱۱۹۔ حیاۃ الصحابہ،تالیف مولانا محمد یوسف کاندھلوی، مترجم : مولانا احسان الحق صاحب،جلد3،ص340،کتب خانہ فیضی، لاہور
۱۲۰۔ الابواب المنتخبۃ، مشکوۃ،تالیف:حضرت جی ثالث مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی،مترجم: منتخب ابواب،حضرت مولانا محمد یونس صاحب مظاہری،جلد1، دارالھدٰی،کراچی
الابواب المنتخبۃ، مشکوۃ،تالیف:حضرت جی ثالث مولانا محمد انعام الحسن کاندھلوی،مترجم: منتخب ابواب،حضرت مولانا محمد یونس صاحب مظاہری،جلد2، دارالھدٰی،کراچی
۱۲۱۔ مولانا منظور نعمانی، معارف الحدیث ،ص343،جلد5، عمر فاروق اکیڈمی ،لاہور
 ۱۲۲۔ شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان: جلد 1،کشف الباری عما فی صحیح البخاری، مکتبہ فاروقیہ، کراچی
 ۱۲۳۔ مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب: درس مسلم،جلد1، ادارۃ المعارف ، کراچی
مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب: ،درس مسلم، جلد2، ادارۃ المعارف، کراچی
۱۲۴۔ متن اربعین ِ  امام حسین رضی اللہ عنہ،  تالیف: الشیخ عبداللہ دانش، مرکز الحرمین الاسلامی، فیصل آباد
۱۲۵۔امام اہلسنت  مولانا عبدالشکور لکھنوی، سیرۃ الحبیب الشفیع من الکتاب العزیز الرفیع،المکتبۃ العربیہ،لاہور
۱۲۶۔مفتی محمد عاشق الہی بلند شہری المدنی،فضائل توبہ و استغفار، ادارہ اسلامیات ، لاہور
۱۲۷۔ معراج کی باتیں، مفتی عاشق الہی بلند شہری المدنی،ص،51،ادارۃ المعارف
۱۲۸۔ مولانا عبدالکریم پاریکھؒ، تعلیم الحدیث، المیزان ، لاہور
 ۱۲۹۔مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی ، ترجمان الحدیث(زم زم  پبلیشر ، کراچی)
۱۳۰۔ مولانا جعفر شاہ پھلواری: " مجمع البحرین(ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور)
۱۳۱۔مفتی محمد رضوان صاحب، ماہنامہ التبلیغ،اپریل 2016، راولپنڈی
۱۳۲۔ مکاتیب ِ حضرت مولانا شاہ محمدالیاسؒ،مرتبہ : مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ،مجلس نشریات اسلام ، کراچی
۱۳۳۔ اردو میں قرآن حدیث کے محاورات ، ڈاکٹر غلام مصطفٰی خان،الھجرہ ،پبلیشر، اسلام آباد
۱۳۴۔ الامام محمد بن الحسن الشیبانی و اثرہ فی الفقۃ الاسلامی،الدکتور محمد الدسوقی،جامع قطر، مترجمین و حاشیہ نگار :حافظ شبیر احمد جامعی، ڈاکٹر محمد یوسف، ادارہ تحقیقات اسلامی، بین الاقومی اسلامی یونیورسٹی ۔اسلام آباد
۱۳۵۔سر سید احمد خان ،آثار الصنادید،  اردو اکادمی دہلی
۱۳۶۔ ارواح ثلاثہ،مولانا اشرف علی تھانویؒ، مکتبئہ رحمانیہ،لاہور
۱۳۷۔ تذکرہ شاہ ولی اللہؒ، مولانا سید مناظر احسن گیلانی، نوید پبلیشرز ، لاہور
 ۱۳۸۔اسلامی قلمرو میں اقراء اور علم بالقلم کے ثقافتی جلوے"عہد ِ عباسی ، جلد اول، مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی مدظلہ،مکتبہ الکوثر ، کراچی
۱۳۹۔ مفتی  محمد نعیم صاحب،فضائل ِ ایمان، النبراس، کراچی
٭  نفس اور مادیت کے خلاف معرکہ آرائی میں ذکر کا کردار، حافظ موسیٰ بھٹو صاحب
۱۴۰۔علم حدیث اور اہل بدعت"(مختصر) ماہنامہ الحامد فروری2011ء، لاہور
۱۴۱۔ماہنامہ الندوہ ،دسمبر2011ء ،الندوہ لائبریری، چھتر ، اسلام آباد
۱۴۲۔ماہنامہ الندوہ  ،جنوری2012ء، الندوہ لائبریری، چھتر ، اسلام آباد
۱۴۳۔ فکرونظر جولائی 2007ء،اسلام آباد، ۱۴۴۔فکرونظر اپریل 2008ء،اسلام آباد،۱۴۵۔فکرونظر جولائی 2009ء،اسلام آباد
۱۴۶۔افضل توصیف صاحبہ: گزرے تھے ہم جہاں سے"مشرقی پنجاب، انڈیا" کا سفرنامہ، میاں گوہر علی ٹرسٹ، لاہور
۱۴۸۔دیوان ِ غالب،سیدنفیس رقم، الفیصل ، لاہور
۱۴۹۔دیگر اشعار: بشکریہ:https://rekhta.org/
http://toobaa-elibrary.blogspot.com /

2 comments:

Abul Bashar نے لکھا ہے کہ

وہ کیا خوب تعار ف ہے

Toobaa.Library نے لکھا ہے کہ

@ Abdul Bashar
مقالہ سراہنے کا بہت بہت شکریہ

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔